پاکستان کے امور خارجہ

ریاستوں کی بنیاد نسلی، جغرافیائی یا تسلط کی بناء پہ ہی متعین ہوتی چلی آئی ہیں۔ دنیا میں ریاستوں کے تعلقات بظاہر دوستی اور در پردہ دشمنی یا لالچ یا اہداف کے حصول کے تحت ہی نظر آتے ہیں لیکن "ریاست مدینہ” کے بعدپاکستان پہلی اسلامی ریاست ہے جو صرف اللہ کے نام پہ تخلیق پائی۔ اسلام نے جو اصول عطا کئے ہیں ان میں دیگر قوموں کے ساتھ تعلقات فلاح انسانیت کی بنیاد پہ استوار کرنے کی ترغیب دی ہے۔

حالات نے پلٹا کھایا اور خلافت کا تسلسل رکنے کے ربع صدی بعد پاکستان معرض وجود میں آیا۔ اسلامی ریاستیں، امت مسلمہ  اپنی مرکزیت اور اتحاد کھو کر کمزور ہو چکی تھیں۔ خلافت کی بجائے "اقوام متحدہ” کے ذریعے عالم کفر پوری دنیا پہ تسلط بنانے میں کامیاب ہو چکا تھا اور طاغوت اپنی گرفت مضبوط کر رہا تھا۔ خلافت کا تسلسل رکنے کے بعد سے پوری دنیا بالخصوص امت مسلمہ پر بحیثیت مجموعی تاریخ کا سب سے برا وقت گزر رہا ہے۔ اگر اس وقت کوئی قوم ظلم کا شکار ہے تو وہ امت مسلمہ ہی ہے۔

طاغوتی طاقتوں نے تمام اقوام عالم کو دو حصوں میں تقسیم کررکھا ہے، ایک مسلمان اور ایک غیرمسلم اور دنیا میں دو طرح کی ریاستیں ہیں، اسلامی ریاستیں اور غیر اسلامی ریاستیں۔ اقوام متحدہ کے ذریعے مسلمان قوم کو ظلم کی چکی میں پیسا جارہا ہے۔ یہ سب کچھ غیرمسلموں کی انتہاپسند سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ کچھ سیاہ فاموں کے ممالک میں بھی ظلم کی سرخ آندھیاں چل رہی ہیں جو کہ جمہوریت پسند سفیدفاموں کی قدامت پسندی کی علامت ہے۔ اسلام میں سیاہ فام کو سفید فام پہ اور سفید فام کو سیاہ فام پہ رنگ و نسل کے لحاظ سے کوئی برتری حاصل نہیں ہے۔ سب انسان اللہ کی ایک جیسی اشرف المخلوقات ہیں۔

اسلامی ریاست کے ساتھ تعلقات میں کمی کرکے اور کسی غیراسلامی ریاست سے دوستی کی بناء پہ تعلقات بڑھائے نہیں جاسکتے۔ سورۃ آل عمران میں حدود بھی اللہ تعالی نے مقرر فرمائی ہیں۔

"مومنوں کو مومنین کو چھوڑ کر کافروں کو دوست نہیں بنانا چاہئے”

سورۃ ممتحنہ میں اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں۔

"اللہ تمہیں ان غیر مسلمین کے ساتھ احسان اور انصاف کا برتاؤ کرنے سے منع نہیں کرتے ہیں جنہوں نے تم سے دین کے معاملے میں قتال نہیں کیا اور تم کو تمہارے وطن سے نہیں نکالا”

 اسلامی ممالک سے برادرانہ تعلقات استوار کئے جائیں۔ جبکہ دنیا کے غیر اسلامی ممالک سے برابری کی بنیاد پہ تعلقات کو استوار کیا جائے۔ اگر وہ اسلامی ریاست کو فائدہ دے کر کوئی مدد یا فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں، جس سے کسی اسلامی ریاست یا کسی مسلمان کی حق تلفی بھی نہیں ہوتی تو اس میں حرج نہیں کہ ان کے ساتھ تجارت کی جائے۔ غیرمسلم ممالک کے جدید علوم ، تکنیک اور تحقیقات سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے اور جدید علوم کو فروغ دینے میں بھی کوئی حرج نہیں۔

اللہ کریم نے اسلامی ریاستوں کیلئے غیرمسلم ریاستوں کے ساتھ تعلقات کی نوعیت قرآن مجید میں بیان فرمائی ہے۔ جو مسلمان بھی دنیا کے کسی کونے میں مشکلات کا شکار ہوں ان کی مدد کرنا بھی  خلافت یا قریب کی اسلامی ریاستوں پہ فرض ہے۔ قرآن مجید اس موضوع پہ ہماری رہنمائی فرماتا ہے کہ

"جو لوگ ایمان لائے مگر انہوں نے ہجرت نہیں کی، ان کے کام سے تم کو کوئی تعلق نہیں ہے، جب تک وہ  ہجرت نہ کریں اور اگر دین کے بارے وہ تمہاری مدد چاہیں تو تم پر ان کی مدد کرنا لازم ہے۔
ہاں اگر وہ ایسی قوم  کے خلاف مدد چاہیں جس سے تمہارا معاہدہ ہے تو اس معاہدے کے خلاف ان کی مدد نہ کرو بلکہ عہد کی پابندی کرو”

