پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے ادارے

قانون نافذ کرنے والے اداروں میں سب سے پہلے پولیس کی جانب دھیان جاتا ہے۔ پولیس کبھی ڈنڈے لیکر مظاہرین کے پیچھے دوڑتی نظر آتی ہے۔ کبھی گولیاں اور آنسو گیس کے شیل چلاتی نظر آتی ہے۔ کرپشن کا نام آتا ہے تو سب سے پہلے پولیس کا نمبر آ جاتا ہے۔کبھی شریف آدمی کو ذلیل کرتے نظر آتے ہیں۔ کبھی الزام لگتا ہے کہ چوروں، ڈاکووں کے ساتھ ملے ہوئے ہیں۔ کبھی سڑکوں پہ فائرنگ کا شکار ہوجاتے ہیں۔ کبھی وزراء کے ساتھ پروٹوکول کی ڈیوٹیوں پہ دوڑتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ جبکہ یہ سب کام پولیس کے  محکمے کو اصل مقصد سے ہٹانے  کیلئے کافی ہیں، کیونکہ پولیس کے محکمے کا اصل مقصد   امن و امان کا قیام یقینی بنانا اور ایسے اقدامات کرنا کہ جن سے جرائم کی روک تھام ممکن ہوسکے۔

ذرائع ابلاغ پہ آتا ہے کہ صوبے میں  اتنے لاکھ پولیس ملازمین ہیں اور ان سے امن و امان قائم نہیں ہورہا۔پولیس کی نفری کی تقسیم تو ملاحظہ کریں کچھ ڈپٹی سپریٹنڈنٹ پولیس کے آفس میں اور کچھ ضلعی پولیس آفس میں۔ کچھ ڈی آئی جی آفس میں اور رہی سہی صوبائی پولیس آفیسر کے حصے میں آجاتی ہے۔ امن و امان کو کنٹرول کرنےاور جرائم کی روک تھام کیلئے پروٹوکول سے لیکر آئی جی آفس تک کی ساری پولیس کو گن لیا جاتا ہے۔ جبکہ میں نقص امن میں پولیس کے محکمے کو قصور وار نہیں گردانتا ۔ کیونکہ پولیس کے محکمے کو تربیت صرف امن و امان کو یقینی بنانے کی دی جاتی ہے اور کام ان سے دوسرے بھی  لئے جاتے ہیں۔

مزید یہ کہ پاکستان میں پولیس کے محکمہ کو تفتیش کے عمل میں ملوث رکھا گیا ہے اور اس محکمے کی بنیادی ذمہ داری امن و امان کی ہے ۔ آدھی کے قریب  پولیس تو صرف تفتیش کے معاملے میں الجھی ہوئی ہے۔ تفتیش بھی وہ جس کا صرف عوام کو نقصان ہوا ، فائدہ نہیں، کیونکہ پولیس کی تفتیش عدالتی معیار پہ پورا نہیں اترتی۔ پولیس میں تفتیش کیلئے الگ شعبہ قائم کردیا گیا ہے۔  لیکن حالات کا تقاضا ہے کہ ایک تفتیشی محکمہ الگ سے قائم کیا جائے جو تفتیشی ماہرین پہ مشتمل ہو اور عدالتی معیار کے مطابق تفتیش کرے۔ پولیس کا کام صرف امن و امان اور جرائم کا سدباب کرنا ہونا چاہئے۔

