تنظیم الاخوان اور پاکستان

رب کی دھرتی          رب کا نظام

نبی کریمﷺ نے مسلمانوں کو گوشہ نشین ہونے کی تعلیم نہیں دی بلکہ کلمہ حق اجاگر کرنے کی تعلیم دی ہے۔ ایسی جماعت کے ساتھ تعلق رکھیں جو خالصتا اسلام کے نفاذ کیلئے کوششں کر رہی ہے۔ تنظیم الاخوان پاکستان بغیر اقتدار کے لالچ کے ، صرف قرآن و سنت کا پیغام روئے زمین پہ پھیلا رہی ہے۔ تنظیم الاخوان کے کارکنان کے سینے اللہ کی یاد اور زبانیں درود سے تر ہیں۔ ذکر الہی سے سانسیں اور دل مزین ہیں۔ کسی غیر شرعی عمل اور غیرقانونی اقدامات کا حصہ نہیں بنے۔ اسی لئے سیاسی جماعت ہونے کے باوجود، تنظیم الاخوان پاکستان غیراسلامی طریقہ انتخاب میں حصہ نہیں لیتی۔ صرف مخلوق کو خالق کے در پہ کھڑا کرکے اللہ کی مدد کا طالب بنا رہے ہیں۔

پاکستان کی مذہبی سیاسی جماعتیں خود جمہوریت کی مخالف تھی اور آج اسی جمہوری نظام کا حصہ ہے۔ لیکن تنظیم الاخوان پاکستان نے نفاذ اسلام کیلئے کسی بھی غیرشرعی طریقے کو اختیار نہیں کیا اور نہ ہی کرے گی۔ ہمارا طریقہ کار اسلام کی تعلیمات کی روشنی میں بہت واضح ہے کہ صاحبان اختیار و صاحبان اقتدار سے مطالبہ کرنا، ترغیب دینا کہ نفاذ اسلام کیاجائے۔ ہم یہ مطالبہ کرنے کا اختیار رکھتے ہیں کہ قوت نافذہ ہمارے پاس نہیں۔ یہی بات تمام مذہبی سیاسی جماعتوں کے سربراہان سے تنظیم الاخوان پاکستان کے بانی حضرت مولانا امیر محمد اکرم اعوان رحمۃ اللہ علیہ نے کی کہ بجائے انتخابات کے غیرشرعی طریقہ انتخاب کو اختیار کرنے کی بجائے  نفاذ اسلام پہ توجہ مرکوز کی جائے۔

"مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ بھی قوت نافذہ والوں کے آگے حق کے نفاذ کا مطالبہ شرعی حدود میں رہ کر کرتے رہے”

اسی مقصد کے تحت حضرت مولانا امیر محمد اکرم اعوان رحمۃ اللہ علیہ کی کاوشوں سے "تحریک تبدیلی نظام” کا مشترکہ پلیٹ فارم مذہبی سیاسی جماعتوں نےبنایا تھا اور تمام جماعتوں نے مل کر جلسے جلوس کئے۔ جس کا مقصد صاحبان اختیار سے نفاذ اسلام کا مطالبہ تھا۔ لیکن بعد ازاں اس تحریک کی بجائے سب اپنی اپنی جماعت کے پلیٹ فارم پہ واپس چلے گئے۔اگر وہ اتحاد برقرار رہتا تو آج اسلام نافذ ہوچکا ہوتا۔

تنظیم الاخوان پاکستان کی نظر میں زندگی کے ہر لمحے اور ہر پہلو کو اسلام  کی تعلیمات کے مطابق عمل کرتے ہوئے گزارنا ہے۔ اس لئے تنظیم الاخوان پاکستان کی بنیاد ” تزکیہ نفس” ہے۔ دلوں کو پاک کرکے،  دلوں پہ اللہ کی حکمرانی کو قائم کرنا ہی تنظیم الاخوان کا منشور ہے۔ کسی کو ایذا پہنچانا، انتشار و فسادات پھیلانا، نقصان کرنا تنظیم الاخوان پاکستان کا کام نہیں۔ صرف اللہ کی رضا اور روئے زمین کے ذرے ذرے پہ اللہ کے عطاکردہ قوانین کا نفاذ ہی تنظیم الاخوان پاکستان کا مقصد ہے۔تنظیم الاخوان کا مشن نہ چندہ اکٹھا کرنا ہے اور نہ ہی لوگوں کو استعمال کرناہے۔بلکہ فلاح انسانیت کا مقصد حیات، دنیا کو دینا چاہتی ہے، جو روئے زمین کو اسلام نے عطا کیا ہے۔سیاسی، گروہی، فرقہ بازی کے تعصب سے ہٹ کر سیاست، مذہب ہر سطح پہ فلاح انسانیت کیلئے دعوت الی اللہ کا کام کررہی ہے۔ ہر وہ جماعت، ہر وہ شخص جو اسلامی نظام حکومت کا حامی ہے، تنظیم الاخوان پاکستان کے ہی مشن کا علم بردار ہے۔

اگر آپ کسی جماعت کاحصہ نہیں بننا چاہتے تو بھی بحیثیت مسلمان اسلام کا پیغام دوسروں تک پہنچانا آپ پر فرض ہے۔ اپنے بدن پہ اسلام نافذ کریں۔ اپنے گھر کو اللہ کی حکمرانی  کا گہوارہ بنائیں۔ اگر آپ اپنے بدن پہ اللہ کی حکومت قائم کرتے ہیں تو آپ نے پاکستان کے بائیس کروڑویں حصے پہ اسلام نافذ کردیا ہے۔ اگر آپ اپنے گھر پہ اسلام نافذ کرتے ہیں تو ساڑھے تین کروڑویں حصے پہ اسلام نافذ کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ اپنے حلقہ احباب کو اسلام کے نفاذ کا شعور دیں۔ اس اہمیت کا احساس دلائیں۔ ہر سطح پہ اسلام کو ترجیح دیں اور غیر اسلامی معاملات کو اعلانیہ ترک کریں تاکہ دوسروں کی بھی ترغیب ملے۔ ہر ایک کو یہ احساس دلائیں کہ دین اسلام صرف مکمل ضابطہ حیات ہے اور اسلام ہی قابل عمل ضابطہ حیات ہے ۔ اسلام پہ عمل کرکے ہم دنیا اور آخرت میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔ اسلام ہم سب کا سانجھا ہے جیسے اللہ ہم سب کے پروردگار ہیں۔ اقتدار کی خواہش کے بغیر صرف اللہ کی رضا کیلئے اسلام کا کام کریں۔ قرآن و سنت کے قانون کے نفاذ کی کوشش کرنا ہی جہاد ہے۔ کیونکہ جہاں قرآن و سنت کا قانون ہوگا، وہاں کوئی کسی سے ظلم نہیں کرسکے گا۔ کوئی کسی کی حق تلفی نہیں کر سکے گا۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!