مسئلہ فلسطین

فلسطین کی سرزمین پہ بیت المقدس، مسلمانوں کا قبلہ اول موجود ہے۔ فلسطین چونکہ مسلمان اکثریتی آبادی کا ملک ہے اور مسلمانوں کو اسلام کے مطابق زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے۔ قبلہ اول کے تقدس کو بحال رکھنا اور آزاد "مملکت اسلامیہ فلسطین” کا قیام تمام  مسلمانوں پہ فرض ہے۔ فلسطین کو رسد کی ترسیلات پابندیاں لگا کر مشکل بلکہ ناممکن بنا دیا گیا ہے۔ جس سے ریاست کو ضرورت کا سامان دوسرے ممالک سے درآمد کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔فلسطین میں اس وقت بھی یہودی اقلیت میں ہیں لیکن مسلمانوں کو عالمی سطح پہ مدد اور حمایت حاصل نہیں، جس کی وجہ صیہونی طاقتوں اور اقوام متحدہ کا گٹھ جوڑ ہے۔ یہودی فلسطین کے اکثریتی علاقے میں تسلط حاصل کرتے ہوئے یہودی قابض ہو چکے ہیں، فلسطینیوں کے گھروں کو مسمار کرکے انھیں زبردستی  بے دخل کیا جارہا ہے۔

خلافت عثمانیہ کا دار الخلافہ استنبول ( قسطنطنیہ) تھا اور فلسطین، اردن، عراق، شام، مصر اور حجازمقدس سمیت سب علاقے خلافت عثمانیہ کے صوبے تھے۔ فلسطین بھی خلافت عثمانیہ کا صوبہ تھا اور بیت المقدس کا شہر عثمانی سلطنت کے اہم شہروں میں شمار ہوتا تھا۔ صیہونی طاقتیں فلسطین میں آباد ہونے اور اسرائیلی ریاست کے قیام کے ساتھ ساتھ بیت المقدس پر قبضہ کر کے مسجد اقصیٰ کی جگہ ہیکل سلیمانی تعمیرکرنے کا منصوبہ بنا چکے تھے اور سازشیں کرنے لگے تھے۔

خلیفہ سلطان عبدالحمید نے اپنی یادداشتوں میں لکھا ہے کہ یہودیوں کی عالمی تنظیم کا وفد ان کے پاس آیا اور ان سے درخواست کی کہ انہیں فلسطین میں آباد ہونے کی اجازت دی جائے۔ عثمانی سلطنت کے قانون کے مطابق یہودیوں کو بیت المقدس کی زیارت کی اجازت تو تھی مگر فلسطین میں زمین خریدنے اور آباد ہونے کی اجازت نہیں تھی۔ چنانچہ بیسویں صدی کے آغاز تک پورے فلسطین میں یہودیوں کی کوئی بستی نہیں تھی۔ یہودی دنیا کے مختلف ممالک میں بکھرے ہوئے تھے اور کسی ایک جگہ بھی ان کی ریاست یا مستقل شہر نہیں تھا۔ سلطان عبدالحمید نے یہ درخواست منظور کرنے سے انکار کر دیا۔ اس کی وجہ کہ اسرائیل، بیت المقدس اور فلسطین کے بارے میں یہودیوں کا منصوبہ ان کے علم میں آچکا تھا۔

