پاکستان کی قومی اور دفتری زبان

ہمارا تعلیمی نظام،  صاحب عقل و دانش کیلئے نہ صرف پریشانی کا باعث ہے بلکہ تشویش کاباعث بھی ہے۔ دنیا بھر میں شاید برطانوی تسلط سے آزاد ہونے والے ممالک  کا تعلیمی نظام ایک ایسا نظام ہے کہ جس کی خوبیوں میں صرف انگریزی، انگریزی  اور انگریزی ہی ہے۔انگریز اپنا نظام حکومت لے کر آئے تھے اور ان کے نظام حکومت میں دیگر اقدامات کے ساتھ ساتھ دفتری زبان کو انگریزی کرنا تھا۔ جبکہ برصغیر، خطہ ہند کی دفتری زبان فارسی تھی اور گلی محلوں یا عام طور پر بولی جانے والی زبان میں "اردو زبان” نے فروغ پالیا تھا، جسے اب بھارت میں "ہندی” زبان بھی کہاجاتا ہے۔ انگریز کے برسر اقتدار آنے سے اہل ہند دفتری خط و کتابت میں انگریزی کے محتاج ہوگئے اور آج تک نوآبادیاتی نظام کے تحت رہنے والے علاقے بدستور انگریزی  زبان کے غلام چلے آرہے ہیں۔  تعلیم حاصل کریں یا نہ کریں،  آپ کو انگریزی آنی چاہئے۔  انگریزی زبان پہ مہارت ہے تو نوکری فورا مل جائے گی۔ اس لئے پاکستان اور بھارت میں تعلیم و تحقیق بھی انگریزی زبان میں ہی ہوتی ہے۔باقی تمام ممالک میں ان کی تمام تحقیق اور تعلیم ان کی اپنی قومی زبانوں میں ہے۔ ان کے کمپیوٹر کے آپریٹنگ سسٹم تک ان کی اپنی زبانوں میں ہے۔ ان کے سافٹ وئیر ان کی اپنی زبانوں میں ہے۔ وہ انگریزی زبان کے محتاج نہیں ہیں۔

 کیا وہ ترقی سے محروم ہیں ؟۔۔۔

کیا وہ دنیا کے ساتھ نہیں چل پارہے ؟۔۔۔

کیا ان کیلئے دوسرے ممالک مصنوعات  تیار نہیں کرتے؟۔۔۔

کیا ان کیلئے سافٹ وئیر تیار نہیں کئے جاتے؟۔۔۔

 یہ سب کچھ ہوتاہے لیکن ہم احساس کمتری کا شکار ہیں۔ انگریز چلے گئے لیکن ان کی زبان اور ان کا  نظام حکومت یہیں ہے۔

پاکستان کی موجودہ رائج العام اور قومی زبان اردو، عہد سلاطین دہلی میں ہی معرض وجود میں آئی۔ ہند کی دفتری زبان فارسی  تھی لیکن اردو کی پیدائش اور فروغ کا مرکز ہند ہی ہے۔ اردو ترکی زبان کا لفظ ہے۔ جس کا مطلب ہے لشکر۔ یہ زبان اسلامی لشکروں میں پیدا ہوئی اور وہیں رائج ہوئی۔ اسلامی لشکروں میں مختلف علاقوں کے مجاہدین موجود ہوتے تھے۔ ان مجاہدین کے آپس میں بات چیت کرنے کیلئے اردو زبان نے مختلف زبانوں میں سے جنم لیا۔ بعدازاں اسلامی لشکروں کے مختلف علاقوں میں جانے سے اس نے ترقی پائی۔ اور یہ ہند کی سب سے زیادہ بولی جانے والی مقامی زبان بن گئی۔

آج یہ زبان دنیا میں چوتھی سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان کا درجہ پا چکی ہے۔ اردو زبان میں زیادہ تر فارسی اور عربی کے الفاظ شامل ہیں۔ گولگنڈہ کے سلطان قلی قطب شاہ کو اردو زبان کا پہلا صاحب دیوان شاعر کہا جاتا ہے۔ یہ زبان ہندوستان کی مقامی زبانوں کے علاوہ ایسی مقبول ہوئی کہ ہندوستان میں ہی نہیں بلکہ ہند کے قریب کے اکثر جگہوں میں بولی جانے لگی۔ بعد ازاں انگریزوں کے دور حکومت میں بھی اس میں ترقی ہوتی رہی۔ انگریز کو بھی مقامی آبادی سے واسطہ پڑتا تھا اور اسی لئے انگریزوں نے بھی اردو کو  تمام مقامی زبانوں میں مشترکہ بولی جانے والی زبان گردانتے ہوئے، ترقی دی۔ ابھی بھی بھارت میں  اردو ہی سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان ہے، جسے اب وہ "ہندی” زبان بھی کہتے ہیں۔ موجودہ دور میں دنیا میں چوتھی سب سے زیادہ بولے جانے والی زبان ہونے کے ساتھ ساتھ، برطانیہ میں چھٹی سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان اردو ہے۔

