پاکستان میں ذرائع ابلاغ

پاکستان میں اخبارات نے ماضی میں کافی حد تک جرات مندانہ اور منصفانہ کردار ادا کیا۔تحقیق و تبلیغ میں بھی اخبارات کا بہت مثبت کردار رہا۔  لیکن جیسے ہی پرویز مشرف دور میں غیر سرکاری ذرائع ابلاغ کو لائسنس ملے تو ایک نئے دور کا آغاز ہو گیا۔ کسی بھی کام  کسی نہ کسی ضابطے کا پابند ہوتا ہے۔ کوئی ضابطہ نہ بنایا گیا، اگر بنایا بھی گیا تو برائے نام ضابطہ تھایا کہہ لیں کہ وہ دو قومی نظرئیے کے مطابق نہیں تھا۔ بھارتی ذرائع ابلاغ پورے ملک میں چلائے گئے۔ بھارتی ذرائع ابلاغ کے ذریعے ہندوانہ رسومات اور رواجات ہمارے گھروں میں در آئے اور ساری قوم واہ واہ کرتی، ذرائع ابلاغ کی آزادی پہ خوش نظر آئی۔ نظریہ پاکستان سے ذرائع ابلاغ کا آج کل کوئی واسطہ ہی نہیں نظر آتا ہے۔

پاکستان ٹیلی ویژن ملک کا واحد برقی ذریعہ ابلاغ ہوتا تھا اور یہ حکومت پاکستان کے زیر انتظام تھا۔ 2002ء میں حکومت پاکستان کی اجازت ملنےکے بعد برقی ذرائع ابلاغ نے بہت ترقی کی اور پے در پے نئے نجی چینل آئے۔ اخبارات اور  برقی ذرائع ابلاغ دونوں میں تیزی سے ترقی ہوئی ہے۔ اس وقت پاکستان میں ایک سو کے قریب خبروں، کھیل، انٹرٹینمنٹ، ہیلتھ، ایجوکیشن، علاقائی، مذہبی اور موسیقی کے نجی برقی ذرائع ابلاغ موجود ہیں، جن کی نشریات چوبیس گھنٹے جاری رہتی ہیں۔ پاکستان میں زیادہ تر ذرائع ابلاغ کے نشریات اردو میں ہیں۔ تاہم ملک کے علاقائی زبانوں پشتو، پنجابی، سندھی، بلوچی، کشمیری، سرائیکی وغیرہ بھی موجود ہیں۔ پاکستان کے سب سے مقبول اردو ڈرامے ہیں جو پوری دنیا میں دیکھے جاتے ہیں۔

مذہب ہو یا فرقہ واریت یا معیشت یا خارجہ یا داخلہ یا کوئی بھی معاملہ ہو،  ذرائع ابلاغ سنسنی پھیلانے کا ہی کام کرتا ہے، جبکہ ذرائع ابلاغ کی ذمہ داری ہے خبر دینا۔ لیکن خبر کو سامنے لانے کا  ذرائع ابلاغ کا انداز سنسنی خیز ہوتا ہے۔ ذرائع ابلاغ پہ جھوٹ بولا جائے یا سچ کوئی نہیں روکتا۔ مذہبی امور پہ بات کرنے کیلئے اداکاروںو گلوکاروں کو بلا کر بٹھا دیا جاتا ہے۔ علماء کو عورتوں کے ساتھ بٹھا کر پروگرام کئے جاتے ہیں۔ ذرائع ابلاغ کوئی خبر نشر کریں توحکومت یا کوئی ادارہ ان سے خبر کے ذرائع کو نہیں جان سکتا۔ اس سے ثابت یہ ہوتا ہے ذرائع ابلاغ نے  ریاست میں ریاست قائم کی ہوئی ہے۔ آزادی اظہار رائے کے نام پہ جو ملک میں بے راہ روی کو فروغ دیا جارہا ہے وہ معاشرے کی تباہی کے ساتھ ساتھ ہماری اقدار کو بھی تباہ کررہا ہے۔ بقول علامہ اقبال