دوسری بار یہودی لیڈروں کا وفد خلیفہ سے ملا تو یہ پیشکش کی کہ ہم سلطنت عثمانیہ کیلئے ایک بڑی یونیورسٹی بنانے کیلئے تیار ہیں جس میں دنیا بھر سے یہودی سائنس دانوں کا اکٹھا کیا جائے گا اور سائنس اور ٹیکنالوجی میں ترقی کیلئے یہودی سائنسدان خلافت عثمانیہ کا ہاتھ بٹائیں گے۔ اس کیلئے انہیں جگہ فراہم کی جائے اور مناسب سہولتیں مہیا کی جائیں۔ سلطان عبدالحمید نے وفد کو جواب دیا کہ وہ یونیورسٹی کیلئے جگہ فراہم کرنے اور ہر ممکن سہولتیں دینے کو تیار ہیں بشرطیکہ یہ یونیورسٹی فلسطین کی بجائے کسی اور علاقہ میں قائم کی جائے۔ یونیورسٹی کے نام پر وہ یہودیوں کو فلسطین میں آباد ہونے کی اجازت نہیں دیں گے۔ وفد نے یہ بات قبول نہ کی۔ تیسری بار پھر یہودیوں کا وفد خلیفہ سے ملا اور یہ پیشکش کی کہ وہ جتنی رقم چاہیں انہیں دے دی جائے گی، عثمانی سلطنت کا تمام قرض اتار دیا جائے گا۔  مگر وہ صرف یہودیوں کی ایک محدود تعداد کو فلسطین میں آباد ہونے کی اجازت دے دیں۔ سلطان نے اس پر سخت غیظ و غضب کا اظہار کیا اور وفد کو کمرے سے فوراً نکل جانے کی ہدایت کی۔ نیز اپنے عملہ سے کہا کہ آئندہ اس وفد کو ملاقات کا وقت نہ دیا جائے۔

خلافت کے خلاف علاقائی قومیت کی بنیاد پہ صوبوں سے بغاوت کروا دی گئی۔ اس سازش میں برطانیہ صف اول میں نمایاں نظر آتا ہے۔  اسی دوران فلسطین پر برطانیہ نے قبضہ کر کے اپنا گورنر بٹھا دیا۔ فلسطین پہ برطانوی گورنر نے یہودیوں کو اجازت دے دی کہ وہ فلسطین میں آکر جگہ خرید سکتے ہیں اور آباد ہو سکتے ہیں۔ چنانچہ دنیا کے مختلف ممالک سے منظم پروگرام کے تحت یہودیوں نے فلسطین میں آکر آباد ہونا شروع کیا۔ وہ فلسطین میں جگہ خریدتے تھے اور اس کی دوگنی چوگنی قیمت ادا کرتے تھے۔ فلسطینی عوام نے پیسوں کے لالچ میں جگہیں فروخت کیں۔ علماء کرام کے منع کرنے کے با وجود محض دگنی قیمت کے لالچ میں یہودیوں کو فلسطین میں آباد ہونے کا موقع فراہم کیا۔  اس وقت عالم اسلام کے سرکردہ علماء کرام نےفتوے صادر کئے اور مسلم رہنماؤں نے فلسطین جا کر سمجھانے کی بھی کوشش کی کہ یہودی فلسطین میں آباد ہو کر اسرائیلی ریاست قائم کرنا چاہتے ہیں اور بیت المقدس پر قبضہ ان کا اصل منصوبہ ہے، اس لیے یہودیوں کو فلسطین کی زمین فروخت کرنا درست نہیں ہے۔ مگر فلسطینیوں نے اس کی کوئی پروا نہ کی اور دنیا کے مختلف اطراف سے آنے والے یہودی فلسطین میں بہت سی زمینیں خرید کر اپنی بستیاں بنانے اور آباد ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ حتیٰ کہ 1945ء میں اقوام متحدہ نے یہودیوں کو فلسطین کے ایک حصے کا حقدار تسلیم کرتے ہوئے ناجائز ریاست اسرائیل کی بنیاد رکھ دی۔ جس کے بعد برطانوی گورنر نے فلسطین کا اقتدار یہودی حکومت کے حوالہ کر دیا۔

