نفاذ اسلام اور ہماری ذمہ داریاں

احکامات الہی کی عدم ادائیگی کے اثرات پوری کائنات پہ جاتے ہیں۔ اس حدیث مبارک سے ان اثرات کو سمجھایا گیا ہے۔ نماز جو کہ بدنی عبادات ہے، کہ نہ کرنے سے دوسری مخلوق پہ افتاد وارد ہوتے ہیں۔  جب حقوق اللہ کی عدم ادائیگی کا یہ نتیجہ نکلتا ہے تو حقوق العباد کی عدم ادائیگی سے معاشرے میں کیا افتاد آتی ہوں گی۔  اجتماعی ذمہ داریاں، جس سے دوسری مخلوق بھی بالواسطہ متاثر ہوتی ہے، دوسروں کے حقوق  نہ ادا کریں تو اللہ تعالی کو کتنا نا پسند ہے۔ زمین کا وجود ، اللہ نے انسان کے وجود سے برقرار رکھا ہوا ہے۔ پوری کائنات انسان کی خدمت میں لگی ہوئی ہے۔ لیکن انسان اگر اللہ کی اطاعت نہیں کرے گا تو وہ خدمت جو اللہ کی رحمت کی ایک شکل ہے، سے محروم ہوتا چلاجائے گا ااور خود ہی وہ اپنی بقاء کو خطرے میں ڈال لے گا۔

شریعت کی رو سے قرآن و سنت پہ عمل  کرنے  اور نافذ کرنے کی کوشش کو جہاد کہتے ہیں۔ جہاد ، جہد سے نکلا ہے اور جہد کا مطلب ہے کوشش۔ نبی کریمﷺ جب غزوہ احد کے میدان جنگ سے ریاست مدینہ میں واپس تشریف لائے تو فرمایا کہ ہم جہاد اصغر سے جہاد اکبر کی طرف آ گئے۔ نبی کریمﷺ نےیہ ایک غزوہ سے واپسی پہ ریاست مدینہ  میں فرمایا۔ معاشرے میں رہتے ہوئے احکامات الہی پہ عمل کرنا جہاد اکبر ہے۔ حضرت مولانا امیر محمد اکرم اعوان رحمۃ اللہ علیہ  جہاد اکبر کے بارے میں فرماتے ہیں۔

"زندگی کا ہر لمحہ اللہ کی نافرمانی سے بچنا، اللہ کی اطاعت و فرمانبرداری کیلئے کوشاں رہنا اور اپنے آپ کو اس کے احکام کیلئے مجبور کردینا، جہاد اکبر ہے”

ایک اور موقع پہ  مفسر قرآن، حضرت مولانا امیر محمد اکرم اعوان رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا۔

"کافر سے میدان جنگ میں مقابلہ تو کبھی کبھی ہوتا ہے لیکن شیطان اور طاغوتی طاقتوں سے مقابلہ ہر آن جاری رہتا ہے اور
 اسے ہی حضورﷺ نے جہاد اکبر قرار دیا ہے”

مفسر قرآن، حضرت مولانا امیر محمد اکرم اعوان رحمۃ اللہ علیہ نے عسکری جہاد کے بارے میں فرمایا۔

"جہاد کا معنی قتل کرنا نہیں ، جہاد کا معنی ہے، ظلم و زیادتی روکنا اور عدل و انصاف قائم کرنا۔
 نیز عسکری جہاد اس ادارے کی ذمہ داری ہےجو معاشرے کا انتظام کرتا ہے، جسے حکومت کہتے ہیں”

