کلمہء حق

بے شک اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اور اسلام کا عطا کردہ نظام موثر بھی ہے اور ہر طرح کے انتشار اورفساد سے پاک نظام زندگی کی ترتیب عطا کرتاہے۔ جوکام بھی قرآن و سنت کی کسوٹی پہ پورا نہ اترے، اس کام کے نتیجے میں  اجر  یقینا ثواب کی صورت میں تو نہیں ہوسکتا اور جان تو صرف اللہ کی امانت ہے۔ اگر اللہ کے رستے پہ چلتے ہوئے اگر جان نہیں جاتی  تو یقینا وہ حادثہ جنت میں  لیجانے کا باعث نہیں بنے گا۔ اللہ قادر ہیں، شاید اعمال جنت میں لے جائیں۔ دین اسلام میں آپکا اٹھنا بیٹھنا، جاگنا سونا، کاروبار کرنا، والدین کی خدمت کرنا، اہل و عیال کی کفالت کرنا، الغرض کچھ بھی اسلام کے مطابق کرنا عبادت ہے۔ کیونکہ بحیثیت مسلمان آپ دین پہ عمل اس لئے کریں گے کہ آپ اللہ کی خوشنودی حاصل کرسکیں۔ہم جو بھی کریں گے، ہم سوچیں گے کہ اس کام کے کرنے کا طریقہ، نبی کریمﷺ  نے کیا تعلیم فرمایا ہے، اللہ کریم نے اس پہ بھی اجر دینے کا وعدہ کیا ہے۔ اور جب ہم سنت طریقہ اختیار کریں گے تو اللہ کریم ہم سے خوش ہوں گے۔ اب ہم کلمہ ء حق کہنے جارہے ہیں یا نفاذاسلام کرنے، ہمیں پہلے دیکھنا ہوگا کہ اس کام کو کرنے کا کون سا طریقہ، دین الہی کے مطابق ہے۔ اگر اس طریقے کو اختیار کرنے میں ہماری جان بھی چلی جائے گی تو سودا گھاٹے کا نہیں۔ کتنے ہی لوگ بستر پہ موت کا شکار ہوجاتے ہیں، کوئی بیمار ہو کر اور کوئی ناگہانی طور پہ موت کے منہ میں چلاجاتا ہے۔ کسی کو موت کے وقت کا پتہ نہیں۔ ابھی موت آجائے تو اہل و عیال اور کاروبار کا کیا بنے گا؟۔۔۔ وہی جو بننا ہے تو کیوں نہ ہم اسلام پہ عمل کرتے ہوئے جان دیں۔  کامیاب ہیں وہ لوگ جو اپنی زندگی میں اسلام پہ عمل کرتے رہے۔چونکہ حدیث مبارک ہے کہ

"سب سے افضل جہاد، جابر حکمران کے سامنے کلمہءحق کہنا ہے”

افضل ترین جہاد کے نتیجے میں اگر جان چلی جائے تو ایسی  شہادت افضل ترین شہادت ہی ہوگی۔ جیسا کہ مصر میں اسلامی حکومت کے خاتمے کے خلاف ہونے والے احتجاج میں، کلمہء حق کہنے والوں نے سر بازار اللہ کے ساتھ اپنی جانوں کا سودا کیا اور آمریت، ملوکیت کے خلاف ایک نئی تاریخ رقم کی۔حکمران کافر نہیں لیکن اسلامی نظام کو لپیٹ دیا گیا۔ اب جو لوگ بھی اسلامی نظام کی بحالی کیلئے احتجاج کررہے ہیں وہ اللہ کی راہ میں ہیں، وہ غازی  اور جو جان دے رہے ہیں وہ شہید ہیں۔

جو اللہ کے دین کی سربلندی اور نفاذ کیلئے لڑے، وہی حسینی صفوں میں کھڑا ہے۔ فیصلہ ہمارا ہے کہ ہم نے حسینی صفوں میں کھڑے ہونا ہے یا نہیں؟۔۔ تاریخ گواہ ہے کہ حضرت سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا کوفہ کی جانب سفر حصول اقتدار کیلئے نہیں تھا۔ ایک حوالہ بھی ایسا نہیں ملتا جس میں حضرت علیؓ یا ان کے فرزندان، جنت کے نوجوانوں کے سرداروں  نے اقتدار کی خواہش کا اظہار کیا ہو یا اقتدار پہ حق جتایا ہو۔ کربلا میں جنہوں نے حضرت سیدنا حسینؓ کو شہید کیا وہ بھی مسلمان تھے اور حضرت سیدنا حسینؓ کے پیچھے نماز پڑھتے تھے۔ لیکن رافضیوں کی فتنہ انگیزی، ذاتیات اور ملوکیت نے تاریخ کے صفحوں کو خون آلود کردیا۔ حضرت سیدنا حسینؓ نے عظیم قربانی کے ذریعے درس دیا کہ ظلم کے خلاف سر نہ جھکانا۔ کسی کی غیر شرعی بات کو نہ مانا۔ مسلمان ہونے کے ساتھ ساتھ، ہم نے یہ بھی خیال کرنا ہے کہ ہم  حسینی صفوں میں کھڑے ہوں۔ یہی حق کا راستہ ہے۔ اب اگر ہم اپنی ذاتی زندگیوں میں قرآن و سنت  پہ عمل نہیں کرتے تو بھی ہم حسینی صفوں میں نہیں ہیں۔

