قومیں اور زبان

بالترتیب چینی، سپینش، انگریزی کے بعد دنیا میں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان "اردو” ہے۔ جبکہ پوری دنیا میں اردو صرف پاکستان کی قومی زبان ہے۔ دنیا میں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان چائنیز زبان ہے، کیونکہ چین کی آبادی سب سے زیادہ ہے۔ سب سے زیادہ پڑھی جانے والی زبان عربی ہے، کیونکہ دنیا کے ہرخطےمیں قرآن و حدیث پڑھنے والے موجود ہیں۔

بھارت، متحدہ عرب امارات میں بھی اردو بہت زیادہ بولی جاتی ہے۔ برصغیر / جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان اردو ہی ہے۔ برطانیہ میں چھٹی بولی جانے والی زبان اردو ہے۔ جبکہ پنجابی دنیا میں پہلی دس  سب سے زیادہ بولی جانے والی زبانوں میں سےہے۔ اس خطے میں سب سے زیادہ بولی جانے والی دو زبانیں ہیں لیکن دونوں زبانوں کو معدومی کا خطرہ لاحق ہورہا ہے۔  ان زبانوں کے فروغ میں ذرائع ابلاغ اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

 اردو "خطہ ہند” میں پیدا ہونے اور بھارت کی وجہ سے ہندی بھی کہا جاتا ہے۔ جو کہ دراصل اردو ہی ہے۔ دنیا پہ واحد ملک پاکستان ہے جس کی قومی زبان ہے۔ پوری دنیا میں کسی لحاظ سے بھی انگریزی کو   بین الاقوامی زبان کا درجہ حاصل نہیں ہے کہ ہم انگریزی کو ترک کرکے دنیا سے پیچھے رہ جائیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی زبان کو بین الاقوامی زبان کا درجہ حاصل نہیں ہے۔ لیکن نو آبادیاتی نظام کی باقیات میں نظام حکومت کے ساتھ ساتھ  ایک انگریزی بھی ہمیں ورثہ میں دے دی گئی۔  پنجابی والدین ، پنجابی زبان سے سوتیلوں والا سلوک کرتے ہیں۔ جیسے کہ پنجابی زبان ایک گالی ہو۔ قبائلی علاقوں کی ماں اپنے بچوں کو پشتو زبان سکھاتی ہے۔ بلوچی والدین بلوچی زبان سکھاتے ہیں۔ سندھی والدین سندھی زبان سکھاتے ہیں۔ لیکن پنجابی والدین اپنے بچوں کو گھر میں پنجابی نہیں سکھاتے۔ اب وہ گھر میں اردو سیکھ کر جاتے ہیں۔ سکول میں انگریزی، گلی میں پنجابی اور مدرسے میں عربی پڑھنا سیکھتے ہیں تاکہ قرآن مجید کی تلاوت کرسکیں۔ جبکہ انگریزی کی جگہ عربی کو سیکھنا لازمی ہونا چاہئے تاکہ ہم احکامات الہی کو سمجھ سکیں کیونکہ قرآن مجید احکامات الہی کی کتاب ہے اور اسی پہ عمل کرکے ہم پوری دنیا کیلئے فلاح کا باعث بن سکتے ہیں۔

بینکاک میں مقامی دکاندار اردو زبان میں بات کرلیتے ہیں۔ کیونکہ بھارتی اور پاکستانی گاہک کثیر تعداد میں آتے ہیں تو ان سے بات کرنے میں آسانی رہتی ہے۔ عرب ممالک حجاز، دبئی، مسقط، عمان، ابوظہبی، شارجہ، قطر میں کثیر تعداد میں اردو بولنے والے مل جاتے ہیں۔ افریقہ کے دینی مدرسوں کے پڑھے ہوئے حضرات اردو سمجھ ہی نہیں بلکہ بول بھی سکتے ہیں۔ چین، نیپال، برما، جاپان، انڈونیشیا، ملائیشیا، تھائی لینڈ، سری لنکا کے ہزاروں لوگ پاکستان کے دینی مدارس میں پڑھنے آتے ہیں اور اردو بھی سیکھ جاتے ہیں اور دینی کتب سیکھنے کی غرض سے اردو سیکھتے ہیں۔ دنیا بھر میں خصوصا ترکی، جاپان، اَمریکا، ایران، چین، انگلستان کی جامعات میں اردو کے شعبے قائم ہیں۔