جہاد کا مفہوم بہت وسیع ہے۔

میں اپنے وجودپہ اسلام کے نفاذ کی کوشش کرتا ہوں تو یہ بھی جہاد ہے۔

میں اپنے گھر میں اسلامی احیاء کے نفاذ کی کوشش کرتا ہوں تو یہ بھی جہادہے۔

ملک پہ قرآن و سنت کےمطابق نظام کے نفاذ کی کوشش بھی جہاد ہے۔

اسلام کے فروغ کی  تبلیغ /کوشش کرنا بھی جہاد ہے۔

روئے زمین پہ اسلام کے نفاذ کی کوشش کرنا بھی جہاد ہے۔

کسی کو برائی سے منع کرنا بھی جہاد ہے۔

کسی کو نیکی کی دعوت دینا بھی جہاد ہے۔

فساد کو ختم کرنا بھی جہاد ہے اور امن کیلئے کوشش کرنا بھی جہاد ہے۔

دشمن کے خلاف سرمیدان لڑنا بھی جہادہے۔

الغرض اللہ کے احکامات کی بجاآوری  ہی دراصل جہاد ہے۔

ہمیں جہاد کی ضرورت ہے۔ اس کا مطلب ہر گز یہ نہ ہے کہ ہم اسلحہ اٹھا لیں۔ عسکری جہاد، قتال کی اجازت صرف اسلامی ریاست کو ہے۔ ہمیں اپنے وجود، گھر پہ اسلامی احکامات نافذ کرنے ہیں۔ اگر ہم زیادہ کوشش نہیں کرسکتے تو اتنا تو کرسکتے ہیں کہ ہم جہاں بیٹھیں قرآن و سنت کے نفاذ کی بات کریں۔ دوسروں تک یہ پیغام پہنچائیں۔

لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ۔۔۔ وہ کلمہ ہے جس کے معانی اور حقیقت کفار مکہ  جانتے تھے، ہم نہیں جانتے۔ کفار مکہ بھی  رب کعبہ کو مانتے تھے، اللہ کےہونے پہ اختلاف نہیں کیاتھا۔ لیکن انھیں یہ پتہ تھا کہ موجودہ نظام نہیں رہے گا۔ من مانی نہ رہے گی۔ وہی ہوگا جو اللہ کا حکم ہوگا اور اللہ کے رسول ﷺ  فرمائیں گے۔ انھیں مکہ کی تعمیر کے وقت یہ بھی پتا تھا کہ اگر اللہ ہم سے خوش نہ ہوئے تو ہم کعبہ کی تعمیر نو نہ کر سکیں گے، بلکہ عذاب الہی کا شکار ہوجائیں گے۔انھین یہ بھی معلوم تھا کہ ہم نے صرف حلال رزق سے ہی خانہ کعبہ کی تعمیر کرنی ہے۔ انھیں ہاتھیوں کے لشکر کا انجام بھی یاد تھا جو خانہ کعبہ پہ حملہ آور ہونے آئے تھے۔ ان میں ایسے لوگ  بھی موجود تھے جو خانہ کعبہ میں کفار مکہ سے کہتے تھے کہ ہمیں نہیں پتا کہ اللہ کی عبادت کیسے کرنی ہے اور اللہ کو کیسے خوش کرنا ہے؟ ۔۔۔  لیکن جو تم کررہے ہو اس سے اللہ خوش نہیں ہوتا۔ انھیں اللہ کی وحدانیت کا پتہ تھا لیکن پھر بھی اکثریت نے خانہ کعبہ میں بت رکھے ہوئے تھے۔ یہی انسانیت کی سوچ کی حد ہے۔ لسانی ، جغرافیائی تقسیم میں قومیں زوال پزیر ہوجاتی ہیں۔ اللہ کے احکامات لے کر ہی اللہ کے آخری نبی ﷺ  مبعوث ہوئے۔ انھیں کسی طور بھی نبی کریم ﷺ کے سچے ہونے پہ بھی شک نہ تھا۔ لیکن اصل معاملہ یہ تھا کہ وہ اس کلمے پہ ایمان لانے کا مطلب جانتے تھے کہ اب ہر کام اللہ کی مرضی کے مطابق ہوگا۔ ذاتی معاملات سے خانگی معاملات تک، معیشت، عدل، سیاست، معاشرت سب کام اللہ کی مرضی سے ہوں گے۔ اور وہ اپنی مرضی کی من مانیاں کرنا چاہتے تھے۔ انھیں پتہ تھا کہ یہ کلمہ پڑھ لینے کا مطلب اطاعت پیغمبر ﷺ ہے۔ ان کا بھی خیال تھا کہ ہم یہ سب روک لیں گے۔ لیکن وہ ناکام رہے۔ ایسے ہی آج کی سپر پاور اور معاشی طاقتیں اسلام کو غالب آنے  سے نہیں روک سکیں گی ۔ لیکن کامیابی تب ہی نصیب ہوگی جب ہم محمد رسول اللہ ﷺ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق حالات کو بدلیں گے۔