اس قوم میں ہے شوخی، اندیشہ خطرناک
جس قوم کے افراد ہوں ہر بند سے آزاد

گو فکر الٰہی سے روشن ہے زمانہ
آزادیٔ افکار ہے، ابلیس کی ایجاد

ذرائع ابلاغ کے اکثرپروگرام اسلامی احکامات اور پاکستان کی اساس کے برعکس ہوتے ہیں۔ لیکن کوئی ان کو روکنے ٹوکنے والا ہے ہی نہیں۔ پیمرا کو سینکڑوں شکایات موصول ہوتی ہیں، لیکن کوئی ایکشن ہی نہیں یا زیادہ سے زیادہ تنبیہہ کردی جاتی ہے۔ بس ایک ہی شور سننے میں آتا ہے کہ جمہوریت کو مضبوط ہونے دو۔ سیاسی پروگراموں میں ذرائع ابلاغ پہ میزبان اور مہمان سب اکثر جھوٹ بول رہے ہوتے ہیں اور بغیر ثبوت کے الزام لگا رہے ہوتے ہیں، جسے بہتان کہتے ہیں۔ یعنی  ذرائع ابلاغ پہ ہر طرح کا جھوٹ بولا جاتا ہے۔ ہم بحیثیت قوم  عذاب الہی کودعوت دےرہے ہیں۔ جس کا سبب  سیاستدان  اور ذرائع ابلاغ بن رہے ہیں۔ کیونکہ ذرائع ابلاغ پہ نام نہاد اینکر،دانشور، سیاستدان اور دیگر  جھوٹ بول رہے ہوتے ہیں۔ کوئی اعتراض کرتا ہے تو یہ لوگ ریٹنگ کا شور مچاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ عوام دیکھنا چاہتے ہیں۔

پاکستانی ذرائع ابلاغ پہ بہت سے صحافی اقرار کرچکے ہیں  کہ ہمیں اوپر سے ہدایات تھیں کہ کچھ سیاسی لیڈروں کی حمایت، تذکرہ بار بار کریں اور تشہیر کے ذریعے متعارف کروائیں۔ اس کیلئے صیہونی تنظیمیں، ذرائع ابلاغ کو پیسہ دیتی ہیں اور بسا اوقات اپنے مقاصد کو پورا کرنے کیلئے اپنے ممبران کے ذریعے پورا پورا چینل ہی خرید لیا جاتاہے۔ کچھ ایسے متنازعہ سیاستدان بھی ہیں جن کا بیرون ملک ذرائع ابلاغ میں موقف کچھ اور ہوتا ہے اور ملک کے ذرائع ابلاغ کے سامنے موقف کچھ اور ہوتا ہے۔ انھیں بھی یہ آئین اور قانون روکنے سے قاصر ہے۔ اسی تشہیر کے ذریعے مخالف سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں پہ بہتان لگائے جاتے ہیں۔ پھر ان کی تشہیر کرکے عوامی ہمدردیاں سمیٹی جاتی ہیں۔ جس میں آجکل کچھ سیاسی جماعتیں، ذرائع ابلاغ  اور سماجی تنظیمیں بھی صیہونی تنظیموں کی آلہ کار ہیں۔

چینلز پہ اکثر ہی سیاستدان کہہ رہے ہوتے ہیں کہ” وزیراعظم ، ملک کو مغل بادشاہوں کی طرح چلارہے ہیں” اگر تاریخ کا موازنہ کیا جائے توجمہوری صاحبان اقتدار، حزب اختلاف اور تمام جمہوری سیاستدانوں سے بہتر  مغل بادشاہ حکومت کرتے تھے۔ تاریخ ثابت کرتی ہے کہ رشوت ستانی، گرانی، ظلم و جور، ناحق قتل یا ڈاکہ زنی یا زنا بالجبر جیسے ظلم مسلمان بادشاہوں کے دور میں نہیں ملتے۔ بلکہ وہ انصاف پسند حکمران کہلانا پسند کرتے تھے۔ بادشاہوں کے ہاں ایک عہدہ بھی بے کار نہیں ہوتا تھا۔ بادشاہوں کے ہاں اقربا پروری نہیں ہوتی تھی۔ بادشاہ  انصاف دیتے تھے۔ معیشت بہترین سطح پہ اور قرض نہ لیتے تھے۔ ٹیکس نہ لگاتے تھے۔ مغل بادشاہوں کے دور میں ہندوستان کی جی ڈی پی پوری دنیا کا چوتھا حصہ سے بھی زیادہ تھی اور ریاست پہ ایک پیسے کا بھی قرض نہیں تھا۔ پورے ہندوستان میں ایک بھکاری نہیں ملتا تھا اور 85فیصد عوام پڑھی لکھی تھی۔ لیکن