چین میں اردو زبان کو بہت اہمیت دی جارہی ہے۔ بہت سے ممالک  کی یونیورسٹیوں میں باقاعدہ اردو کے شعبہ جات قائم ہوچکے ہیں۔ یوسف رضا گیلانی بطور وزیراعظم چین کے دورے پہ گئے۔ چین کی ایک یونیورسٹی میں انھیں خطاب کی دعوت تھی۔ وہاں پہ صرف ملکی سربراہان کو خطاب کی دعوت دی جاتی ہے۔ وزیراعظم نے انگریزی زبان میں تقریر کی۔ سوالات کے وقفے کے دوران طلباء نے اردو زبان میں سوال کئے۔ بعد میں پتہ کیا گیا کہ یہ معاملہ کیا ہے۔ شعبہ اردو کی انچارج کو بلایا ۔ وہ پاکستانی خاتون تھیں۔ انھوں نے بتایا  کہ  چین میں سب سے مقبول شعبہ اردو زبان کا ہے۔ اردو زبان پہ عبور حاصل کرنے والوں  کو اعلی محکمے نوکریوں کا بندوبست کرکے دیتے ہیں۔ ان کے خیال میں دنیا کی اگلی تیزی سے ابھرنے والی اور سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان "اردو” ہے۔ جغرافیائی اہمیت کے پیش نظر بہترین  تجارتی گزرگاہ کے حامل ملک پاکستان سے فائدہ لینے کیلئے اردو زبان پہ عبور حاصل کرنا ضروری ہے۔ جس قوم نے عربی، ہسپانوی، انگریزی نہیں سیکھی وہ اردو سیکھ رہی ہے، مقصد معیشت و تجارت ہے۔

ترقی یافتہ ممالک کے بین الاقوامی ذرائع ابلاغ، پاکستانی ذرائع ابلاغ کے ساتھ مل کر اردو زبان میں پروگرام کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ بیرون ملک پاکستان اور بھارت کے باشندوں کی کثیر تعداد موجود ہونے کی وجہ سے اردو میں بہت سے رسائل اور ذرائع ابلاغ چل رہے ہیں۔ متحدہ عرب امارات میں بھی اگر آپ عربی یا انگریزی نہیں بول سکتے تو اردو سے بھی کام چل جاتاہے۔ اس خطے میں دنیا کی سب سے زیادہ بولی جانے والی دو زبانیں اردو اور پنجابی ہیں۔

آج کل تو بہت سی انگریزی زبان آگئی ہیں۔ پہلے برطانوی انگریزی تھی، پھر ہماری قوم کو امریکن انگریزی زبان سیکھنے پہ لگا دیا گیا۔ اب تکنیکی انگریزی زبان، انتظامی انگریزی زبان، میڈیکل انگریزی زبان اور پتہ نہیں کس کس قسم کی انگریزی آ گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بیرون ملک سے تعلیم یافتہ افراد کو پاکستان کے سرکاری اداروں میں فورا نوکری دے دی جاتی ہے کیونکہ انھیں بہت سی انگریزی زبان آتی ہے۔ کیونکہ پاکستان کی دفتری زبان آج بھی انگریزی زبان  ہی چلی آرہی ہے۔ آپ کو کام کرنا آتا ہے یا نہیں انگریزی میں مضمون نویسی آنی چاہئے۔ آپ تحقیق کرسکتے ہیں یا نہیں، لیکن انگریزی آنی چاہئے۔ کیونکہ صلاحیتوں، قابلیتوں کی ضرورت نہیں بلکہ انگریزی مضمون نویسوں کی دفتروں میں ضرورت ہے۔ یعنی ہم نے آزاد خطہ حاصل کرلیا ہےلیکن سب حکومتی نظام، حکومتی مشینری یہاں تک کہ زبان میں اب بھی انگریز کی غلامی ہی کررہے ہیں۔ عدلیہ، فوج، بیوروکریسی، مقننہ یعنی پارلیمنٹ کی خط و کتابت، یہاں تک کہ وطن عزیز کا آئین سب انگریزی زبان میں ہیں اور پاکستان کے اعلی سیاسی و غیرسیاسی عہدیداران بھی لباس میں انھی ممالک کی نقل کرتے نظر آتے ہیں اور اسے معیوب نہیں سمجھا جاتا ہے۔

کیا پاکستانی ہونا گالی ہے؟۔۔۔

 جو ہم اپنے بچوں کو اپنی تہذیب نہیں سکھانا چاہتے تاکہ وہ اس گالی سے بچ سکیں۔ ہم کیا کررہے ہیں؟۔۔۔

دنیا میں کتنے ممالک میں ان کی اپنی قومی زبانوں کے ساتھ ایسا سلوک کیا جاتا ہے؟۔۔۔

پاکستان میں ہماری دفتری زبان آج تک انگریزی کیوں چلی آرہی ہے اور انگریزی کس بناء پہ لازمی مضمون ہے؟۔۔۔

ہم کیوں انگریزی زبان سے جان چھڑوا نہیں پارہے ہیں؟۔۔۔

ہم انگریزوں کی غلامی کی زنجیروں سے آزاد ہوکر اپنا تشخص کیوں بحال نہیں کرسکے؟۔۔۔

مجھے آج تک اس کا تسلی بخش جواب نہیں ملا۔۔۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!