ہم جو بھی سوچتے ہیں اس میں پہلے اپنے مفادات سامنے رکھتے ہیں۔ اللہ تعالی نے جو احکام دئیے وہ اس طرز پہ دئیے کہ کسی کی حق تلفی نہ ہو۔ متوازن معاشرہ سامنے آسکے۔ سب کا فائدہ ہو۔ جبکہ دنیا کے تمام مذہب اور نظام میں توازن نہیں ہے۔کہیں امراء ریاست کا فائدہ مدنظر ہوتاہے، کہیں ذات کا اور کہیں صرف ریاست کا۔لیکن اسلام میں اللہ  نے سب کچھ ایسا توازن میں کردیا ہے کہ سب کا ہی فائدہ ہوتاہے۔

ہم ایک ایسے ملک میں ہیں جہاں مسلمان بستے ہیں اور حکمران بھی مسلمان ہیں۔ ہم اللہ کو مانتے ہیں لیکن اللہ کی نہیں مانتے۔ نظام حکومت اسلام کا نافذ نہیں ہے۔لیکن اس سب کے باوجود، اللہ کا ہم پہ اتنا بڑا احسان ہے کہ ارکان اسلام  پہ عمل کے معاملے میں ہمیں کوئی تکلیف نہیں ہوتی ۔ جیسے جیسے تکبیر اولی کیلئے دیر ہو، آخری صفوں میں یا جوتیوں میں نماز کی ادائیگی کیلئے جگہ ملتی ہے۔ مسجدوں میں جگہ نہیں نماز کے وقت لیکن اس سب کے باوجود جنازہ تک کیلئے ہمیں ایک عددامام  چاہئے۔ جبکہ  یہ اسلامی تعلیمات کی اصل روح نہیں ہے۔ اسلام میں تو ولی جنازہ پڑھائے یا اس کی اجازت سے ہی کوئی نیک آدمی جنازہ پڑھا سکتا ہے۔ لیکن ہم میں اتنی استطاعت ہے ہی  نہیں کہ ہمیں اپنے والد کا  جنازہ  پڑھانا ہی آتا ہویہاں تک کہ اپنے  نومولود بچے کے کان میں اذان و تکبیر نہیں دے سکتے، اپنے بزرگوں کو ایصال ثواب نہیں کرنا آتا۔ ہم اسلامی تعلیمات کے فروغ کیلئے کوئی کام نہیں کررہے۔ ہم اپنے گھر میں اسلام نہیں نافذ کرتے۔  لیکن اسلام کے بارے میں کوئی بات ہو تو فورا بغیر کسی تحقیق کے رائے دینا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ اسلام ہمارا مذہب ہے لیکن ہم نے کتنی دینی تعلیم حاصل کر رکھی ہے؟۔۔۔ ہم قرآن مجید کی آیات یا احادیث مبارکہ کا ترجمہ کرنے کی صلاحیت تک نہیں رکھتے۔ پھر فقہ ایک فن ہے، جسے اساتذہ سے سیکھنا پڑتا ہے۔ یہ تو ایسا ہی ہوا کہ پیدائشی اندھا، نظر آنے والوں کے بیچ میں انھیں یہ سمجھا رہا  ہو کہ سامنے نظر آنے والی عمارت کیسی شاندار ہے۔ چاند کیسا دکھتا ہے اور پہاڑ کیسے  بلند ہیں۔بھینس اور گائے میں کیا فرق  ہے ۔ وہ سنی سنائی بات تو آپ تک پہنچا سکتا ہے ۔ لیکن وہ ہرگز آپ تک آنکھوں دیکھا تجربہ یا حال نہیں بیان کرسکتا۔اب جس نے کبھی دین میں تحقیق ہی نہیں کی، وہ بھی  دین میں رائے زنی کررہاہے اور اپنی بات منوانے پہ اڑا ہوا ہے۔ جب کہ ڈاکٹر حضرات آپس میں طب پہ بحث کریں تو وہ ڈاکٹرحضرات کسی حتمی نتیجے تک پہنچیں گے۔ لیکن طب سے ناواقف شخص طب پہ بحث نہیں کرسکتا۔ اور کجا یہ کہ وہ اپنی کسی دوسرے سے اپنی رائے کو منوائے۔

