ذرائع ابلاغ کو کیا کردار ادا کرنا چاہئیے۔۔۔؟

پاکستان میں ضرورت اس امر کی ہے کہ اسلام اور نظریہ پاکستان کی تبلیغ کو شعبہ اطلاعات کے ذریعے بہتر بنایا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ کوئی اخبار، ٹی وی چینل، رسالہ بھی اسلام اور نظریہ پاکستان کے خلاف موقف نہ دے سکے۔ اسلام اور نظریہ پاکستان کے خلاف کسی قسم کی تشہیر / نشریات یا تبصرے کی صورت میں سخت سزائیں مقرر کی جائیں۔ ہر طرح کی تشہیر ی مہموں کے بے جا اخراجات کو کنٹرول کرنے کیلئے ایک پالیسی بنائی جائے۔ تشہیرکے ذریعے بے راہ روی  کی خاموش ترغیب کو روکا جائے۔ غلط یا مبہم رپورٹنگ پہ سخت سزا دی جائے اور صحافتی میدان میں نااہل قرار دیا جائے۔ الزامات اور بہتان پہ شرعی سزائیں دی جائے۔ ذرائع ابلاغ پہ محفوظ یا نشر شدہ بیان پہ صحافیوں، تجزیہ نگاروں اور سیاستدانوں کی کارکردگی کاتعین کیا جائے۔ اخلاقیات کا مظاہرہ کیا جائے نہ کہ جیسے اب بدتمیزی اور بد اخلاقی کا صحافتی ماحول پروان چڑھ رہا ہے۔ کالم نگار، تجزیہ نگار، اینکر، علماء، سیاستدان وغیرہ کا ذرائع ابلاغ پہ آنے کا معیار مقرر کیا جائے۔تاکہ ہمارے ملک کے ذرائع ابلاغ کو بالغ اور قابل اعتماد سمجھا جائے اور دنیا میں معتبر گردانا جائے۔

  ایسے ڈرامے اور فلمیں بنائی جائیں جو کہ دیکھنے والوں کی تعمیری اور اخلاقی تربیت کریں۔  معاشرتی اقدار کو بہتر کرنے میں ذرائع ابلاغ بہت بڑا کردار ادا کرسکتا  ہے۔ تاریخی حقائق پہ مبنی ڈرامے بنائے جائیں۔ اسلامی حکومتوں کے اہم تاریخی کرداروں کو اجاگر کیا جائے۔ ان سب اقدامات  کیلئے پالیسی مرتب کی جائے۔ خیال رکھا جائے کہ ذرائع ابلاغ کسی بیرونی روابط اور فنڈنگ میں ملوث نہ ہوں۔ بیرون ملک نشریات پہ بھی نظر رکھی جائے اور جو بھی ذرائع ابلاغ مملکت اسلامیہ پاکستان کے قوانین کی پاسداری نہ کریں ان کو وارننگ دی جائے اور دوبارہ ایسا کرنے پر نشریات بند کردی جائیں اور جرمانے کے بعد دوبارہ ایسا کرنے پہ لائسنس منسوخ کردیا جائے۔ بین الاقوامی میڈیا کیلئے بھی حدود و قیود طے کی جائیں اور خیال رکھا جائے کہ کسی طرح سے بھی حساس معلومات تک ان کی رسائی ممکن  نہ ہوسکے۔ حساس یا خفیہ معلومات نشر کرنے والوں کو اور ان تک رسائی دینے والوں کو سخت سزائیں دی جائیں۔ تاکہ وطن عزیز کا وقار بلند ہو۔

نیوز ذرائع ابلاغ پہ  مثبت تعمیری مباحثے کے پروگرام ہوں۔ مثال کے طور پہ معیشت دانوں کو بلایا جائے اور وہ بتائیں کہ فی الحال ایسی پالیسیاں بنائی جارہی ہیں اور ان کے یہ مثبت اثرات آئیں گے، اس کی نسبت اس طرح کی پالیسی سے زیادہ بہتر نتائج مرتب ہوسکتے ہیں۔ مثبت اختلاف رائے کا حق عام کیا جائےتاکہ مثبت تعمیری نتائج آئیں۔ ایسے ہی معیشت دانوں ، وکلاء، ڈاکٹرز، انجینئرز، سائنسدانوں، عسکری ماہرین، زرعی ماہرین کو بلایا جائے اور وہ آپس میں بہترپالیسی کی نشاندہی کریں۔ اس طرح کے مباحثوں سے طلباء کو بھی فائدہ ہوگا اور جدت  بھی آئے گی اور تحقیقات کے نئے دروازے کھلیں گے۔ ارباب حکومت بھی اس طرز کے بحث مباحثوں  سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔ جبکہ ابھی صرف گالم گلوچ اور بے جا بحث مباحثےکے علاوہ کوئی کام نہیں ہورہا۔ جو کہ اسلامی اقدار کے بالکل خلاف ہے۔

