سید عطا اللہ شاہ بخاری اور قیام پاکستان

1946ء میں دہلی کی شاہی مسجد کے سامنے پارک میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ

"اس وقت جو بحث چل رہی ہے، وہ یہ ہے کہ ہندوستان کی ہندو اکثریت کو مسلم اقلیت سے جدا کرکے برصغیر کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا جائے۔ قطع نظر اس کے کہ اسکا انجام کیا ہوگا۔ مجھے پاکستان بن جانے کا اتنا ہی یقین ہے جتنا اس بات پر کہ صبح کو سورج مشرق ہی سے طلوع ہوگا۔ لیکن یہ پاکستان وہ پاکستان نہیں جو دس کروڑ مسلمانوں کے ذہنوں میں اس وقت موجود ہے اور جس کیلئے آپ بڑے خلوص سے کوشاں ہیں۔ ان مخلص نوجوانوں کو کیا معلوم کہ کل ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے”۔

بات جھگڑے کی نہیں سمجھنے سمجھانے کی ہے۔ سمجھادو، مان لوں گا ۔لیکن تحریک پاکستان کی قیادت کرنے والوں کے قول و فعل میں بلا کا تضاد اور بنیاد فرق ہے۔ اگر آج مجھے کوئی اس بات کا یقین دلا دے کہ ہندوستان کے کسی قصبے کی کسی گلی میں کسی شہر کے کسی کوچے میں، حکومت الہیہ کا قیام اور شریعت اسلامیہ کا نفاذ ہونے والا ہے تو رب کعبہ کی قسم میں آج اپنا سب کچھ چھوڑ کر آپ کا ساتھ دینے کو تیار ہوں۔

 لیکن یہ بات میری سمجھ سے بالا تر ہے کہ جو لوگ اپنے جسم پر اسلامی قوانین نافذ نہیں کر سکتے، جن کا اٹھنا بیٹھنا، جن کا سونا جاگنا، جن کی وضع قطع ، جن کہ رہن سہن، بول چال، زبان و تہذیب، کھانا پینا، لباس وغیرہ غرض یہ کہ کوئی چیز بھی اسلام کے مطابق نہ ہو ، وہ دس کروڑ افراد کے وطن میں کس طرح اسلامی قوانین نافذ کر سکتے ہیں۔۔۔ ؟

یہ ایک فریب ہے اور میں یہ فریب کھانے کیلئے ہرگز تیار نہیں ہوں”۔

روزنامہ الجمعیت دہلی / 1946ء

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!