"ذرائع ابلاغ اور پروپیگنڈہ کے ذریعے ہندوستان کو دنیا کا امیر ترین ملک بنانے  والے حکمران  نااہل، قاتل، لٹیرے اور ڈاکو بنا دئیے گئے”

  میری سمجھ کے مطابق دس فیصد بھی مغل بادشاہوں یا مسلمان بادشاہوں کی طرح آج کل حکومت نہیں چلائی جارہی بلکہ غیر مسلم آمر بادشاہوں کی طرح حکومت کی جارہی ہے اور عالم کفر کی پیروی کی جارہی ہے۔  مسلمان بادشاہوں کی تاریخ سے یہ جمہوری سیاستدان واقف ہی نہیں۔

ملک میں ایک لانگ مارچ جب لاہور سے نکلا تو سندھ کے وزیر نے ذرائع ابلاغ پہ آکر بیان دیا کہ یہ پنجاب کا لانگ مارچ ہے اور صرف پنجاب والوں کی خواہش پہ عدلیہ کو بحال تو نہیں کیا جاسکتا۔ پھر قومی / لسانی تنظیموں کی قیادت ذرائع ابلاغ پہ آ آ کرصوبائی تعصب پھیلانے لگ گئی اور ذرائع ابلاغ چٹ پٹا مصالحے دار کام کرتا جارہا تھا۔ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے جنگ لگ گئی ہے اور  میں دشمن ملک کا ذرائع ابلاغ دیکھ رہا ہوں جو ہمیں صوبائی تعصب میں دھکیلنا چاہ رہا ہے۔ 2014کے لانگ مارچ کے دوران بھی ذرائع ابلاغ نے بہت ہی منفی کردار ادا کیا اور ریاست کو کمزور کرنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی۔ یہ بھی نہیں دیکھا گیا کہ جو بیان ذرائع ابلاغ پہ دیا جارہا ہے اس کا نتیجہ کیا نکلے گا۔ دھرنوں میں ہونے والا ناچ گانا ذرائع ابلاغ پہ براہ راست دکھایا گیا۔  بے حیائی کو فروغ دینے میں بھی ذرائع ابلاغ نے کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا۔ میرا دل چاہ رہا تھا کہ جیسے ذرائع ابلاغ صوبائی تعصب پھیلا کر پاکستان میں انتشار اور فسادات پھیلانا چاہ رہا ہے اور اس کے امن  کو برباد کرنا چاہ رہا ہے،  میں اس ذرائع ابلاغ کو ہی برباد کردوں کیونکہ اس نے میرے ملک کی سلامتی پہ یلغار کردی تھی۔ یہ کس قسم کی آزادی اظہار رائے تھی، جس سے صوبائی تعصب پھیلانا مقصود تھا۔ لیکن ذرائع ابلاغ کو تو چٹ پٹے مثالے سے غرض ہے۔ پاکستان میں مجھے اس وقت احساس ہوا کہ یا تو ذرائع ابلاغ کو آزاد نہ کرتے اور اگر آزاد کرنا ہی تھا تو دوسرے ممالک سے ذرائع ابلاغ کی حدود و قیود کے تمام قوانین  لاکر پاکستان کے ذرائع ابلاغ پہ بھی  نافذ کئے جاتے اور نظریہ پاکستان کے مطابق ہی انھیں کام کرنے کی اجازت ہوتی۔

