ذرائع ابلاغ اور جمہوریت

مغربی ذرائع ابلاغ پہ شور اٹھا کہ بے سروسامان افغانستان سے اسامہ بن لادن امریکہ پہ حملہ آور ہوگیا اور اس نے دو عمارتوں کو تباہ کردیا ہے اور اسامہ بن لادن جو روس کے غاصبانہ قبضے سے افغانستان کو نجات دلانے میں تمام مغربی اقوام کے ساتھ افغانستان کی مدد کررہا تھا اور مغربی اقوام نے ذرائع ابلاغ کے ذریعے اسے ہیرو مانا تھا۔ وہی اسامہ بن لادن ایک دن انھی ذرائع ابلاغ پہ دہشت گرد بن چکا تھا اور پوری دنیا کو ذرائع ابلاغ کے ذریعے یقین دلا دیا گیا تھا کہ افغانستان جہاں پہ وسائل نہ ہیں، انٹرنیٹ، ٹیلیفون تک کی سہولت تک میسر نہیں ہے، اس ملک سے امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک پہ اسامہ بن لادن حملہ آور ہوگیا ہے۔ عجیب بات ہے کہ پوری دنیا نے اس بات پہ یقین بھی کرلیا۔ اسی بناء پہ افغانستان میں اسلامی نظام حکومت کو لپیٹنے کیلئے عالم کفر یکجا ہوگیا اور افغانستان پہ حملہ کرکے اسلامی حکومت کوختم کردیا گیا۔ ایسے ہی اسامہ بن لادن کو ایبٹ آباد میں مارنے کے جھوٹ کا ذرائع ابلاغ کے ذریعے دنیا کو یقین دلایا گیا۔

مغربی ذرائع ابلاغ کے ذریعےایک شور اٹھا کہ عراق میں کیمیائی ہتھیار ہیں اور مغربی اقوام عراق پہ حملہ آور ہوگئیں۔ جبکہ اس کے کوئی ثبوت نہ تھے اور نہ ہی ملے، لیکن عراق کی حکومت کو ختم کردیا گیا اور امن کو تباہ کردیا گیا۔ تمام بین الاقوامی قوانین کو پامال کیا گیا۔ خواتین کی عزتیں پامال کی گئیں اور قتل و غارت گری کا بازار گرم کئے رکھا۔ صدر صدام حسین جیسا ہی کرنل قذافی کے ساتھ سلوک کیا گیا۔  سازشوں کے ذریعے حکومت  کو غیرمستحکم کیا گیا اور مغربی ذرائع ابلاغ نے دنیا بھر کے عوام الناس کی رائے ہموار کرنے میں کردار ادا کیا۔ تعجب کی بات ہے کہ آج بھی پوری دنیا انھی ذرائع ابلاغ کی خبروں پہ اعتماد کرتی نظر آتی ہے۔

دنیا کے سب سے زیادہ مقروض ممالک امریکہ، برطانیہ، جاپان، کینیڈا جیسے ممالک ہیں، لیکن میڈیا ان کی  معیشت کی بدحالی کا رونا نہیں روتا۔ لیکن ہمارے ذرائع ابلاغ ہماری معیشت کو دیوالیہ قرار دینے کے درپے ہوتے ہیں۔  ذرائع ابلاغ کا رویہ مجرمانہ  ہے جس کی وجہ سے پاکستان کے بارے میں تاثر ایک ناکام ریاست کے طور پر دنیا  کے سامنے آرہا ہے۔

دنیا میں سب سے زیادہ دھماکے عراق میں ہوتے ہیں اور عراق کے بعد سب سے زیادہ دھماکے افغانستان اور پھر بھارت میں ہوتے ہیں۔ جب پاکستان میں  دہشت گردی عروج پہ تھی اس وقت بھی پاکستان پہلے، دوسرے  نمبر پہ دہشت گردی کا شکار ملک نہیں رہا۔ کراچی میں قتل کی وارداتیں اور سٹریٹ کرائم بہت زیادہ تھے لیکن اب وہ بھی بہت کم ہوچکے ہیں۔ ویسے تو پاکستان میں ذرائع ابلاغ کے شور مچائے بغیر  حکومت کے کان پہ جوں تک نہیں رینگتی۔ لیکن بین الاقوامی حقائق بتاتے ہیں کہ دنیا میں سب سے زیادہ جرائم امریکہ میں ہوتے ہیں۔ زنا بالجبر، ڈاکے، بینک لوٹنے کی وارداتیں کی تعداد سب سے زیادہ مغربی ممالک میں ہی ہے۔  بینکوں کی اے ٹی ایم مشین تک ڈاکو اٹھا کر لے جاتے ہیں اور پھر آرام سے پیسے نکالتے ہیں۔ سٹریٹ کرائم بھی سب سے زیادہ مغربی ممالک میں ہی ہوتے ہیں۔ لوگ چھوٹی چھوٹی چیزوں کو چوری کرنے کیلئے گاڑیوں کے شیشے توڑ دیتے ہیں۔  بھارت میں زنا بالجبر ہی نہیں بلکہ اجتماعی زنا بالجبر کے واقعات بکثرت رونما ہوتے ہیں۔ لیکن ان ممالک  کا ذرائع ابلاغ ان جرائم اور دھماکوں پہ اتنا واویلا نہیں مچاتا جتنا واویلا ہر جرم پہ پاکستان کے ذرائع ابلاغ مچاتے ہیں۔ کیونکہ انھیں پتہ ہے کہ ذرائع ابلاغ پہ دکھائے جانے والے حقائق سے ان کے جمہوری اور سرمایہ دارانہ نظام معیشت کا چہرہ بے نقاب ہوجائے گا۔ اتنی بڑی حکومتی مشینری، جدید ٹیکنالوجی کے وسائل  اور من چاہے قوانین تشکیل دینے کے بعد بھی وہ دہشت گردی ، بے راہ روی اور جرائم کو کم نہیں کرپارہے۔ اپنے ہی ملک کی کردار کشی کرنے کیلئے اور کمزور کرنے کےلئے ذرائع ابلاغ کے ذریعے شور مچاکر حکومت پہ دباؤ ڈالا جاتا ہے اور مذموم مقاصد حاصل کئے جاتے ہیں۔اس جرم میں پاکستان ہی نہیں بلکہ بیرونی ذرائع ابلاغ برابر کے شریک ہیں۔ جس کی وجہ سے پاکستان کو دنیا میں صف اول کا خطرناک ملک تصور کیا جاتا ہے۔ جبکہ پاکستان میں جرائم کی شرح دنیا کے بہت سے ممالک کی نسبت کم ہے۔