کہتے ہیں”انگریزی ایک بین الاقوامی زبان ہے”  کیا انگریزی زبان  روس، جاپان، چین، فرانس، جرمنی، بیلجئم، ترکی، ایران، سپین  میں ایک لازمی مضمون کے طور پر پڑھائی جاتی ہےاور ان ممالک میں ذریعہ تعلیم ہے؟۔۔۔کیا ان ممالک کی سرکاری خط و کتابت انگریزی زبان میں ہوتی ہے؟۔۔۔ کیا ان ممالک کی بیوروکریسی کا انتخاب اس زبان میں مہارت کی بنا پر ہوتا ہے؟۔۔۔ کیا  وہاں کے حکمران اقوام متحدہ اور دوسرے ملکوں میں جا کر انگریزی  زبان میں خطاب کرتے ہیں؟۔۔۔ کیا  وہاں کے حکمران انگریزی  زبان میں اپنے عہدوں کا حلف اٹھاتے ہیں؟۔۔۔اگر ایسا ہی ہے تو   انگریزی  زبان کو پاکستان میں بھی اسی طرح لاگو کر دیا جائے۔

  عربی کو بین الاقوامی سطح پہ دفتری زبان قرار دینے میں بھی حرج نہیں  تاکہ تمام ممالک بشمول اسلامی ممالک  سے ایک ہی زبان میں خط و کتابت یقینی بنائی جاسکے۔

جاپان یا چین یا کوریا کے پاشندوں کے دماغ میں یہ نہیں ہوتا کہ اگر فلاں زبان نہ سیکھوں تو اعلی تعلیم نہیں حاصل کرسکتا۔

جہاں تعلیم اپنی زبان میں دی جاتی ہے، کاروبار مملکت اپنی زبان میں چلایا جاتا ہے، ان میں برطانیہ، امریکہ، روس، آسٹریلیا، جرمنی، اسرائیل، سپین، پرتگال، چین، جاپان، سویڈن، ناروے، ڈنمارک، کوریا، ترکی، ایران، فرانس، ہالینڈ، فن لینڈ، چیک، سلاوک، سربیا، کروشیا، ہنگری۔ اسٹریا، پولینڈ، لیٹویا، لتھوینیا، اسٹونیا، لگژمبرگ، یوکرائن وغیرہ ہیں۔

جو ممالک غیر ملکی زبانوں سے چمٹ کر احساس کمتری کا منہ بولتا ثبوت ہیں، ان میں انگریزی زبان پاکستان، بھارت، فلپائن، کینیا، یوگندا، نائیجیریا، زمبابوے، کانگو، زائرے میں بولی جاتی ہے۔ فرانسیسی زبان الجزائر، مراکش، لیبیا، پاپوا نیوگنی میں بولی جاتی ہے۔ سپینش زبان برازیل، ارجنٹائن، کولمبیا، یوراگوئے، پیراگوئے، پیرو، چلی، السلواڈورمیں بولی جاتی ہے۔ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کون سے ممالک ترقی کر رہے ہیں، آزاد ہیں، آگے بڑھ رہے ہیں۔ جبکہ غیرزبانوں مِیں تعلیمی اور دفتری نظام چلانے والے ممالک پسماندہ ہیں، پیچھے ہیں، بدعنوانی اور بدانتظامی میں لتھڑے ہوئے ہیں۔

پاکستان کی ذہنی غلام اشرافیہ انگریزی کی بین الاقوامیت کا پراپپگنڈہ کر کے اس کو ناجائز طور پر مسلط کرنے کا جواز پیدا کرتی ہے۔  حقیقت یہ ہے کہ انگریزی صرف امریکہ، برطانیہ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی زبان ہے اور کینیڈا کے صرف آدھے حصے میں بولی جاتی ہے۔  یورپی یونین کی ایک کرنسی، ایک جھنڈا اور ایک پارلیمنٹ ہےمگر اس کی زبان بھی ایک ہو یہ آج تک کسی نے نہیں سوچا۔ انگریزی کی محدودیت کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہو سکتا ہے؟۔۔۔ برطانیہ سے چلنا شروع کردیں، پاکستان تک آ جائیں، جس راستے سے چاہے آ جائیں، انگریزی زبان کسی ملک پر مسلط نہیں ہے۔ سارے ایشیا، سارے یورپ، سارے افریقہ اور سارے جنوبی امریکہ میں یہ کہیں بھی مسلط نہیں ہے۔

