نفاذ اسلام کے اصول

اللہ کے آخری رسولﷺ کی حیات طیبہ سے یہ درس ملتا ہے کہ اہل قریش نے آپ کو اپنے نظام حکومت کے تحت حکمران تسلیم کرنے کی بھی تجویز دی تھی جس کا آپ نے انکار کردیا۔ آپ نے ہجرت فرمائی اور ریاست مدینہ کی بنیاد رکھی۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ کسی غیراسلامی نظام کو جزوقتی قبول کرنے کا کوئی جواز نہیں۔ سربراہ مملکت سے لیکر، مجلس شوری، عدلیہ، افواج، معیشت سب کچھ، اسلام کے احکامات میں ڈھالنے کا نبی آخر الزماں، محمد رسول اللہﷺ کی حیات طیبہ سے درس ملتا ہے۔ اپنی پسند کے کسی  ایک نظام کو  اسلامی کرنا یا اصلاح کرنا اسلام کی تعلیمات نہیں۔

جب مغرب انقلاب اور تبدیلی لایا تو اس نے اس وقت کے موجود نظام یعنی  بادشاہت اور چرچ کے حکومتی نظام کا حصہ بن کر نہیں بلکہ اس کے خلاف جدوجہد کر کے سیکولر ازم اور لبرلزم جیسے نظاموں کو نافذ کرسکے۔ اسی طرح کمیونزم لانے میں مارکس اور اس کے ساتھی کیپٹل ازم کا حصہ نہیں بنے بلکہ اس کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے۔ جبکہ اس کے برعکس اسلامی ملک مصر میں الاخوان المسلمین طویل جدوجہد کے بعد جمہوریت کے ذریعے برسر اقتدار آئی لیکن اس حکومت کو نہ کام کرنے دیا گیا اور نہ ہی وہ حکومت اسلام نافذ کرسکی بلکہ صاحبان اختیار نے طاقت اور لاقانونیت کے ذریعے ان کی حکومت کو  ختم کردیا۔ آج تک کے حالات و واقعات یہی ثابت کرتے ہیں کہ جمہوریت کے ذریعے برسر اقتدار آ کر اسلام نافذ نہیں کیا جاسکتا۔  ترکی میں بھی آق پارٹی عرصہ دراز سے ایسی ہی کوششوں میں مشغول نظر آتی ہے۔ پاکستان میں بھی جمہوریت کی جڑوں کو مضبوط کرنے کیلئے اسلام پہ تنقید کی جاتی ہے لیکن پھر بھی کچھ مذہبی سیاسی جماعتیں، اس  نظام کا حصہ بنے بیٹھی ہیں اور بجائے اسلامی نظام حکومت کے نفاذ کیلئے آواز بلند کرنے کے، اب جمہوریت کے تسلسل کو ہی ملک کی بقاء کا سبب سمجھتی ہیں۔ انتخابات کے قریب نفاذ اسلام، خلافت راشدہ کا نظام، ریاست مدینہ کا نعرہ لگا کر عوام سے مذہب کے نام پہ ووٹ لے لیا جاتا ہے اور حکومت میں آتے ہی وہی پرانی ڈگر۔۔۔

اگر اس ملک میں اسلامی نظام حکومت نافذ ہوجاتا ہے تو کیسےقرآن وسنت کی  جگہ عدلیہ "ایل ایف او” کا حلف اٹھائے گی؟۔۔۔ ایل ایف اویعنی فرد واحد کو بلاروک ٹوک تمام اختیارات حاصل ہیں، کوئی حدود و قیود نہیں، خواہ آئین میں تبدیلی کرے۔ یقینا کوئی بھی قرآن و سنت کے تحت اپنے اختیارات استعمال کرنے کا حلف نہیں توڑے گا۔ وہ سب گردنیں کٹوانے کیلئے تیار ہوجائیں گے لیکن قرآن وسنت کی پاسداری کا حلف نہیں بدلیں گے۔ فوج تو ہے ہی اسلامی ادارہ اور اسلامی ملک کی حفاظت کا ضامن ادارہ۔ فوج کیسےاسلامی نظام حکومت کو روندسکتی ہے؟۔۔۔ من حیث الادارہ، کبھی بھی فوج اپنی ہی اسلامی ریاست پہ حملہ آور نہیں ہوسکتی۔۔۔  کوئی بھی کسی بھی انسان کی وفاداری کا حلف نہیں لے گا اور نہ ہی کسی انسانی ضابطے پہ عمل کا حلف ہوگا۔ بلکہ خلیفہ، امیر بھی قرآن و سنت کے تابع ہوگا۔ وہ اللہ اور اللہ کے آخری رسول، محمد رسول اللہ ﷺ کا "غلام” ہوگا۔

خوش قسمت ہوں گے وہ مسلمان جو اس نیک مقصد کیلئے کوشش کررہے ہیں اور کوشش کریں گے اور اسلامی نظام حکومت نافذ کریں گے۔۔۔ ہم بحیثیت مسلمان ہر سطح پہ اللہ کو راضی کرنے کا احکامات الہی بجا لانے کا اپنا فرض پورا کریں اور دل سے چاہیں کہ اسلام نافذ ہواور زبان سے بھی اس بات کا پرچار کریں، تبلیغ کریں۔ احکامات الہی پہ عمل کریں۔ اللہ ہم پہ مہربان ہوں گے اور ایسے لوگ خودبخود آگے آئیں گے، جو کہ نفاذاسلام ہی نہیں کریں گے بلکہ حدود اللہ کو روئے زمین پہ نافذ کریں گے۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!