خلافت کا تسلسل رکنے کے بعد21اگست 1969ء کو ایک ایسا واقعہ رونما ہوا کہ جس نے پھر مسلم دنیا کو سوچنے پر مجبور کیا ۔ایک آسٹریلوی نژاد عیسائی نو جوان مائیکل روحان نے مسجد اقصی کے 800سال قدیم چوبی حصے کو آگ لگا دی۔ جس سے مسجد کا وہ قدیم حصہ جل کر خاکستر ہو گیا۔ مائیکل روحان کو بعد میں ذہنی مریض قرار دے کر معمولی سزا سنائی گئی۔ مفتئ اعظم فلسطین نے اس واقعہ پر مسلمان ملکوں کے حکمرانوں سے ایک اجلاس بلانے کی درخواست کی۔ یہ اجلاس رباط، مراکش میں 25 ستمبر 1969ء میں منعقد ہوا۔ جس میں 24 مسلم ممالک کے سربراہان مملکت نے شرکت کی۔ اس کے نتیجے میں 6ماہ بعد "او آئی سی”  Organisation of Islamic Cooperation  قائم ہوئی اور اس کا ہیڈکوارٹر جدہ، سعودی عرب میں بنایا گیا ۔رفتہ رفتہ یہ تنظیم عرب ممالک کے باہمی مفادات اور شاہ فیصل کے بعد والے سعودی عرب کے مفادات کا شکار ہو گئی۔ جس فوری مسئلہ کے تحت یہ تنظیم قائم کی گئی تھی، یعنی مسئلہ فلسطین، اس حوالےسے اس تنظیم نے آج تک کچھ نہیں کیا اور نہ ہی خلافت دوبارہ قائم کرسکی۔ اس کے علاوہ عالم اسلام کے دکھ مسئلہ کشمیر، روہنگیا مسلمانوں کا المیہ، بھارتی مسلمانوں کے مسائل،غزہ کے بچوں کی سسکیاں اس تنظیم کو نظر نہیں آتے۔ عوامی نیشنل پارٹی کے بانی باچا خان اپنی یاداشتوں میں لکھتے ہیں کہ 1926ء میں حج ادا کرنے کے بعد میں فلسطین قبلہ اول کی زیارت کیلئے گیا۔وہاں عرب مسلمانوں کے حالات دیکھ کر مجهے پتہ چلا کہ پشتونوں کی طرح عربوں کو بهی مولویوں نے امام مہدی کے انتظار میں بٹهایا ہے کہ وہ آئے گا اور سب کچھ ٹهیک کرکے دےگا۔ بیت المقدس (یروشلم) میں گهومتاتها، معلومات لیتا اور ہوٹلوں میں عربوں کے ساتهہ فلسطین اور عربوں کے مستقبل پر بحث کرتا۔ ایک دن چند فلسطینیوں سے بحث ہورہی تهی۔میں نے کہا کہ دیکهو یہ آپ لوگ بہت بڑی غلطی کررہے ہیں کہ یہودیوں پر اپنے زمینیں فروخت کرتے ہیں اور یہودی اس زمین کو آباد کر لیتے ہیں۔ یہ کام آپ لوگ خود کیوں نہیں کرتے؟۔۔۔ میں نے یہاں جو زمین آباد دیکهی ہے، جہاں خوبصورت بنگلہ ،باغیچہ ،اور پانی کا انتظام ہو، وہ زمیں یہودی کی ہوتی ہے اور جو زمین بنجر ہوتی ہے، وہ مسلمان کی ہوتی ہے۔یہودیوں نے فلسطین میں چهوٹے چهوٹے خوبصورت گاؤں  بسائے اور بسا رہے ہیں۔ لیکن فلسطینی غفلت کی نیند سو رہے ہیں۔ ان میں سے ایک فلسطینی نے کہا کہ یہ چودہویں صدی،  آخری صدی ہے۔ ہم اپنی زمینیں یہودیوں کو اس لئے فروخت کررہے ہیں کہ اس کے بعد تو امام مہدی آئے گا اور یہ ساری زمینیں دوبارہ مسلمانوں کی ہو جائیں گی۔ تب مجهے اندازہ ہوا کہ کسی سازشی نے پشتونوں کی طرح عربوں، فلسطینیوں کو بهی امام مہدی کے انتظار میں بٹهایا ہے۔اب کبهی کبهی خیال آتا ہے کہ فلسطین جاؤں  اور ان عربوں سے پوچهوں کہ وه چودهویں صدی تو ختم ہو گئی۔ وہ زمینیں کس کی ہوئیں، یہودیوں کی یا مسلمانوں کی؟۔۔۔جو قوم اپنی مفادات اور سرزمین کی حفاظت نہیں کرتی، وہاں ظلم کی حکومت قائم ہو جاتی ہے۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!