مسئلہ کشمیر

دنیا میں، فلسطین میں آزادی کی جنگ ہو یا تحریک آزادی ءکشمیر، عوام اور ذرائع ابلاغ میں  تذکرہ رہتا ہے۔ ہم اہل کشمیر کو بھارت کے چنگل سے آزاد کروانا چاہتے ہیں، تاکہ وہ پاکستان کا حصہ بن کے رہ سکیں۔ لیکن یہاں بھی ایک مسئلہ آتا ہے کہ  بھارت میں بھی وہی قوانین ہیں جو کہ پاکستان میں ہیں۔ پاکستان میں بھی وہی نظام حکومت ہے جو بھارت میں ہے۔ بلکہ دونوں ملکوں کی بیوروکریسی قوانین کو تشکیل دینے کیلئے ایک دوسرے کے قوانین کا جائزہ لیتی ہے۔ بھارت نے جوناگڑھ، منگرول اور مناوادر پہ فوج کے ذریعے غاصبانہ قبضہ کرکے ان کی متنازعہ حیثیت کو ختم کیا لیکن اگر پاکستان نے گلگت بلتستان کے عوام کی آزادانہ مرضی سے گلگت بلتسان کی متنازعہ حیثیت ختم کرکے اسے پاکستان کا حصہ قرار دیا تو بھارت نے وہی کام مقبوضہ کشمیر میں کردیا اور اب پاکستان کا حصہ مگر متنازعہ علاقے آزاد جموں کشمیر پہ قبضہ کرنے کی منصوبہ بندی کررہا ہے۔

پاکستان اور بھارت کا عدلیہ کا نظام وہی ہے جو انگریز نے ہندوستانیوں کو غلام رکھنے کیلئے بنایا تھا۔ پاکستان میں بھی عدلیہ میں اسلامی قانون نافذ نہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ پاکستان میں حکمران مسلمان ہیں اور بھارت میں کبھی سکھ حکمران ہوتے ہیں، کبھی مسلمان اور کبھی ہندو۔ ہماری کوشش، مسلم اکثریتی علاقوں کو پاکستان کا  حصہ بنانے کی ضرور ہے لیکن یہ کوشش کیا ہوگی؟۔۔۔ کیونکہ عسکری جہاد کیلئے ضروری ہے کہ وہ اسلامی ریاست کے سربراہ کی اجازت سے ہو۔ جدوجہد کا مقصد اور کوشش کا نتیجہ آخر میں  احکامات الہی اور حدود اللہ کے نفاذ کی صورت میں ہو۔ ایک حکم کے نافذ کرنے کی کوشش بھی جہاد ہے۔ ہمیں اس پہلو پہ بھی غور کرنا چاہئے۔ پہلے بھی قربانی دینے والے دے گئے اور اب بھی جذبہ ایمانی سے سرشار ہمارے مسلمان بھائی، اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ مل کر رہنے کیلئے قربانی دے رہے ہیں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ ان کی قربانی رائیگاں گئیں۔ یقینا انھوں نے مسلمان بھائیوں کی مدد کیلئے کفار کے خلاف علم بغاوت اور علم آزادی بلند کیا اور ان کو مصیبتوں اور مصائب سے آزاد کروانے کیلئے اپنے تن من دھن کی بازی تک لگا دی۔ یہ بھی جہاد ہے۔ لیکن ہم اسی انگریزی سامراجی نظام میں اپنی زندگیاں گزار رہے ہیں۔ صرف اتنا ہی ہے کہ مندروں کی گھنٹیوں کی آوازیں نہیں کانوں میں پڑتیں۔ اذان کی آواز کان سنتے ہیں۔ لیکن ہم نے وطن عزیز میں کتنا اللہ کے احکامات کو نافذ کررکھا ہے؟۔۔۔ ہم پہ اعلی قیادت اور سربراہان مملکت مسلمان ہیں لیکن نظام میں کیا فرق ہے؟۔۔۔ کیا پاکستان میں اسلامی نظام حکومت نافذ ہے؟۔۔۔ کشمیری  ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں اور ہم جمہوریت  و سرمایہ دارانہ نظام کی ظالمانہ چکی میں پس رہے ہیں۔

کشمیری عوام کی خواہش کے مطابق، کشمیر کو پاکستان کا حصہ بننا چاہئے۔یہ نہ صرف کشمیر بلکہ پاکستان کے بھی عوام کے دل کی آواز ہے۔ پھر جغرافیائی حدود بھی کشمیر کو پاکستان کا حصہ ہی ثابت کرتی ہیں۔اور تو اور دریاؤں کے رخ کشمیر سے پاکستان کی جانب ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ

"کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے”

خطہ کشمیر کو آزاد کروانے کیلئے ہمیں ابھی کچھ اور بھی کرنا ہے۔ اپنے گھر کی آگ بجھا نی ہے تاکہ ہم کشمیر کو آزاد کروا کر سامراجی اور سرمایہ دارانہ نظام کی دوسری بھٹی میں نہ جھونکیں۔ ہمیں پاکستان میں اسلامی نظام حکومت کو نافذ کرنا ہے۔ہم پہ لازم ہے کہ وطن عزیز اور کشمیریوں کو ظلم کی چکی سے نکالیں اور اللہ کی رحمت کے سائے میں لے کے آئیں۔ پاکستان میں اسلام کا نفاذ ہو جائے اور ہم ایک  اسلامی ریاست کا روپ دھار لیں۔  ہم پہ فرض ہے کہ کشمیری مسلمانوں اور دیگر مسلم اکثریتی علاقوں پہ ہونے والے ظلم کو ختم کرنے کی دنیابھر میں بھرپور آواز اٹھائیں اور خارجہ سطح پہ عملی اقدامات کریں۔کشمیریوں کو ان کا حق خود ارادیت دلایا جائے۔ ان کو بھارت کے چنگل سے ان کی خواہش کے مصداق آزاد کروائیں۔ کسی بھی اسلامی ریاست کا ان کی مدد کرنا بھی جہاد ہے۔ یاد رکھیں آزادی کیلئے کسی نظرئیے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہمارا نظریہ اسلام ہے۔ لیکن ریاست پاکستان اسلام کے نام پہ بننے کے باوجود اسلام کی غلام نہیں بن سکی۔ ہمیں ایک مضبوط اسلامی حکومت کی ضرورت ہے۔ ہم ایک ایسی قوم ہیں جنھوں نے ماتھے پہ تو آزاد لکھوا لیا  ہے لیکن ہم نظریاتی طور پر آزاد نہیں ہوئے۔ آج بھی اسی نظام کے غلام ہیں جس سے آزادی حاصل کرنے کیلئے ہم نے قربانیاں دیں۔ اس وقت ہمیں آزادی ایک مضبوط اسلامی حکومت کی تشکیل کےلئے  اللہ کی غلامی کا طوق اپنے گلے میں ڈالنا ہوگا۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!