چند پروگرام جدید ٹیکنالوجی پہ بھی چل رہے ہیں۔ ان کی تعداد بڑھائی جائے۔ یونیورسٹیوں کے تدریسی تعلیمی پروگرام کو بھی وقت دیا جائے۔

خواتین معاشرے کا اہم ترین فرد ہیں۔ان کیلئے مختلف مثبت رحجانات کے پروگرام بنائے جائیں۔ خواتین انٹرٹینمنٹ یا دکھاوے کیلئے نہیں ہیں۔ ان کا احترام اور وقار ہر سطح پہ بالخصوص ملحوظ رکھا جائے۔ ان کے وقار اور کردار کو بلند کرنے کے پروگرام بنائے جائیں۔  بچوں کیلئے تعمیری پروگرام تشکیل دئیے جائیں۔ جن سے آنے والی نسل  کی سوچ کو مثبت سمت دی جاسکے۔ بچوں کیلئے ایسے پروگرام بنائے جائیں جن سے ان کو غیرمحسوس طریقے سے درس و تدریس ہوسکے۔ تاکہ و ہ اعلی اخلاق اور تعلیم کے حامل بن سکیں۔ مذہبی تبلیغ و تربیت کے پروگرام ہوں جن میں علماء اکرام تشریف لائیں اور عوام الناس کو حقوق اللہ اور حقوق العباد کی  آگاہی دیں اور ان میں تمام شرعی حدود کو مدنظر رکھا جائے۔ فسادات، گروہ بندی، فرقہ واریت کو پھیلانا اور کسی کی تذلیل کرنا، قابل تعزیر جرم ہے، اس پہ شرعی سزائیں دی جائیں۔  خواتین کیلئے، آج کل بہت اچھے ذرائع ابلاغ بھی ہیں، جن کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ جبکہ ان ذرائع ابلاغ پہ خواتین کو صرف بناؤ سنگھار کرنا سیکھایا جارہا ہے۔

ذرائع ابلاغ پہ نشر ہونے والے ڈرامہ یا فلم میں یہ بھی دکھایا جاسکتا ہے کہ کیسے ایک بندہ پڑھائی میں محنت کرتا ہے، والدین، بزرگوں کی عزت کرتا ہے۔ حقوق العباد کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ حقوق اللہ نماز، روزہ کی ادائیگی کی فکر کرتاہے۔ علماء سے مسائل کے بارے میں پوچھتا ہے۔ غیبت ، حسد، جھوٹ جیسی برائیوں سے بچتا ہے۔ جسمانی ورزش، کھیل کود میں حصہ لیتا ہے۔ اپنی کمزوریوں کو اپنی کامیابیوں کے آڑے نہیں آنے دیتا۔ پھر کاروبار کرنا سیکھتا ہے یا ایمانداری سے ملازمت کی ذمہ داریاں پوری کرتا ہے۔ اپنی زندگی کے اہداف متعین کرتا ہے اورہر قدم پہ اللہ سے مدد مانگتا ہے اوراپنی زندگی کےاہداف کو حاصل کرلیتا ہے۔ مشکل اوقات میں صبر سے کام لیتا ہے۔ تعلیم، محنت، اخلاق اور دین پہ عمل کرکے ایک کامیاب زندگی گزارتا ہے۔ ایسی مثبت ترغیبات سے معاشرے کا ماحول  بہتر ہوسکتاہے۔ جس میں ذرائع ابلاغ بہت اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

اللہ کریم نے ہر انسان کے اندر برائی اور اچھائی کی پہچان کرنے کی صلاحیت رکھی ہے۔ لیکن اگر تعلیم و تبلیغ اور ترغیب کا عمل رک جائے تو معاشرے کی اکثریت دین الہی سے دور ہوتی جاتی ہے۔ اس لئے ہر سطح پہ علماء کی موجودگی لازمی ہے تاکہ عوام تک اللہ کے احکامات پہنچتے رہیں اور عوام الناس ان پہ عمل پیرا رہیں۔  اسلام ایسا معاشرہ دینا چاہتا ہے کہ ہر انسان اچھائی ہی کر طرف راغب ہو۔ جس میں ذرائع ابلاغ ہر عمر کےطبقے کو مثبت رحجان دینے میں ایک اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

کھیلوں کے  چینل ہمیں ایک صحت مند معاشرہ دے سکتے ہیں۔ جو کہ وقت کی بہت اہم ضرورت ہے۔ کھیلوں کے فروغ کے ساتھ ساتھ ذرائع ابلاغ بھی ان کو بھرپور نشریات دیں۔ ہر مقامی کونسل کی سطح پہ کم از کم ایک کھیل کا میدان موجود ہونا چاہئے۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!