اخلاقیات کی تباہی کا یہ عالم ہے کہ بغیر ہاتھوں میں پکڑے تربوز کھانے کے مقابلے کروائے جارہے ہوتے ہیں۔ انعام گھر نما پروگراموں میں قوم کو انعامات کے حصول کیلئے بھکاری بنایا جارہا ہے۔ آپ ذرائع ابلاغ کا انداز ملاحظہ کریں کہ معلومات عامہ کے سوال کرنے کی بجائے، سوال کیا جاتا ہے کہ وہ کونسی مچھلی ہے جو نہ انڈے دے سکتی ہے اور نہ ہی تیر سکتی ہے؟ اور ساتھ ہی سکرین پہ ایک نمبر آ جاتا ہے کہ اس پہ میسج کریں، ہم آپ کو جواب دیں گے، کاروباری وقفہ کے بعد۔ طویل کاروباری وقفہ کے بعد جواب ملتا ہے، تلی ہوئی مچھلی۔ یعنی معلومات عامہ کا سوال نہیں تھا۔

آپ اداکاروں سے رمضان المبارک کی نشریات کروائیں۔ انعامات کیلئے شرم اور حیا کا جنازہ نکلوائیں۔ خواتین اور بچیوں سے ہر بے شرمی کا کام کروانے والوں کو سر پر بٹھائیں۔ لفظ مولوی، مولانا کو گالی بنا کر دین، اسلام، مذہب اور قرآن کو ذرائع ابلاغ، تعلیمی اداروں تک سے نکالنے کی کوششیں کریں اور پھر انتظار کریں کوئی حسن بصری اور امام بخاری پیدا ہوجائے؟۔۔۔ پھر ہم احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔ کچھ لوگوں کو بٹھا کر علماء کی تذلیل کروائی جاتی ہے۔ میں نے خود دیکھا کہ اینکر ایک مفتی صاحب کی بات کو بار بار ٹوک رہا ہے اور اعتراض برائے اعتراض کئے جارہا ہے۔ جیسے ہی وہ دوسرے مہمانوں کی جانب سوال کرتا ہے تو پہلے مہمان ہی کہتے ہیں کہ مفتی صاحب کی بات ٹھیک تھی اور وہ بہت ادب سے ان صاحب کی بات سنے جارہا ہے۔ کسی بھی عالم کے ساتھ ایسا سلوک کیا جارہا ہوتا ہے جیسے عالم بننا ایک جرم ہے اور دینی تعلیم حاصل کرنا گناہ ہے۔  پاکستان کے ذرائع ابلاغ کا یہ یک طرفہ جھکاؤ پاکستان کوتباہی کے دہانے پہ لے جا رہا ہے۔

مذہبی حوالوں سے متنازعہ افراد کو ذرائع ابلاغ نےضرور بلا کر نشریات کروانا ہوتی ہیں۔ جس سے عقائد پہ ضرب لگتی ہے۔ لیکن ذرائع ابلاغ کو روکنے کا کوئی نظام ہی نہیں ہے۔ ذرائع ابلاغ پہ بداخلاقی کی تمام حدیں ہی پار ہوچکی ہیں۔ کچھ تجزیہ کار اور سیاسی جماعتوں کے نمائندگان گالیاں تک نکال رہے ہوتے ہیں۔  بغیر تحقیق کے الزام لگائے جاتے ہیں۔ پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے۔ رمضان المبارک میں چند ذرائع ابلاغ کے علاوہ افطاری اور سحری کے موقع پہ نامحرم مرد و عورت بیٹھے مذہبی پروگرام کررہے ہوتے ہیں۔ چند علماء کو بھی مدعو کیا ہوتا ہے۔ جو سامنے بیٹھی، نامحرم عورتوں  کی اصلاح تو کر نہیں سکتے لیکن سامعین و ناظرین کی اصلاح کرنے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں۔  علماء کو بلاشبہ دینی علوم پہ عبور ہے لیکن انھیں دوسری عوام الناس کی نسبت زیادہ باعمل ہونا چاہئے۔ جس کامحاسبہ ضروری ہے لیکن پاکستان میں ایسا کوئی نظام موجود ہی نہیں ہے۔ جبکہ ذرائع ابلاغ پہ معتدل، متوازن حضرات کو پروگرام کا میزبان بنانا چاہئے اور تمام تر شرعی حدود کا پابند بنانا چاہئے۔ پاکستان میں کچھ ایسے  چینل بھی چل رہے ہیں جن میں بدعات کو فروغ دیا جارہا ہے۔ غیر تصدیق شدہ واقعات کو پیش کیا جاتا ہے۔ جس کو کنٹرول کرنے کیلئے کوئی پالیسی نہیں ہے۔ اب اسے علماء کی بے حسی کہیں یا حکومت کی لاپرواہی اور نظام حکومت کی نااہلی لیکن یہ ظلم ملک میں روا ہے۔