ایک شخص کے خلاف کسی نے پولیس کو  درخواست دے دی۔ پولیس والوں نے اس کو بلاکر گالیاں نکالیں اور اس کو ذلیل کیا، جوکہ پولیس کا روایتی طریقہ ہے۔ گالیاں اور بے عزتی ہوجانے کی وجہ سے دو دن بعدہی  اس کا ہارٹ اٹیک سے انتقال ہوگیا۔ جبکہ درخواست جھوٹی تھی۔  ایسے ہی ایک بزرگ اور ان کے بیٹے کو پولیس، ان کے پوتے/بھتیجے کے جرم میں گرفتار کرکے لے گئی اور مدعی کے بااثر ہونے کی وجہ سے مقدمے میں ملوث کرلیا اوردونوں باپ، بیٹا کو جیل بھیج دیا گیا۔ بعد ازاں مقدمہ خارج ہوگیا لیکن18 دن بعد رہائی ملی۔ بزرگ  چند ہفتے ہی زندہ رہ سکے۔ موت اللہ کی مرضی سے آنی ہے اور وقت متعین ہے لیکن پولیس والے مجرموں اور شریف لوگوں میں تمیز نہیں کرتے، جس وجہ سے بےگناہ شریف لوگ بےعزتی کی وجہ سے اندر ہی اندر گھل کر جان دے دیتے ہیں۔ اس طرح کی سینکڑوں ہی نہیں بلکہ ہزاروں مثالیں ہمارے معاشرے میں موجود  ہیں، جن میں لوگوں کی پولیس کے ہاتھوں تذلیل کے باعث موت واقع ہوگئی۔

ایسے ہی ہمارے قانون نافذ کرنے والے ادارے ہیں۔ جو کہ حساس ادارے بھی کہلاتے ہیں۔ ان میں ملازم وہ  لوگ ہیں جن کا شاید کسی تاریخ کی کتاب میں نام بھی نہیں آنا ہوتا ہو۔ ملک کی خاطر جان دیتے ہیں۔ بعض اوقات ایسے حالات ہوتے ہیں کہ ان کو کفن اور جنازہ بھی نصیب نہیں ہوتا۔ گمنام سپاہی کہیں زمین میں گم ہوجاتے ہیں۔ جیسے روس شکن،  کرنل امام شہید رحمۃ اللہ علیہ  ایک عظیم نام ہیں۔ اللہ کریم ان کے درجات بلند فرمائیں۔ آمین

پاکستان میں قانونی معاملات اس قدر پیچیدہ ہیں کہ جس مجرم کو حساس ادارے پکڑیں، ان کو سزانہیں  دی جاسکتی۔ جبکہ جن مجرموں کو حساس ادارے پکڑتے ہیں، ان کو ڈھونڈنا آسان نہیں۔ پھر پکڑنا آسان نہیں۔ پھر ان کی تفتیش اور حقائق تک پہنچنا آسان نہیں۔ پھر دوسری کڑیوں کو ملانا اور پھر ان کی کمر توڑنا حساس اداروں کی ذمہ داری میں ہے۔ پکڑنے سے پہلے ہی ان مجرموں کے خلاف  وافر ثبوت اکٹھے ہوچکے ہوتے ہیں اور وہ  ملزم نہیں بلکہ جرائم میں ملوث مجرم ہی ہوتے ہیں۔ لیکن پکڑنے کے بعد مزید تفتیش اور ثبوت اکٹھے کرنے کے باوجود موجودہ قوانین سزا دینے میں ناکام ہے۔ کیونکہ موجودہ  قوانین ایسے مقدمات میں حصول انصاف کیلئے ممدومعاون نہیں ہیں۔ عدالتی کاروائی کے دوران عدالت انھیں بری کر دیتی ہے۔  کسی ملک کے ساتھ امن و امان کو یقینی بنانے کے نام پہ اس سے بڑا گھناؤنا مذاق شاید ہی کوئی اور  ہوسکتا ہے کہ اداروں پہ پیسہ بھی لگایا جائے اور قابل افراد بھی ہوں اور پھر بھی نتیجہ کچھ نہ نکلے۔ مزید یہ کہ قانونی طور پہ ان حساس اداروں کو پاکستان کے قانون کے مطابق مجرموں کو گرفتار کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔  ان مجرموں کو سزا دینے کا حل جب فوجی عدالتوں کو قرار دیا جاتا ہے تو سیاستدانوں کو جمہوریت یاد آجاتی ہے۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!