پاکستان کے عوام کے ذہنوں میں جمہوریت کو کوٹ کوٹ کر بھرنے کی کوشش کی گئی۔ جس میں ذرائع ابلاغ اور سیاستدانوں کا بہت بڑا کردار رہا۔ لیکن عوام و خواص کو اس نظام سے بیزار ہی دیکھا۔ذاتی مفادات ہی ایک وجہ ہے کہ اسلام کے نام پہ قائم ہونے والے ملک میں کچھ مغربی جمہوریت پسند سیاستدان بھی پیدا ہوگئے۔  ان مغربی جمہوریت پسند لوگوں میں ایک ذہنی اختراع یہ ہے کہ جج کی جگہ پہ قاضی اور صدر کی جگہ پہ امیر المومنین بنا دیا جائے گا۔جبکہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن صرف اسلام مخالف  ذہن سازی کےلئے ایسے حربے استعمال کئے جاتے ہیں۔ تصور یہ دیا جاتا ہے کہ بادشاہ سلامت بن کے بیٹھ جائیں گے  اور جیسا چاہیں گے حکم چلائیں گے۔ تاثر یہ دیا جاتا ہے کہ نان کوالیفائیڈ/نان پروفیشنل لوگ بٹھا دئیے جائیں گے جن کو قرآن و سنت کے سوائے کسی بات کا پتہ نہ ہوگا اور وہ عجیب و غریب فیصلے کریں گے۔ لیکن یہ سب ایسا نہیں ہے۔ یہ سب اسلامی نظام حکومت کے خلاف ایک پروپیگنڈا ہے۔ اسلام صرف اہل لوگوں کو ہی ذمہ داری سونپتا ہے۔ہم تاریخ کا مطالعہ کریں تو ہم دعوی سے کہہ سکتے ہیں کہ مسلم  بادشاہوں کی حکومتیں آج کی حکومتوں  سےبہت بہتر تھیں۔ کیونکہ باصلاحیت اور قابل لوگوں کو ذمہ داریاں دی جاتی تھیں۔

اسلام کے آنے سے پہلےبھی دنیا میں ریاستیں تھیں اور نظام حکومت بھی قائم تھے۔ قیصر کے ایک ایک گورنر کے پاس لاکھوں فوج ہوتی تھی۔ لیکن نہ خوشحالی تھی نہ عدل تھا۔ اسلام کے معاشی نظام نے دولت کے ارتکاز اور اجتماع سے روک کر خوشحالی دی۔  اسلام نے عدل دیا۔ اسلام نے معاشرت دی، اسلام نے جدت دی، اسلام نے سوچنے کی صلاحیت دی۔ اسلام نے ہر ایک کو آزادی دی، اسلام نے ایک مکمل نظام دیا۔ جو آپ کی تنہائیوں سے لیکر خلافت تک کے معاملات تک رہنمائی کرتا ہے کہ آپ کو کیا کرنا چاہئےاور آپ کو اس کے  فوائد سے بھی آگاہ کرتا ہے۔مغربی جمہوریت کے آنے سے پہلے بھی اسلامی ریاستیں موجود تھیں۔ غیرمسلم حکومتوں اور مغربی جمہوریت سے بہتر کام کررہی تھیں۔ بادشاہ کوئی ٹیکس نہ لگاتے تھے۔ نہ ہی بد امنی ہوتی تھی۔ کوئی قرضوں کا بوجھ عوام کے کندھوں پہ نہیں لادا جاتا تھا۔ نہ ہی قومیں مقروض ہوتی تھیں۔ امن و امان خراب ہوجانے کی صورت میں لوگ مسلم بادشاہ کے محلات کو محفوظ گردانتے ہوئے ان کے قریب چلے جاتے تھے۔  جدید علوم پہ تحقیقی ادارے موجود ہوتے تھے۔ تجربہ گاہیں موجود ہوتی تھیں۔ تعلیمی ادارے موجود ہوتے تھے۔ جن سے معمار، قاضی، سپہ سالار اور ہر شعبے کے لوگ مہیا ہوتے تھے۔ لیکن وہ رعایا  قرآن و سنت سے بھی واقف ہوتی تھی اور انھیں اپنے متعلقہ شعبہ پہ بھی اتنا عبور حاصل ہوتا تھا کہ آج تک تمام علوم مسلمانوں نے ہی ریسرچ کرکے دنیا کو دئیے۔

