مجلس شوری کی ذمہ داریاں

امور ریاست سنبھالنا یا سرانجام دینا، مجلس شوری کا کام نہیں بلکہ یہ سربراہ مملکت کی ذمہ داری ہے۔ امور ریاست کی سرانجام دہی کیلئے اپنے ممدومعاون وزراء کا انتخاب سربراہ مملکت کا اختیار ہے۔مجلس شوری کی چار ذمہ داریاں ہیں۔

۱۔        قرآن و سنت کے مطابق دستور سازی کرنا اور سربراہ مملکت کو دستور سازی کے ذریعے مدد فراہم کرنا۔

۲۔       سربراہ مملکت کی جانب سے پیش کردہ مسودہ پہ غور و فکر کرنا اور اظہار رائے کرنا اور اپنے صوابدید کے مطابق اسے دستور یا قانون کی شکل دینے یا نہ دینے کے متعلق اپنا موقف دینا۔

۳۔       سربراہ مملکت کے افعال و حرکات اور احکامات کی نگرانی کرنا اور رائے دینا۔

۴۔       سربراہ مملکت کا انتخاب کرنا اور ریاست کی ذمہ داری تفویض کرنا۔

پہلی دو شقوں کا اطلاق صوبائی مجالس منتظمہ پہ نہیں ہوتا۔ کیونکہ اس کا کوئی ثبوت عہد نبوی ﷺ یا خلفاء راشدین سے نہیں ملتا کہ گورنریا کسی بھی علاقے کی مجلس شوری کو ایسا اختیار دیا گیا ہو۔ البتہ کسی خلاف شرع و دستور فعل کی نشاندہی کرنے اور روکنے کا پہلا اختیار اور فرض مجلس منتظمہ کا ضرور ہے۔ صوبائی گورنر کے پاس انتظامی اختیارات ہوں گے اور ان انتظامی اختیارات پہ مجلس منتظمہ نگرانی کرے گی، رائے دے گی اور مسائل کی نشاندہی کرے گی۔

یہاں ایک نقطہ بہت اہم ہے کہ مجلس شوری میں کثرت رائے کا تناسب ہوگا یا نہیں۔ اسلام کے شورائی نظام میں قوانین کی حکومت ہے، نہ کثرت رائے کی حکومت ہے، نہ ہی عوامی خواہشات کی حکومت۔ بہتر سے بہتر ضابطے مرتب کرنا اور ریاست کے نظام کا تسلسل قوانین کے مطابق برقرار رکھنا ہی مجلس شوری کا کام ہے۔ جب حزب اقتدار اور حزب اختلاف والا معاملہ نہیں ہوگا اور ان ماہرین کا کام دستور سازی ہوگا تو متفقہ طور پہ دستور سازی کرنا انتہائی آسان ہوگا۔ یہی اسلامی شورائی نظام کا ایک منفرد اعزاز ہے۔ صوبائی مجلس منتظمہ کا کام ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے اور وفاق کوترقیاتی اور قانونی تجاویز کی شکل میں مدد فراہم کرنا ہے۔کسی بھی قانون کی منظوری کیلئے مجلس شوری میں موجود "ایوان علماء” کی اس قانون پہ توثیق ضروری ہو۔

کبھی بھی پوری عدلیہ کو نہیں نکالا جاسکتا لیکن کسی ایک جسٹس کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی ہوسکتی ہے۔ جیسے فوج جیسے ادارے کو یک لخت فارغ نہیں کیا جاسکتا لیکن کسی ایک فوجی افسر حتی کہ جنرل کو معزول کیا جاسکتا ہے۔ یعنی کسی بھی پورے ادارے کو فارغ نہیں کیا جاسکتا۔ ایسے ہی مجلس شوری یا مجالس منتظمہ کو یک لخت معزول نہیں کیاجاسکتا اور نا ہی یک لخت نئی مجلس شوری یا مجالس منتظمہ معرض وجود میں آسکتی ہیں۔ کسی ایک فرد کے خلاف کاروائی ممکن ہے۔ جس کی بنیاد صرف کارکردگی یا صالحیت ہو۔ جو سیاستدان نقصان تو دور کی بات، فائدے میں نہ ہو، اسے بصد شکریہ ایوان سیاست سے الگ کردیا جائے جیسے کسی فوجی افسر یا جسٹس یا سیکرٹری کو فارغ کیا جاسکتاہے۔

"ہر سطح پہ سیاست دان بشمول سرکاری ملازمین کیلئے قابلیت، اہلیت، صالحیت ہی معیار ہو”

بدعنوانی یا رشوت ستانی یا کسی جرم کی صورت میں اگر کاروائی نہ ہو تو عدالت عالیہ سے بھی رجوع کیا جاسکے۔ جس کی اپیل عدالت عظمی میں ہوسکے۔ کسی دھرنے، احتجاج یا لانگ مارچ کی صورت میں سربراہ مملکت یا مجلس شوری یا مجلس خاص کے کسی رکن کو معزول نہ کیا جاسکے۔ یہ نہیں کہ ایک گروہ اٹھ کھڑا ہو اور وہ جسے چاہے معزول کروادے۔ مجالس شوری اور مجلس خاص کے اراکین پہ جرم کی صورت میں عدالت میں مقدمہ چلایا جاسکتا ہے اورجرم کی سزا بھی دی جاسکتی ہے۔ سزا یافتہ ہونے کی بناء پہ مجلس شوری نےمعزولی کا فیصلہ کرنا ہے کہ کیا اس جرم اور سزا کے مرتکب فرد کو معزول کیا جاسکتا ہے یا نہیں؟۔۔۔ جرم ثابت ہوجانے کی صورت میں جرم کی نوعیت کے مطابق معزولی کے بارے میں خلفاء راشدین کے طرز عمل سے کیا ثبوت ملتا ہے، اس کے مطابق مشاورت سے قانون سازی کی جائے۔

"جرم سرزد ہو جانے کی صورت میں سزا معاف کرنے کا اختیار سربراہ مملکت کے پاس بھی نہیں ہوتا”

مسلمان سربراہان مملکت جرم کی نوعیت کی حساب سے رعایا سے کچھ نرمی برتتے تھے اور امراء یا شاہی خاندان کے افراد سے سختی کرتے تھے۔ مخصوص معاملات میں سربراہ مملکت کے پاس فیصلہ لینے کا اختیار بھی ہوتا ہے۔ مثلا حضرت خالد بن ولید سے دوران جنگ غلطی سے کچھ مسلمان شہید ہوگئے۔ حضرت عمر فاروق نے قصاص کی رائے دی۔ جبکہ حضرت ابوبکر صدیق نے فرمایا کہ میں اللہ کی تلوار کو نہیں توڑ سکتا اور خون بہا تجویز کیا اور وارثان کو خون بہا ادا کیا گیا۔ اس میں یہ بات قابل ذکر ہے کہ حضرت خالد بن ولید کو نبی کریم ﷺ نے سیف اللہ کا لقب عطا کیا تھا اور حضرت خالد بن ولید سے لاعلمی میں وہ مسلمان قتل ہوگئے تھے۔ جس کی وجہ سے حضرت ابوبکر صدیق نے ان کی سزا میں نرمی کی لیکن معزول نہ کیا۔ جس کا مطلب ہے کہ ہر سزا پہ عہدے سے معزول بھی نہیں کیا جاسکتا۔ یہ رہنمائی بھی ملتی ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق نے مشاورت فرمائی اور مشورہ کرنے کے بعد ہی فیصلہ لیا۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!