  اردو فلمی صنعت، لالی وڈکے صدر مقامات لاہور، کراچی اور پشاور میں واقع ہیں۔ لالی وڈ نے بہت سے فلمیں ریلیز کیں۔ دنیا کے ساتھ پاکستان کی نظریاتی جنگ میں کوئی کردار ادا نہیں کیا بلکہ اگر کہا جائے کہ عالمی پروپیگنڈہ کی رو میں پاکستانی برقی ذرائع ابلاغ کے ساتھ فلمی صنعت بھی بہہ گئی تو یہ غلط نہ ہوگا۔ جب ہرسطح پہ ذہنی غلامی ہو تو فلمی صنعت اور ڈرامے کی صنعت بھی غلام بن گئی۔ جبکہ مغرب اپنی رومن تہذیب پر فلمیں بنا کر اس پر فخر کرتا ہے۔ یہاں تک کہ بھارتی پدماوت،باہو بلی، پرتھوی راج چوہان، اور کنکشا پر فلمیں بنا کر اس پر فخر کرتے ہیں۔  لیکن ہمیں توفیق نہیں ہوتی کہ علاؤالدین خلجی، قطب الدین ایبک، اورنگزیب عالمگیر، محمود غزنوی، شہاب الدین غوری،یا شیر شاہ سوری پر فلمیں بنا کر اپنی تاریخ کو زندہ کریں ۔ حالانکہ یہ لوگ ان کے بادشاہوں اور جرنیلوں سے سینکڑوں گنا زیادہ عظیم شخصیات ہیں۔

ذرائع ابلاغ پہ نشر ہونے والے ڈراموں کی صورت میں جو قوم کی تربیت کی جارہی ہے ، وہ ایک شرمناک حقیقت  ہے۔ تاریخ دان یہاں خاموش تماشائی بنے ہیں یا سکتے میں ہیں؟ ۔۔۔آجکل رضیہ سلطانہ کے نام سے ایک بھارتی ڈرامہ سیریل پاکستان میں بھی دکھایا جارہا ہے۔ رضیہ سلطانہ، شمس الدین التمش کی بیٹی ہے۔ شمس الدین التمش نہایت نیک پرہیزگار، عادل اور عسکری ماہر بادشاہ گزرے ہیں۔ لیکن ڈرامے میں تمام اسلامی اقدار کو مسخ کرکے پیش کیا گیا ہے۔ اس پہ جرات یہ کہ پاکستانی ذرائع ابلاغ وہ ڈرامہ دکھا رہا ہے اور پیمرا بھی کوئی ایکشن نہیں لے رہا۔ اسی طرح ترکی کا مشہور ڈرامہ سیریل "میرا سلطان” ذرائع ابلاغ پہ چلایا گیا۔ یہ موجودہ تاریخ میں ذرائع ابلاغ کا ظلم ہے کہ ایسا عظیم حکمران، عظیم فاتح، منتظم، عسکری ماہر، موجد ، منصف جوکہ اپنے انصاف  اور قانون پسندی کی وجہ سے "سلیمان قانونی” کہلاتا تھا،  ڈرامہ سیریل میں اس کو ایک ملوکی بادشاہ بنا کر پیش کیا گیا ہے۔ جبکہ جو شخص گھوڑے کی پیٹھ سے نہیں اترا، اس کو ذرائع ابلاغ کے بنائے ہوئے ڈرامے میں محل سے باہر قدم رکھتے نہیں دکھایاجارہا۔دنیا میں تین افراد کو اقوام متحدہ کے مطابق گریٹ کہا گیا ہے۔ جن کے زیر نگیں دنیا کا زیادہ تر علاقہ رہا۔ سلیمان قانونی دنیا کے ان تین بڑے حکمرانوں میں شمار ہوتے ہیں، جنہیں "گریٹ” کہا جاتا ہے، یعنی دنیا کا کثیر علاقہ ان کی حکومتوں کے زیر اثر رہا ہے۔ پہلے سکندر اعظم ،  دوسرے امیرتیمور اور تیسرے امیر سلیمان قانونی۔وہ 1520ء میں مشرقی یورپ اور ایشیا کے بڑے علاقے فتح کرکے "سلطان سلیمان عالی شان” بنے۔ وہ پندرہ سال کی عمر میں گھوڑے پہ سوار ہوئے اور پوری عمر جہاد میں گزر گئی۔ اس ڈرامے کا مختلف زبانوں میں ترجمہ کرکے دنیا کے پندرہ ممالک میں دیکھایا گیا۔ ایسے ہی ایک ترکی کا ڈرامہ "کوسم سلطان” بنایا گیا۔ اس ڈرامے میں بھی بغاوتوں کو کچلنے سے لیکر محل اور حرم سے آگے نہیں دکھایا گیا۔ تاریخی ڈرامے بننے چاہئے جیسے "ڈیرلیس ارطغرل، پایہ تخت، کورلیش عثمان” وغیرہ لیکن تاریخ کو مسخ کرنے کی کسی کو اجازت نہیں ہونی چاہئے۔