نیو جنریشن وار یا فور جنریشن وار بھی اسی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ تشہیر کے ذریعے ہر انسان کی زندگی میں بے جا اخراجات کو بڑھا دیا گیا ہے۔ آپ کے بچے کو مذہب سے کوئی رغبت نہیں یا قرآن مجید نہیں آتا۔ اللہ کو نہیں پہچانتا کہ خالق کائنات کون ہیں؟۔۔۔ کوئی آپ کی طرف حیرانگی سے نہیں دیکھے گا۔ لیکن اگر فیشن کے مطابق کسی برینڈ کے کپڑے یا گھٹنوں سے پھٹی ہوئی جینزیا چست لباس نہیں پہنا تو سب حقارت کی نگاہ سے دیکھیں گے۔ یہ ہے فور جنریشن وار جس کے تحت بے مقصد اور فضولیات کی طرف راغب کرنا اور فحاشی اور عریانی کو عام کرنا شامل ہے۔

جدیدیت کے نام پہ فحاشی اور عریانی کو عام کرنے کیلئے اس وقت دنیا بھر کےذرائع ابلاغ ہی بنیادی ہتھیار ہیں۔ یہی نہیں بلکہ باطل نظریات کے فروغ اور مذہبی نظریات کے خلاف پروپیگنڈا کرنے کا ذریعہ بھی یہی ذرائع ابلاغ ہیں۔ جس کیلئے غیر مسلم طاقتیں ذرائع ابلاغ پہ بھرپور سرمایہ کاری کررہی ہیں۔ جبکہ ان کے نتائج سب سے پہلے انھی ممالک کو بھگتنے پڑ رہے ہیں۔ ان کی نسلیں تباہ ہوچکی ہیں۔ ان کے بچوں کے باپ چھوڑ ماں کا نہیں پتہ چل رہا۔ اس وقت پوری دنیا میں سب سے زیادہ فحاشی، عریانی، زنا کاری، زنا بالجبر، ڈاکہ زنی، چوری اور بے راہ روی غیر مسلم ممالک میں ہے، جس کی وجہ صرف ان کی حکومتیں اور ذرائع ابلاغ ہی ہیں۔ ان کے ذرائع ابلاغ فحاشی دکھاتے تو ہیں مگر اس کے اثرات کے نتائج سے دنیا کو آگاہ نہیں کرتے۔ ذرائع ابلاغ پہ تشہیر کے ذریعے فحاشی ، عریانی عام کی جارہی ہے اور بے مقصد، فضولیات کی طرف قوم کو راغب کیا جارہا ہے۔

ذرائع ابلاغ پہ عورتوں کو نچایا جاتا ہے۔ عورتوں نے غیر شرعی لباس زیب تن کیا ہوتا ہے۔ نامحرم مرد و عورت ایک دوسرے کے گلے لگ رہے ہوتے ہیں۔ ایک بستر اور ایک چادر میں لیٹے ہوتے ہیں۔بجائے نیکی کے کاموں کی ترغیب دینے کے، چالبازیوں کی ترغیب دی جاتی ہے۔ کچھ پاکستانی  چینل تو ہندو ڈرامے اورہندو تہذیب کو فروغ دے رہے ہیں لیکن کسی بھی چینل پہ اسلامی تہذیب و اطوار کو فروغ نہیں دیا جارہا۔ کسی بھی چینل پہ اصلاحی پروگرام یا ڈرامے نہیں بنائے جارہے۔ اشتہارات نے تو حدیں ہی پار کی ہوئی ہیں۔ کسی بھی نیوز چینل پہ جھوٹ بولنے پہ سرزنش تک نہیں کی جاتی۔

"آج مسلمانوں کو سب سے زیادہ نقصان ذرائع ابلاغ کے پروپیگنڈا سے ہوا ہے”

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!