ہم جب تک اپنی قومی زبان میں تعلیم کو عام نہیں کریں گے ہم ترقی نہیں کرسکیں گے۔ ہم گھروں اور گلیوں میں اردو / پنجابی، اردو / پشتو، اردو / سندھی یا اردو / بلوچی زبان بولتے ہیں لیکن سکول میں داخل ہوتے ہی انگریزی زبان سے واسطہ پڑ جاتا ہے۔ آج یہ عالم ہے کہ بچوں کو اردو میں اصلاحات کا ہی نہیں پتہ، حتی کہ اردو میں بچوں کو گنتی بھی نہیں آتی۔ جتنی توانائی معاشرے میں ہم بچوں کو انگریزی سکھانے میں لگا رہے ہیں اور انگریزی زبان سیکھنے میں بچہ جتنا ذہنی دباؤ جھیل رہا ہے۔ اس کی بجائے اگر ہم پاکستان کے ماحول کے مطابق قومی زبان میں تعلیم دیں گے تو کم وقت میں بچہ زیادہ علم سیکھ سکے گا۔ ویسے بھی حصول تعلیم میں نظریات اورتصور کا واضح ہونا ضروری ہے، جو کہ مقامی زبان میں ہی ممکن ہوسکتا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان  کی ساری جامعات اور کالجوں میں آج بھی اعلی تعلیم انگریزی ہی میں ممکن ہے۔ اس طرح سے اردو دان طبقہ کو مزید جاہل بنا کر رکھ دیا گیا۔ جس میں انتظامیہ جسے بیوروکریسی کہا جاتا ہے، ذمہ دار ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ اردو میں نہ تو اعلی علمی معیاری کتب دستیاب ہیں اور نہ ہی کوئی ہمت کرے تو ایسا کاروبار ہوسکتا ہے۔ اس طرح ہم نے اپنی آبادی کے بیشتر حصہ کو علم کی روشنی سے محروم کردیا ہے اور ان کے اندر علم کی وہ پیاس ہی پیدا نہیں ہونے دی جو ہر ترقی یافتہ ملک کے ہر باشندے میں پائی جاتی ہے۔  تعلیمی نظام کے قومی زبان میں ہونے کے ملک گیر جو اثرات ہوتے ہیں اس سے ہر شخص ملک کی تعمیر میں اپنا حصہ بٹانے کے قابل ہوجاتا ہے۔ جنگ عظیم دوئم کے اختتام تک دنیا پرمغربی حکومت کا سکہ جما ہوا تھا اور ان کی ایسی دھاک بیٹھی ہوئی تھی کہ علم و فن ، ثقافت و لباس ، ہر چیز میں ان کی نقالی کو قابل فخر سمجھا جاتا تھا اور ہمارے ملک میں اسی طرز کی غلامانہ ذہنیت انگریزی زبان کی نقالی کی صورت میں آج بھی موجود ہے کہ انگریزی زبان میں تعلیم حاصل کیے ہوئے لوگ اپنے آپ کو معاشرہ میں "بڑی چیز” سمجھتے ہیں اور انگریزی نہ جاننے والے بھی انہیں ایسا ہی سمجھتے ہیں۔ پوری انسانی تاریخ میں ایک ایسی مثال نہیں ملتی کہ کسی ایسی قوم نے ترقی کی ہو جس کا ذریعہ تعلیم کوئی غیر ملکی زبان رہی ہو۔ ملک کی آبادی کا کثیر حصہ جہالت کا شکار ہوجاتا ہے۔ ایک ایک شہری پہ توجہ دی جائے۔ تعلیمی نظام کو بہترین خطوط پہ استوار کرے تو  ہر شہری ریاست کیلئے مفید شہری ثابت ہوگا۔

تمام یورپی ممالک بھی  اپنی زبان کے علاوہ کسی دوسری زبان کوقبول نہیں کرتے۔ لسانی تعصب اکثر ممالک میں بہت زیادہ ہے،یہاں تک کہ کچھ ممالک اپنی صوبائی زبانوں کو فروغ دینے میں بہت زیادہ متعصب ہیں۔

ترکی کے صدر نے طیب ارووان  نے ایک موقع پہ کہا کہ خود کو انگریزی تک محدود نہ کرو۔ اگرچہ انگریزی زبان میں بہت معلومات ہیں لیکن دنیا کی بہت بڑی دانش دوسری زبانوں میں پڑی ہے۔ آپ ایک اضافی زبان ضرور سیکھیں جیسے چینی، فرانسیسی یا روسی زبان۔ آپ کے آباؤ اجداد  ریاضی اور سائنسی علوم کے ساتھ دوسری زبانیں بھی سیکھتے تھے۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!