ایسے ہی غیرمسلم ممالک کے ذرائع ابلاغ کی نقل میں برسرپیکار پاکستان کے موسیقی کے چینل تو آپ دیکھ ہی نہیں سکتے۔ بے حیائی سے بھرپور نشریات ہوتی ہیں۔ جبکہ گانے گانا، ناچنا، موسیقی اور یہ سب سننا تک اسلام میں حرام فعل ہیں۔

جولائی 2015ء کے آغاز میں ہی ایک پاکستانی شخص سعودی عرب میں قید ہوجاتا ہے۔ یوسف کذاب  نامی شخص، جس نے جھوٹی نبوت کا دعوی کیا، اس کا نائب، جانشین اورموجودہ  وارث "زید زمان حامد”جو کہ زید حامد کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یوسف کذاب کے گمنام قتل کے بعد زید زمان سے نام تبدیل کرکے نئی شناخت زید حامد کے ساتھ سامنے آیا۔ یہ شخص ذرائع ابلاغ پہ سیاسی تجزیہ کار ، دفاعی تجزیہ کار، مذہبی سکالر کا درجہ لئے ، حکومت، علماء  اور دیگر  کے خلاف بولے جارہا ہے۔ لیکن کوئی حکومتی ادارہ اس کو روکنے کا اختیار نہیں رکھتا۔ خفیہ ویڈیو بیان میں کہتا ہے کہ یوسف نے خلافت کا دعوی کیا تھا ، نبوت کا دعوی نہیں کیا تھا۔ اس کے ساتھ تعلق کو مانتا ہے۔ اس کے کیس کی پیروی کرنے کا اقرار کرتا ہے ۔ سعودی عرب میں جیسے ہی گرفتار ہوتا ہے تو الیکٹرونک اخبارات ویب سائٹ میں بہت واضح طور پر خبر آتی ہے کہ  "زید حامد کذاب کو سعودی عرب میں گرفتار کرلیا گیا”۔ اس سے پہلے سوائے علماء کے کسی جمہوری سیاستدان یا ذرائع ابلاغ نے  آواز نہ اٹھائی۔ بلکہ ذرائع ابلاغ اسے کوریج دے رہا تھا۔ سمجھ نہیں آتی کہ آخر متنازعہ شخصیات کو کیوں ذرائع ابلاغ پہ آنے کی اجازت دی جاتی ہے؟۔۔۔ کوئی ادارہ / کوئی عدالت / کوئی نظام یا کوئی قانون ایسے افراد  کو روکنے والا ہے؟۔۔۔ پاکستان کے نظام مغربی جمہوریت اور حکومت کے کیا ہی کہنے ہیں۔ اس شخص کی اپنی جماعت تک  ہے اور جگہ جگہ ریلیاں اور جلسے کرتا ہے۔  اس شخص کو یونیورسٹیوں میں مزاحمت کا سامنا رہا اور جوتیاں بھی پڑتی ہیں۔ مگر اللہ کی مار ہے، کہاں باز آتا ہے۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!