اسلامی ریاستوں کے ساتھ تعلقات فلاح انسانیت سے بڑھ کر مسلم امہ اور قومی  بھائی چارے کی بنیاد پہ قریبی اور گہرے روابط قائم کئے جائیں۔ تعلیمی ، تجارتی، معاشی روابط کو اسلامی ممالک کے ساتھ ترجیحی بنیادوں پہ فروغ دیا جائے۔ 57اسلامی ممالک تنظیم تعاون اسلامی (او آئی سی) کے رکن ہیں۔  جبکہ وسائل سے بھرپور خطے اسلامی ممالک کے پاس ہیں اور ان میں مسلمان بستے ہیں۔ آپ  کسی بھی علم کے ماہرین کی فہرست تیار کریں آپ کو ماضی یا حال میں مسلمان سر فہرست ملیں گے۔

ملک کی خارجہ پالیسی کو آزاد، دانش مندانہ اور جرات مندانہ بنیادوں پہ استوار کیا جائے اور کسی قسم کا بیرونی دباؤ ،ملکی مفادات کے خلاف قبول نہ کیا جائے۔ نظریاتی طور پر صحیح خیالات رکھنے والے اور مستعد افراد کو ملک کی خدمت کا موقع دیا جائے۔وزارت خارجہ میں  خارجہ پالیسی کیلئے تھنک ٹینک سیکشن بنایا جائے جو کہ وزارت خارجہ اور سربراہ مملکت کو بروقت اقدامات کی سفارشات دیں۔ یونیورسٹیوں کے تاریخ، سیاسیات  اور امور خارجہ جغرافیہ اور بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین کے ساتھ مل کر کے ماہرین کا  ایک مشترکہ  ادارہ تشکیل دیا جائے ،جو مجلس شوری میں موجود اپنے نمائندے کے ذریعے قانون سازی میں بھی کردار ادا کر رہے ہوں۔

اب تک کئے گئے ہر سطح کے تمام معاہدوں پرنظر ثانی کی جائے۔ خاموش سفارت کاری اختیار نہ کی جائے بلکہ موثر اور واضح سفارت کاری اختیار کی جائے۔ سفارتی تعلقات خالصتا دوطرفہ تعلقات کی بناء پر ترتیب دئیے جائیں۔ مجلس شوری کو بھی  خارجہ امور میں اعتماد میں لیا جارہا ہو۔ بین الاقوامی سطح پہ اپنے ملک کا تاثر بہتر کرنے کےلئے قابل افراد سفیر تعینات کئے جائیں۔ سفارتی تعلقات اور وطن عزیز کا مثبت تاثر ابھارنے کیلئے ذرائع ابلاغ سے بھی بھرپور کام لیا جائے۔

جب ہندوستان دو قومی نظریہ، اسلام کی بنیاد پہ دو واضح حصوں میں تقسیم ہوا تو ہندوستان میں موجود مقامی ریاستوں کو اختیار دیا گیا کہ وہ جغرافیائی حیثیت اور عوامی رائے کو مدنظر رکھتے ہوئے بھارت یا پاکستان میں سے کسی ایک سے الحاق کرلیں۔ "جوناگڑھ، مناوادر، منگرول، بہاولپور، گلگت بلتستان اور  کشمیر” کی ریاستوں نے پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کیا۔ جس میں بہاولپور کی ریاست صرف پاکستان کا حصہ بن سکی۔ گلگت بلتستان کا بلاشرکت غیرے پاکستان میں شامل ہے لیکن ابھی تک متنازعہ حیثیت رکھتا ہے۔ سرحدوں کی حد بندی کے دوران برطانوی حکام کی جانبداری واضح تھی۔ ہندو قیادت فیصلوں پر اثر انداز ہوتی رہی۔ کشمیر، جوناگڑھ، مناوادر، منگرول میں انگریزوں کی آشیر باد سے بھارت نے فوجیں داخل کردیں اور زبردستی اپنے علاقے میں شامل کرلیا۔اس غیرمنصفانہ تقسیم کو عالمی سطح پر پاکستان کو جیسے اجاگر کرنا چاہئے تھا ویسے اجاگر نہ کیا جاسکا۔ لیکن جو قربانیاں پاکستان بنانے میں مسلمانان ہند نے دیں، ان کا ایک طویل سلسلہ ہے جن کے آج تک اعداد و شمار بھی کوئی ادارہ یا کوئی تنظیم  حتمی طور پر سامنے نہ لا سکی۔ جبکہ آج بھی کشمیر، اراکان میں خون کے دریا بہہ رہے ہیں جو تھمنے کا نام نہیں لے رہے۔

الحمد للہ پاکستان افق دنیا پہ ایک بڑا اسلامی ملک ہے اور اسلامی ممالک میں واحد ملک ہے جس نے کشمیریوں، فلسطینیوں اور دیگر مسلم علاقوں کے مظلوم مسلمانوں کی آواز ہر سطح پہ اور ہر دور میں بلند کی اور ان مسلمانوں کے مفادات کے خلاف کسی ریاست سے معاہدہ یا سمجھوتہ نہیں کیا۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!