مسلمانوں کی تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں نے ملوکیت کو قبول نہیں کیا، نہ ہی اس کو جائز قرار دیا۔ جس کی ابتداء حضرت حسینؓ سے ہی ہوتی ہے۔ تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھا جائے تو جو حق پہ ڈٹنے کا انداز سیدنا حسینؓ نے امت مسلمہ کو سکھایا۔ سیدنا حسینؓ سے  لیکر مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ تک، پھر مسلمانان برصغیر کی ہجرت، کشمیر کی تحریک آزادی یا فلسطینیوں کی جہدوجہد اور فلسطین کی آزاد اور خودمختار ریاست کا قیام، مصر کے مرسی تک، اسلام مخالف قوتوں کے خلاف کلمہء حق کہنے والوں کی ایک لمبی فہرست ہے۔ اللہ کی رضا کیلئے کلمہء حق کہنے والے ہر دور میں موجود ہوتے ہیں۔

حضرت عیاض بن غنم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔

"جو شخص صاحب اقتدار کو نصیحت کرنا چاہے تو اسے چاہئے کہ اعلانیہ نصیحت نہ کرے بلکہ اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں پکڑے اور تنہائی میں لے جا کر نصیحت کی بات اس کے سامنے رکھے۔ پھر اگر وہ اسے قبول کرلے توبہت اچھا اور اگر وہ نصیحت قبول نہ کرے تو نصیحت کرنے والے نے اپنا فرض ادا کردیا”

حق بات  کو احسن طریقے سے حکام کےسامنے رکھنے کا حکم ہے۔ تحریری طور پر عرض کرے، اگر اطمینان بخش جواب نہ ملے تو بالمشافہ بات کرے۔ اچھے انداز سے مخاطب کرے۔ حکمرانوں پہ لازم ہے کہ ہر ایک کی بات سنیں اور اس کی حاجت کو رفع کریں اور اگر وہ مشورہ دیں تو حکمران اس  پہ غور بھی کرے۔ ایک حدیث مبارک ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے یہ مروی ہے۔

"اپنے دل بادشاہوں کو برا بھلا کہنے میں مشغول نہ کروبلکہ ان کے حق میں دعا کرکے اللہ تعالی کا قرب حاصل کرو۔ اللہ تعالی ان کے دلوں کو تمہاری طرف متوجہ فرمادیں گے”

حضرت ابوالدرداء رضی اللہ تعالی عنہ سےحدیث قدسی روایت ہے۔

"اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ میں اللہ ہوں، میرے سوال کوئی معبود نہیں، میں مالک الملک ہوں اور بادشاہوں کا بادشاہ ہوں،
بادشاہوں کے قلوب میرے ہاتھ میں ہیں اور بندے جب میری اطاعت کرتے ہیں تو میں ان کے بادشاہوں کے دلوں کو ان کی طرف رحمت و رافت سے متوجہ کردیتا ہوں اور جب بندے میری نافرمانی کرتے ہیں تو میں ان کے دلوں کو ان کے خلاف ناراضی اور عذاب کے ساتھ متوجہ کردیتا ہوں چنانچہ وہ انھیں بدترین اذیتیں پہنچاتے ہیں۔ لہذا تم بادشاہوں کو
 بد دعائیں دینے  میں مشغول نہ ہو۔ بلکہ اپنے آپ کو ذکر اور دعا و تضرع میں مشغول رکھو۔
 میں تمہارے بادشاہوں کے معاملے میں تمہاری مدد کروں گا”

