حکمرانوں کے اثرات

امیر المومنین عمرؓ فاروق رات کو مدینہ منورہ میں گشت کررہے ہیں اور ماں بیٹی کی بات سن لی کہ بیٹی کہہ رہی ہے کہ دودھ میں پانی ملانے سے امیرالمومنین نے منع کیا ہے۔ ماں کہتی ہے کہ امیر المومنین دیکھ تو نہیں رہے۔ بیٹی کہتی ہے کہ امیر المومنین نہیں لیکن اللہ تو دیکھ رہا ہے۔ یہ خوف اللہ کا تھا، نہ کہ امیر المومنین کا۔ اللہ تعالی کا خوف اسلام کے نفاذ کا مقصد ہے۔ امیر کا خوف نہ ہولیکن اللہ کا خوف ہو۔ اطاعت اللہ کی ہو نہ کہ امیر المومنین کی۔ انصاف اللہ کے حکم کے مطابق ہورہا ہو نہ کہ امیر المومنین کی مرضی سے اور خوف اللہ کا دلوں پہ وارد ہورہا ہو۔  یہی اسلام کا مقصود ہے کہ بندہ اپنے آپ کو ہمہ وقت اللہ کے حضور پائے اور اللہ کی ناراضگی کے خوف سے برائی سے روک جائے۔

 کامیابی صرف اللہ کی اطاعت میں ہے اور جب  امیر اطاعت الہی پہ کاربند ہو تو رعایا کے بھی اللہ کے بتائے ہوئے راستے پہ کاربند ہوتی ہے۔ اس لئے آج اللہ کے احکامات کو نافذ کرنے والے حضرت عمرؓ ابن الخطاب تاریخ میں اور دلوں میں زندہ ہیں۔ عربی کا مقولہ ہے کہ

"الناس علی دین ملوکہم”
"لوگ اپنے حکمرانوں کے طور طریقے اختیار کرلیتے ہیں"

حضرت عمرؓ فاروق جب زخمی ہوئے تو حضرت علیؓ ایک یہودی طبیب کو لینے روانہ ہوگئے۔ آپ اس کے ساتھ واپس آ رہے تو دیکھا کہ بکریوں کا ریوڑ، اپنے مالک کے کھیت کی بجائے کسی دوسرے کے کھیت میں چر رہا ہے۔ آپ نے وہیں، اس طبیب کو واپس جانے کا کہہ دیا۔ طبیب پریشان ہوگیا کہ یہ معاملہ کیا ہوا۔ کوئی خبر بھی نہیں آئی اور بجائے مریض کے پاس لیجانے کے واپس جانے کا کہہ رہے ہیں۔ حضرت علیؓ نے اسے بتایا کہ عمرؓ ابن الخطاب دنیا سے پردہ کرگئے ہیں۔ اگر وہ زندہ ہوتے تو یہ بکریاں کسی دوسرے کے کھیت میں نہ داخل ہوتیں۔ وہ یہودی طبیب اس معاملے کی سچائی واضح ہونے پہ دائرہ اسلام میں داخل ہوگیا۔ امیر المومنین حضرت عمر فاروق کی شہادت بھی سچائی کی حقانیت دنیا پہ واضح کرگئی۔ ایک چرواہے کے ریوڑ سے ایک بکری بھیڑئیے نے اچک لی تو وہ چرواہا رونے لگا۔ اس کے ساتھی نے کہا کہ روتے کیوں ہو، ایسا تو ہوجاتا ہے کہ بھیڑئیے بکری لے جاتے ہیں۔ اس نے کہا کہ جب سے عمر بن عبدالعزیز خلیفہ بنے، میری بکریوں کو کبھی بھیڑئیے نے نہیں اچکا، لگتا ہے، امیر المومنین اس دنیا میں نہیں رہے۔ یہ ہے اسلامی نظام حکومت اور امیر المومنین کی برکات۔ امیر المومنین کو انصاف و عدل کی اتنی فکر لاحق رہتی ہے کہ اللہ کا خوف ہر طرف جاگزیں ہوجاتا ہے اور عوام تو کیا درندے بھی اپنی حدود سے تجاوز نہیں کرپاتے۔ عوام غلط کام سے رک جاتے ہیں۔ دین اسلام کے پھیلنے کا سبب، اسلام کی حقانیت اور سچائی ہی ہے۔