دین اسلام کو اللہ کریم نے پوری روئے زمین اور رہتی دنیا کیلئے ،آخری نبی ﷺکے ذریعے عطا کیا ہے۔دین اسلام میں ہر بندے کے مزاج کے مطابق اس کو ذمہ داری دی جاتی ہے۔ جتنا کوئی بوجھ اٹھا سکتا ہے، اتنی ہی ذمہ داری دی جاتی ہے۔ یہ معیار ایسا ہے کہ خالد بن ولید کو جرنیل بنایا جاتا ہے ،کہ جنگ  کا پانسہ ہی بدل دیتے ہیں، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ  کو فقیہہ مقرر کیا جاتا ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو حضرت عمر فاروق مدینہ منورہ کا قاضی مقرر کرتے ہیں اور حضرت عثمان غنی کی شہادت کے بعد وہ امت مسلمہ کی خلافت کی باگ دوڑ سنبھالتے ہیں۔ اسلام کے نظام حکومت میں جو شخص جس اہل ہوتا ہے ، اسے وہیں تعینات کیا جاتاہے۔

ایک اعتراض یہ بھی کیا جاتا ہے، جب اسلام کے نفاذ کی بات کی جائے  تو اکثر دین سے ناواقف  لوگ یہ ضرور سوال کریں گے کہ کونسا اسلام؟۔۔۔  سعودیہ، ایران ، عراق، مصر ، لیبیا ، کونسا اسلام  آپ نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ جبکہ یہ بحث نہیں کرتے کہ صدارتی، پارلیمانی، بادشاہی، آئینی۔۔۔ کون سی جمہوریت ؟۔۔۔ جمہوریت میں امریکہ کا نظام صدارتی ہے ۔ برطانیہ کا بادشاہی جمہوری ہے۔ برطانیہ میں کوئی آئین ہی نہیں۔ وہ پوری حکومت کو مختلف Lawsپہ چلارہے ہیں جن میں ایک "عمرؓز لاء Umar’s Law "ہے۔ فرانس کی جمہوریت کے ضابطے الگ ہیں۔ سوئٹزرلینڈ میں جمہوریت کے ضابطے الگ ہیں۔ لیکن جب اسلام کی بات آتی ہے تو کونسا اسلام؟۔۔۔ جبکہ ہمارے پاس آئین قرآن و سنت ہے لیکن  اسلام کی قسمیں نہیں ہیں۔ اسلام وہی ہے جو اللہ کے آخری نبی، محمد رسول اللہﷺ نے عطا کیا۔ صحابہ اکرام نے عمل کیا اور عملی طور پہ خلافت راشدہ کی صورت میں اسلام نظام حکومت کو چلایا۔

فکر و تدبر کی بات یہ ہے کہ کیا ہمارے وطن عزیز  کا آئین "قرآن و سنت” ہے ؟۔۔۔

کیا ہم نے آئین کی کتاب کو قرآن و سنت سے زیادہ اہمیت نہیں دے رکھی؟۔۔۔

اسرائیل کا آئین” تورات” ہے۔ جبکہ تورات اصلی حالت میں بھی نہیں ہے، تحریف شدہ ہے۔ اسرائیلیوں  کا اپنے آئین کے بارے میں موقف ہے کہ ہم کوئی ایسی کتاب تخلیق نہیں کرنا چاہتے، جس کی حیثیت تورات سے بڑھ جائے۔

جبکہ ہم میں سے ہر مسلمان کی خواہش ہے  کہ

ہماری حکومتیں حضرت ابوبکر صدیق  رضی اللہ عنہ کی حکومت جیسی ہوں،

 اور حکمران عدل فاروقی کررہے ہوں  اور حکمرانوں کا رویہ  حضرت عثمان رضی اللہ عنہ جیسا ہو،