حکمرانوں کو دل میں بھی برا بھلا کہنا منع ہے، کجا یہ کہ ان کو گالیاں دی جائیں۔ غیبت کرنا گناہ ہے۔ پھر حکمرانوں کو برا بھلا کہنے سے اللہ کی خوشنودی حاصل نہیں ہوگی، بلکہ باعث ناراضگی اور عذاب بن جائے گا۔ عوام کو سمجھ لینا چاہئے کہ دراصل اللہ تعالی کی نافرمانی ہوئی ہے اور یہ اسی کی سزا ہے۔ اپنے دلوں کی اصلاح کریں اور دوسروں کے دلوں کو بھی متوجہ الی اللہ کریں تاکہ سربراہان سلطنت کے معاملے میں اللہ کی مدد ملے اور ان کی اصلاح بھی ہوسکے۔ اپنی غلطیوں/ گناہوں  سے توبہ کرکے، احکامات الہی کی پابندی پہ توجہ دینی چاہئے۔ اپنی حالت درست کرنی چاہئے۔ ہم اپنی حالت درست کرلیں گے، اللہ تعالی حکام کے قلوب کو نرم کردیں گے۔ حکمرانوں کو احسن انداز میں سمجھانا چاہئے یا اصلاح کا راستہ اختیار کرے۔ ایک حدیث  میں ہے کہ

"اھان سلطان اللہ فی الارض اھانہ اللہ"
جس شخص نے زمین پر اللہ کے سلطان کی توہین کی،  اللہ اس کو ذلیل کر دے گا"

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے حدیث  مروی ہے۔

"آئمہ کو برا بھلا نہ کہو بلکہ ان کے حق میں نیکی کی دعا کرو کیونکہ ان کی نیکی تمہاری بھلائی ہے”

حضرت عباۃ بن صامت نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں بلایا اور ہم سے بیعت لی، جن باتوں پر بیعت لی ان میں سے ایک یہ تھی کہ

"ہم اپنے امیر کی بات سنیں اور اس کی اطاعت کریں۔ خواہ یہ ہمیں پسند ہو یا ناپسند اور خواہ ہمیں اس پر عمل کرنے میں دشواری ہو یا سہولت اور خواہ ہمارے اوپر کسی کو بے وجہ ترجیح دی جائے اور ہم حکومت کے بارے میں حکمران سے جھگڑا نہ کریں مگر اس وقت جب کہ اس میں واضح کفر دیکھیں۔
 جس کے بارے میں تمہارے پاس اللہ کی طرف سے کتاب یا سنت سے واضح دلیل ہو”

حکمران کی مخالفت کرنے کے احکامات بھی واضح ہیں کہ قرآن و سنت کے احکامات کے ذریعے عطا کردہ أصول و ضوابط سے انکار کرے  یا کوئی خلاف شرع اقدام یا فعل سرزد ہو تو امیر کو اس کا شرعی حکم بتایا جائے اور اسے روکا جائے، اگر وہ فعل قابل تعزیر ہو تو قانون کے مطابق سزا بھی دی جائے گی۔ اگر امیر نہ مانے تو مجلس شوری اقدامات کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔ چونکہ مجلس شوری ہی امیر کی تجویز و انتخاب اور معزولی کا اختیار رکھتی ہے، اس لئے مجلس شوری کی تنبیہہ ہی زیادہ موثر ہوگی۔ اگر امیر خلاف شرع فعل یا اقدامات پہ ڈٹ جائے تو مجلس شوری معزول کردے۔

خلاف شرع حکم، قانون کو نہ ماننے کا حکم ہے۔ اسلام کے حکم کے مطابق، کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہے۔ یہاں سے ہی کلمہ حق کہنے کا آغاز ہوتا ہے کہ اگر امیر غیر شرعی کام پہ ڈٹ جائے تو اس کے سامنے حق بیان کرنا۔ پھر اس غیرشرعی کام سے روکنے کیلئے ہر شرعی طریقہ اختیار کرنا۔ اسلام میں کلمہ ء حق کہنے کی آڑ میں فتنہ فساد کی اجازت کسی بھی انداز میں نہیں دی گئی۔

اسلامی قانون کی حمایت، نفاذ اور اس کو قائم رکھنا فرض ہے۔ اس کیلئے خواہ جان گنوانا پڑے جیسا کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے شہادت کا راستہ چنا اور ظلم برداشت نہیں کیا۔ حضرت معاذرضی اللہ عنہ  سے حدیث مبارک مروی ہے۔

