مرکز الذکر، دارالعرفان، منارہ

حضرت جؒی نے سلسلۂ عالیہ کے مرکز دارالعرفان کی بنیاد رکھتے ہوئے نے فرمایا تھا کہ "اس مرکز نے قیامت تک قائم رہنا ہے”۔

حضرت مولانا اللہ یار خاں رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا تھا کہ "اس جماعت نے حضرت امام مہدیؒ کی نصرت کرنی ہے اور اس وقت تک یہ جماعت ان شاء اللہ موجود رہے گی”۔

شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ، حضرت مولانا اللہ یار خاؒں نے اپنے خواب کا تذکرہ فرمایا۔

"ایک خواب اب میرا بھی سنیں۔ میں نے دیکھا کہ ایک بہت بڑا حوض ہے جس کے گرد ایک جنگلہ ہے اور اسے تالہ لگا ہوا ہے۔ وہاں ایک شخص ملتا ہے جو مجھے اس تالے کی چابی دیتا ہے۔ میں پوچھتا ہوں کہ آپ کون ہیں؟۔۔۔ تو وہ جواب دیتے ہیں، میں عبدالقادر جیلانیؒ ہوں۔ میں پوچھتا ہوں، میں یہ چابی کس کو دوں گا، تو وہ کہتے ہیں، آپ اسے امام مہدیؒ کو دیں گے۔اس کے بعد میں وہاں بیٹھ جاتا ہوں اور لوگ آنا شروع ہو جاتے ہیں۔ ہر ایک نے مختلف برتن اٹھایا ہوا ہے، کسی کے پاس پیالہ ہے تو کسی کے پاس مٹکا۔ میں حوض میں سے ان کے برتن بھرتا جاتا ہوں۔ میں یہ دیکھتا ہوں کہ برتن بھرتے ہوئے کبھی کبھی تھوڑا سا گر بھی جاتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ میرے خلافِ سنت اعمال کی وجہ سے ہے جو کبھی کبھی سرزد ہو جاتے ہیں”۔

حضرت جؒی کے مندرجہ بالا خواب کی تعبیر اس وقت دنیا کے سامنے ہے۔ سلسلۂ نقشبندیہ اویسیہ جو چار سو سال سے مستور تھا، اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ کرۂ ارض پر پھیل چکا ہے۔ اس کی بازگشت چاردانگ عالم میں سنائی دے رہی ہے۔ حضرت مولانا امیر محمد اکرم اعوان رحمۃ اللہ علیہ اور اب حضرت امیر عبدالقدیر اعوان مد ظلہ العالی، پوری دنیا میں سالکین کو طلب الہی کی رہ پہ گامزن کر رہے ہیں۔

آج دنیا ایک گلوبل ویلج بن چکی ہے اور سابقہ روحانی ادوار کے برعکس جن میں کسی شیخ کا فیض زیادہ سے زیادہ چند مخصوص علاقوں تک محدود ہوا کرتا تھا۔ نسبت اویسیہ کے ساتھ حضرت جؒی نے چکڑالہ کی دورافتادہ بستی میں اللہ کے نام کی جو صدا بلند کی تھی، اس سلسلۂ عالیہ کا فیض دنیا بھر کے ممالک میں پھیل چکا ہے۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!