حجاج بن یوسف کے دور میں جب لوگ صبح بیدار ہوتے اور ایک دوسرے سے ملاقات ہوتی توایک دوسرے سے دریافت کرتے کہ کون قتل ہوا اور کسے کوڑے لگے اور کس کی گردن اڑا دی گئی۔ ولید بن عبدالمالک کو تعمیرات کا شوق تھا۔ چنانچہ عوام اس دور میں ایک دوسرے سے مکانات کی تعمیر اور نہروں کی کھدائی اور درختوں، پودوں کی مختلف نسلوں اور افزائش کے متعلق باتیں کیا کرتے تھے۔ سلمان بن عبدالمالک کھانے پینے کا بہت شوقین تھا۔ جب سلمان بن عبدالمالک نے حکومت سنبھالی تو عوام آپس میں پکوانوں کی باتیں کرنے لگے۔ جب عمر بن عبدالعزیز نے حکومت سنبھالی تو چونکہ آپ بہت نیک دل اور خوف خدا رکھنے والے حکمران تھے۔ تو لوگ آپس میں ایک دوسرے سے پوچھتے کہ رات کو کتنے نوافل ادا کئے، کتنا قرآن مجید تلاوت کیا،کتنی احادیث یاد ہیں۔ رمضان المبارک کے بعد، کتنے روزے  رکھے۔ حج یا عمرے کیلئے کون گیا یا کون واپس آیا۔

ہندوستان میں ہی مغل بادشاہ، غازی ظہیر الدین بابر نے جب ہندوؤں کے لشکر کے مقابلہ میں اپنے لشکر کی بے سروسامانی اور جوانوں کے چہروں پر اس کے اثرات دیکھے تو ظہیر الدین بابر نے قرآن کریم ہاتھ میں لیا، توبہ کی، مسلمانوں کے سارے ناجائز محصول معاف کر دئیے، داڑھی منڈوانے سے توبہ کرلی اور پھر اس عزم اور ایمان کے ساتھ میدان میں اترا کہ تعداد کی کمی او ربے سروسامانی کے باوجود اس نے کافروں کو شکست دی۔

ماضی قریب میں پاکستان صدر جنرل ضیاء الحق شہید، تہجد گزار اور خوف خدا رکھنے والے حکمران تھے، انھوں نے اسلامی نظام حکومت کے نفاذ کی کوشش کی۔ جنرل ضیاء الحق کے دورمیں جب اسلامی قانون کے نفاذ کا اعلان ہوا، تو جامعہ اشرفیہ لاہور کے مہتمم سے تین افراد آکر ملے۔ انھوں نے پوچھا کہ ہم نے سنا ہے کہ پاکستان میں اسلامی قانون نافذ ہورہا ہے؟۔۔۔  انھوں نے” ہاں، لیکن ابھی ہوا نہیں "۔ تو ان تینوں افراد نے کہا کہ اسلام میں چور کی کیا سزا ہے؟۔۔۔  انھوں نے کہا کہ "ہاتھ کاٹنا”۔ تو ان تینوں افراد  نے جواب دیا  کہ "آپ گواہ رہنا ، ہم نے چوری سے توبہ کرلی”

حکمرانوں کی سوچ اور طرز عمل سے برائی اور جرائم کی سطح پہ یکسر کمی آتی ہے۔ جیسا کہ آج کل صرف پھانسی کی سزا بحال ہونے کا نتیجہ یہ نکلا کہ قتل کے واقعات میں نمایا ں کمی واقع ہونا شروع ہوگئی ہے۔

پاکستان میں پرویز مشرف کے دور میں خودکش دھماکوں کا سلسلہ شروع ہوا تو روز جب بھی ہم ٹی وی دیکھنے لگتے تو صرف اس خبر کا انتظار ہی ہوتا کہ کہاں دھماکہ ہوا اور کتنے بندے مرگئے ہوں گے۔ ایسے ہی آصف علی زرداری کے دور میں پتہ چلتا کہ فلاں محکمے میں بدعنوانی کے ذریعے  اتنی رقم کا غبن ہوگیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ کا عذاب ہوتا تھا۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!