پاکستان کا دفاعی و عسکری نظام

محکمہ حرب و دفاع کے بغیر کوئی ریاست دنیا پہ اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکتی۔ اسلامی مملکت کی فوج "جہاد و قتال” اور اسلامی ریاست کی حفاظت کی ذمہ دار ہے۔مسلمانوں نے نہ صرف ، اپنے مسلمان بھائیوں کو ظلم سے نجات دلوانے کیلئے جہاد کیا بلکہ تاریخ انسانی میں غیرمسلموں کو بھی ظلم سے نجات دلوانے کےلیے صحابہ کرام، تابعین و مجاہدین نے جہاد کیا۔ جہاد اسی شکل میں کیا جائے گا کہ جب کوئی اسلامی ملک پہ حملہ آور ہوجائے یا وہاں پہ کوئی ایسا ظلم ہورہاہو ، جو اسلامی حکومت کے باقاعدہ احتجاج کے باوجود نہ روکا جائے تو اسلامی حکومت، فوج کو جہاد کا حکم دیتی  ہے اور ظلم کو ختم کرتی ہے۔

"جہاں تک تم سے ہوسکے ان کیلئے قوت اور پلے ہوئے گھوڑوں  سے تیار رہوکہ جو اللہ کے دشمن اور تمہارے دشمن ہیں۔
اس سے ان پر رعب جمائے رکھو اور ان کے علاوہ دوسروں پر بھی جن کو تم نہیں جانتے، اللہ ان کو جانتے ہیں”
۔ سورۃ الانفال

عقبہ بن عامر سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا۔۔۔ "تیر اندازی بھی کیا کرو” اور عقبہ بن عامر سےہی ایک اور روایت ہے کہ

"جس نے تیر اندازی سیکھی پھر چھوڑ دی وہ ہم میں سے نہیں۔ یہ بھی فرمایا کہ اس نے نافرمانی کی”

حضرت فضالہ بن عبید سے روایت ہے کہ اللہ کےرسولﷺ ہم کو زیادہ آرام طلبی سے منع فرماتے تھے اور ہم کو حکم دیتے تھے کہ کبھی کبھی ننگے پاؤں بھی چلا کریں۔

اسلام حکم دیتا ہے کہ حالت جنگ میں بھی جو ہتھیار پھینک دے، اسے کچھ نہ کہو۔ فساد سے بچو۔  کسی پہ ظلم نہ کرو۔ کسی کو ناحق نقصان نہ پہنچے۔ اسلام حکم دیتا ہے کہ امن سے رہو، فساد نہ پھیلاؤ۔ یہاں تک کہ اسلامی حکومتوں نے تمام جنگیں بھی دفاع کے پیش نظر  کیں یا ظلم کو ختم کرنے کیلئے کیں۔ دونوں صورتوں میں جنگ کرنا ناگزیر ہوگیا تھا۔ کفار کی سازشیں اس حد تک چلی جاتی تھیں کہ جنگ کرنا پڑ جاتی تھی۔

پاکستان کی افواج اور حساس ادارے دنیا کے بہترین عسکری صلاحیتیوں کے حامل ہیں اور پوری قوم کو ان اداروں پہ فخر ہے۔ تمام اسلامی ملکوں میں سب سے بڑی فوج پاکستان کی ہے۔ دنیا کی چھٹی بڑی فعال فوج اور پھر پیراملٹری فوج / نیم فوج بھی پاکستان کی ہے۔ چھٹی بڑی ہی ٹینکوں، ہیلی کاپٹروں اور ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ایک باصلاحیت اور مکمل فوج ہے۔ پاکستان کی کمانڈو فورس کا دنیا کی بہترین کمانڈو فورس میں شمار ہوتا ہے۔ چھٹی بڑی فوج ہونے کے باوجود فوج کیلئے سالانہ بجٹ میں دنیا کا اٹھائیسویں نمبر پہ بڑا ملک ہے، یعنی پاکستان کم وسائل میں بڑی فوج کا حامل ملک ہے۔ ایسے ہی پاک فضائیہ دنیا کی چھٹی بڑی فضائیہ ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کی فوج دنیا کی تمام افواج کی نسبت بہت باصلاحیت ہے۔ اسلامی فوجی اتحاد کی سربراہی بھی پاکستانی فوج کے سابق سپہ سالار اعظم کے پاس ہونا بھی ایک بڑا اعزاز ہے۔ سامان حرب کو نہ صرف پاکستان میں تیار کیا جارہا ہے۔ اللہ کا احسان ہے کہ ہم اپنے ملک میں ہی ٹینک، جنگی ہوائی طیارے، بندوقیں اور ضروری اسلحہ بنارہے ہیں۔ سامان حرب میں تحقیق اور تجربات کی روایت کا تسلسل برقرار رکھا جائے۔ بلکہ تجارتی بنیادوں پہ تیاری کیلئے مسلم ممالک کا تعاون حاصل کیا جائے اور صرف مسلم ممالک کو اسلحہ فروخت کیا جائے۔