اور حکمرانوں میں علم و فراست حضرت علی رضی اللہ عنہ جیسی ہو،

 اور سپہ سالار اعظم، سیف اللہ، حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ جیسے ہوں۔

لیکن ہم بحیثیت رعایا صحابہ /تابعین یا تبع تابعین جیسا نہیں بننا چاہتے۔

ہم جینا تو مادرپدر آزاد مغربی طرزامریکہ ، یورپ میں چاہتے  ہیں، لیکن مرنا خانہ کعبہ میں چاہتے ہیں اور دفن جنت البقیع میں ہونا چاہتے ہیں، قبر میں سکون اور قیامت کے دن عرش کا سایہ اور جنت میں مزے کرنا چاہتے ہیں۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ  جب ہم اللہ تعالی کے دین کو اپنی انفرادی زندگی سے لے کر اجتماعی زندگی میں نافذ نہیں کریں گے تو کیسے ممکن ہے کہ ہم دنیا سے اللہ کے حضور  کامیاب چلے جائیں؟۔۔۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اسلام کو سمجھیں ، تحقیق کریں اور عمل کریں۔ علامہ اقبال نے فرمایا تھا۔

یہ حکمت ملکوتی، یہ علم لاہوتی
حرم کے درد کا درماں نہیں تو کچھ بھی نہیں

یہ ذکر نیم شبی، یہ مراقبے، یہ سرور
تیری خودی کے نگہباں نہیں تو کچھ بھی نہیں

یہ عقل ، جو مہ و پرویں کو کھیلتی ہے شکار
شریک شورش پنہاں نہیں تو کچھ بھی نہیں

خرد نے کہہ بھی دیا "لاالہ” تو کیا حاصل
دل و نگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں

عجب نہیں کہ پریشاں ہے گفتگو میری
فروغ صبح پریشاں نہیں تو کچھ بھی نہیں

  • کیا ہم اب یہ نہیں سوچیں گے کہ اپنی اگلی نسلوں کو کس طرح کے ماحول میں چھوڑ کے جانا چاہتے ہیں ؟۔۔۔
  • کیا ہم اپنے بچوں کو حالات کی بے رحم لہروں کے سہارے پہ چھوڑ کر جائیں گے؟۔۔۔
  • یا اللہ کی رحمت کے سایہ میں، اپنے بچوں اور آنے والی نسلوں کو چھوڑیں گے؟۔۔۔
  • ہمیشہ ہر قدم پہ دو ہی راستے ہوتے ہیں، اللہ کا بتایا ہوا رستہ یا غیر اللہ کا رستہ۔۔۔ آج ہمارے سامنے بھی دو ہی راستے ہیں۔

"فیصلہ میرے ہاتھ میں ہے،

 فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے،

 فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے”

آئیں ہم من حیث القوم، توبہ کریں اور اپنی اصلاح کرلیں، صراط مستقیم پہ آجائیں۔ اللہ تعالی ہم پہ اپنا خصوصی رحم کریں اور ہمارے ملک پہ اللہ تعالی کے عطا کردہ نظام کا نفاذ ہو جائے۔ اللہ قادر ہے کہ موجودہ حکمران اسلام نافذ کردیں ۔ اگر یہ نہیں کریں گے تو بحکم الہی ایسے لوگوں کو خود بخود توفیق مل جائے گی ۔ جن کے دل میں حق ہوگا اور انسانیت کا درد ہوگا وہ اسلام نافذ کردیں گے۔ ورنہ ہم اللہ کی راہ میں کوشش کرتے کرتے اگر طبعی موت بھی مریں گے تو قیامت کو اللہ تعالی کے حضور عرض کرسکیں کہ

” یا اللہ مجھ میں جتنی ہمت اور اختیار تھا، میں نے کوشش کی، آپ اپنے خصوصی فضل و رحمت سے اس کوشش کو قبول فرمائیں "

اللہ کریم ہم سب کی خصوصی مدد فرمائیں اور ہمیں زیادہ سے زیادہ صراط مستقیم پہ چلنے کی توفیق عطا فرمائیں۔۔۔ آمین

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!