"تنخواہ اس وقت تک لو جب تک وہ تنخواہ رہے۔ لیکن اگر وہ دین کے اوپر رشوت بن جائے تو نہ لو اور تم فقر اور حاجت کے خوف سے اسے چھوڑو گے نہیں۔ خوب سن لو کہ اسلام کی چکی چل چکی ہے۔
لہذا قرآن جہاں بھی جائے تم اس کے ساتھ جاؤ۔ خبردار قرآن اور اقتدارا دونوں الگ الگ ہوجائیں گے۔
 ایسے میں تم قرآن کا ساتھ نہ چھوڑنا، یاد رکھو کہ تم پر کچھ ایسے امراء آئیں گے جو اپنے حق میں وہ فیصلے کریں گےجو تمہارے حق میں نہیں کریں گے۔ اگر  تم نے ان کی خلاف ورزی کی تو وہ تمہیں قتل کردیں
 گے اور اگر تم نے ان کی اطاعت کی تو وہ تمہیں گمراہ کر دیں گے۔
صحابہ اکرام رضوان اللہ اجمعین نے عرض کیا کہ یارسول اللہ
ﷺ ہم ایسے میں کیا کریں؟۔۔۔
آپ نے فرمایا کہ وہی کرو جو عیسی بن مریم علیہ السلام کے ساتھیوں نے کیا۔ ان کو آروں سے چیر دیا گیا اور لکڑیوں پر اٹھایا گیا۔  اللہ کی اطاعت میں موت آجائے تو وہ اللہ کی نافرمانی میں زندگی گزارنے سے بہتر ہے”

عوام  اور امراء سلطنت پہ بہت بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ کوئی بھی حکم جو قرآن و سنت سے متصادم ہو اس کو نہ مانیں۔ خواہ اسلام پہ عمل کرتے ہوئے حضرت سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی طرح جان ہی کیوں نہ چلی جائے، حکمرانی صرف اللہ کی ہی ہوگی۔

اگر مسلمان تہیہ کرلیں کہ سودی کاروبار نہیں کریں گے تو سودی نظام معیشت نہیں چل سکتا۔

مسلمان طےکرلیں کہ سود پہ قرض نہیں لیں گے تو خود بخود بینک قرض کی بجائے تجارت کی بنیاد پہ کاروبار کرنا شروع کردیں گے۔

اگر مسلمان جج یہ فیصلہ کرلیں کہ کسی غیر اسلامی قانون کے تحت کسی مقدمہ کی سماعت نہیں کریں گے تو کیسے غیر اسلامی قوانین عوام کے سروں پہ مسلط رہ سکتے ہیں۔

اگر ملازمین غیر اسلامی کام کرنے سے انکار کردیں تو امور ریاست نہ چل سکیں گے۔ عوام اگر بیدار ہو تو وہ دفتری کاموں کا بائیکاٹ کردیں۔

اگر مجلس شوری کے اراکین اسلامی نظام حکومت نافذ کرنے کا قانون بنائیں اور سربراہ مملکت اسلامی نظام حکومت نافذ نہ کرے تو  مجلس شوری کے اراکین سربراہ مملکت کو معزول کردیں تو وہ کیسے حکومت پہ براجمان رہ سکتا ہے؟۔۔۔ مجلس شوری کسی ایسے شخص کو سربراہ مملکت بنا لے گی، جو اسلامی نظام حکومت نافذ کرنا چاہتا ہو۔

ایک شخص کو حکومت کی جانب سے کوئی تکلیف پہنچے تو حکام کے خلاف سازش میں مشغول نہ ہوجائے۔ بلکہ اللہ سے مدد مانگے اور ان کی اصلاح کی کوشش کرے۔ اگر نچلی سطح پہ کسی افسر سے نقصان ہوا ہے تو اعلی افسر سے رابطہ کرے یا  سربراہ مملکت سے رابطہ کرے۔ اگر سربراہ مملکت سے نقصان ہوا ہے تو امراء سلطنت سے بات کرے، عدلیہ سے رجوع کرے۔ لیکن کوئی ایسا راستہ اختیار نہ کرے جس سے فساد یا فتنہ برپا ہو۔   قرآن مجید میں حکم ہے۔

"ولا تفسدوا فی الارض           اور زمین میں فساد نہ کرو”

فتنہ فساد سے بچنا فرض ہے۔ ناجائز کام کو ختم کرنے کیلئے فتنہ فساد کی اجازت نہیں۔ ہر وہ کام ظلم ہے جو اللہ کو ناپسند ہے اور ظلم کو سہنا بھی ظلم ہے۔

” تین ہی درجے ہیں ظلم کو روکنے کے،
طاقت ہے تو روکے، ورنہ زبان سے کہے، ورنہ دل میں برا کہے۔
یہی کلمہء حق کہنے کا انداز ہے”

الترمذی میں حدیث مبارکہ ہے کہ

"اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا کہ مومن کو زیبا نہیں کہ اپنے کو ذلیل کرے۔
پوچھا گیا یا رسول اللہ ﷺ اپنے کو کس طرح ذلیل کرے گا؟۔۔۔
 فرمایا ایسی بلا کو اپنے اوپر لادے جس کی برداشت کی اس کو طاقت نہ ہو”

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!