اس وقت اگر کوئی ادارہ اسلامی اساس کے قریب ترین ہے تو وہ افواج پاکستان ہی ہیں۔ افواج پاکستان کو زیادہ سے زیادہ جذبہء جہاد سے سرشار کیا جائے اور ان کی تربیت مجاہدانہ روح کی حامل ہو۔ نسبتا چھوٹی فوج تیار کی جائے جو اعلی تربیت یافتہ، جدیداسلحہ سے لیس، بہترین ذرائع نقل و حرکت کی حامل ہو۔ اللہ تعالی کے حکم کے مصداق، دشمن کے  خلاف قوت اور  اسلحہ سے لیس ہوکر تیار ہو،  تاکہ جھڑپ،لڑائی،تصادم، جنگ تو درکنار، دشمن آنکھ اٹھا کر دیکھنے کا سوچ بھی نہ سکے۔

  مسلمانوں  پر کفار کا حملہ ہو اور مرد مدافعت کیلئے ناکافی ہوں تو خواتین پہ بھی جہاد واجب ہوجاتا ہے۔ 18 نومبر 1913ء کو بلقیس شوکت حانم نے بلقان کے مظلوم مسلمانوں کی مدد کیلئے اور بلقان پر اطالویوں کی بمباری کے جواب میں ان کی مدد کرنے کیلئے اپنا جہاز اڑایا اور اطالویوں کا مقابلہ کرتی ہوئی شہید ہوگئیں۔ اطالوی فضائیہ نے ان کے جہاز کو نشانہ بنایا۔ یہ جہاز بھی خلیفہ غازی محمد خامس (رشاد) نےاس مجاہدہ کو خلافت کی طرف سے ہدیہ کے طور پر دیا کیونکہ یہ خاتون بلقان کے جنگ سے متاثرہ مسلمانوں کے لیے خیراتی کام کرتی تھیں۔

بنیادی عسکری تربیت یافتہ مردو خواتین فوج کے ساتھ مل کر ملک میں سے دہشت گردی اور بیرونی مداخلت کو بھی روک سکیں گے۔ اس طرح مختصر فوج رکھ کر بھی ہم تمام اقوام عالم پہ اپنی عسکری برتری رکھ سکیں گے۔اس لئے  پاکستان کے ہر شہری کواپنی حفاظت کی تربیت یعنی مارشل آرٹس کے ساتھ عسکری تربیت بھی دی جائے۔ جس کیلئے سکولوں کی سطح پہ اہتمام کیا جائے۔ ایسی تربیت سے یقینا جرائم میں کمی واقع ہوگی۔جن علاقوں میں اسلحہ عام ہوتا ہے یا جس گھر کا پتہ ہوکہ وہاں اسلحہ موجود ہوگا، چور بھی ان گھروں میں نقب زنی کی  جرات نہیں کرتے۔ مارشل آرٹس کے ماہرین کے ساتھ، ریٹائرڈ فوجی حضرات سے عسکری تربیت کا کام لیا جائے اور ضلع سطح پہ تربیتی مرکز بھی قائم کئے جائیں۔ ان مراکز سے فوج، رینجرز، پولیس، حساس اداروں کیلئے افرادی قوت کو حاصل کرنے کاایک بہترین  نظام مرتب کیا  جائے۔ ضروری /بنیادی تعلیم کے بعد بھی کوئی شخص عسکری تربیت کیلئے ضلعی عسکری تربیتی  مراکز میں داخلہ لے سکتا ہو۔  صرف عسکری تربیت یافتہ افراد کو اسلحہ  رکھنے کی اجازت ہو اور  ان کا ریکارڈ ان کی عسکری مہارت کے حساب سے ضلعی عسکری تربیتی مراکز  میں موجود ہو ۔ ان کا کمانڈ اینڈ کنٹرول ضلعی پولیس کے پاس ہو اور امن و امان کے خراب ہونے کے دوران ان افراد سے مقامی سطح پہ مدد  لی جاسکے۔ ضروری نہیں کہ فوج یا رینجرز کو بلایا جائے۔ اس سے مقامی سطح پہ جرائم میں کمی آئے گی اور امن و امان کے قیام کو یقینی بنایا جاسکے گا۔ جنگ کی صورت میں بھی یہ افراد فوج کے شانہ بشانہ ملک کی حفاظت کرسکیں گے۔ پولیس، رینجرز، فوج اور حساس اداروں کیلئے افراد چھانٹی ہوجانے کے بعد ان کی بنیادی عسکری تربیت کرکے، انھیں متعلقہ محکمے میں بھرتی کرلیا جائے۔ دوران ملازمت  ان کی کارکردگی اور قابلیت کا جائزہ لیا جائے۔اور ان کی کارکردگی اور قابلیت  کی بناء پہ ان کو مزید تعلیم دی جائے اور اعلی عہدوں کیلئے انھی میں سے افسر بھرتی کئے جائیں اور قابل افراد کی اعلی سطح پہ  تعلیم و تربیت کی جائے۔ بہترین عسکری مزاج کے افراد کو ضروری اور بنیادی تربیت کے دوران چھانٹی کرکے افسروں کا چناؤ کیا جائے۔ پولیس میں سے خفیہ پولیس کے اہلکار بھرتی کئے جائیں۔ اس طرح سے بنیادی تعلیم اور رحجان کے ساتھ ہی ہر فرد کی راہ متعین ہوجائے۔ پھر وہ متعلقہ شعبے میں مزید تعلیم حاصل کرکے ملک و قوم کیلئے سود مند ہوسکے گا۔ آئی ایس ایس بی  کے ذریعے بلاواسطہ  افسران کے چننے کے عمل کو ختم کیا جائے۔ فوج انھی مراکز  سے با صلاحیت افرادی قوت بھرتی کرے ۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!