خواتین اور جدید تعلیم

کہا جاتا ہے کہ مغرب نے عورتوں کو برابری کے حقوق دئیے اور ان کو اس قابل بنایا  کہ وہ معاشرے میں نمایاں کردار ادا کرسکیں جبکہ اسلام نے پردے کی آڑ میں عورتوں کو گھروں میں قید کردیا۔

جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے کہ صدیوں پہلے مسلمان خواتین علم و ادب میں وہ عروج حاصل کرچکی تھیں، جس کی مثال آج بھی ملنا مشکل ہے۔ اسلام کی پہلی آیت نازل ہوئی اس کا پہلا حکم ہی "اقرا” تھا یعنی کہ پڑھو ۔ اسلام کی روشنی جہاں جہاں پہنچی، وہیں علم کی شمعیں روشن ہوتی گئیں۔

نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ علم حاصل کرنا ہر مسلمان مردو عورت پر فرض ہے۔ آپﷺ کے اس حکم کی تعمیل میں جہاں مردوں نے اپنی جانیں کھپائیں وہی خواتین نے بھی علم حاصل کرنے کی تگ و دو کی۔

جب برطانیہ میں چارلس دوم کے عہد میں محض چند ایک خواتین لکھنا پڑھنا جانتی تھیں، اس عہد سے آٹھ سو سال قبل مسلم اندلس میں سینکڑوں خواتین علم و ادب کے میدان میں کارہائے نمایاں انجام دیکر تاریخ میں اپنا نام رقم کرچکی تھیں۔ عرب دنیا اور مشرقِ وسطیٰ کو تو جانے دیجئے صرف مسلم اسپین میں مختلف سوانح اور تذکرہ نویسی کی کتب میں ایک سو سے زیادہ اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین کا تذکرہ ہے۔ یہ صرف وہ خواتین ہیں جو اپنی علمی قابلیت کے سبب مشہور ہوکر تاریخ کے صفحوں میں محفوظ ہوئیں۔ ان خواتین کا زمانہ دوسری صدی ہجری سے لیکر آٹھویں صدی ہجری کے درمیان  ہے۔ ان میں کئی خواتین دین کی عالمہ تھیں۔ گیارہ خواتین سیکرٹری کے فرائض انجام دیتی رہی تھیں۔ چھ خواتین علم الحدیث کی ماہر تھیں۔ چار خواتین مؤرخہ تھیں۔ ایک خاتون علم الکلام کی استاد جانی جاتی تھیں۔ ایک خاتون میراث کی عالمہ تھیں۔ چار خواتین کتابت کی ماہر تھیں۔ تین خواتین عربی لغت کی ماہر تھیں اور دو خواتین عربی قواعد اور صرف و نحو میں اپنا ثانی نہیں رکھتی تھیں۔ جبکہ کئی خواتین خطاطی کی ماہرہ  تھیں۔

مسلم اندلس کے خلیفہ حکم ثانی کی منشی لبانہ نہ صرف ایک مشہور شاعرہ تھی بلکہ وہ ایک فلسفی اور سیاستدان بھی تھی۔ ایک شہزادی عائشہ بنت احمد کو تعلیم و تعلم سے اس قدر شغف تھا کہ وہ دن کا زیادہ حصہ اپنی خود کی مرتب کردہ وسیع و عریض لائبریری میں گزارتی تھی۔ اسی طرح اندلس کی ایک خاتون حفصہ بنت حمدون تھیں جو کہ نہ صرف عالمہ تھیں بلکہ بہت بڑی او ر معروف شاعرہ بھی تھیں۔ شاعری کے ساتھ ساتھ وہ ایک ماہر خطاطہ بھی تھیں اور لوگوں کو خطاطی کی تعلیم دیتی تھیں۔ مسلم اندلس کی ایک اور خاتون فاطمہ مغامی بھی اپنے دور کی  مشہور عالمہ تھیں۔

مریم بنت یعقوب اپنے وقت کی مشہور شاعرہ اور ماہر لغت و نحو تھیں۔ اسی طرح العروضیہ کے نام سے ایک آزاد کردہ لونڈی کو بھی اسپین کی تاریخ میں کافی نام ملا۔ ۴۵۰ ہجری میں وفات پانے والی یہ خاتون عربی قواعد کی نہ صرف کافی ماہرہ تھیں، بلکہ انہوں نے مبرد کی الکامل اور الکعب کی النوادر پر حاشیہ بھی لکھا تھا۔ علم و ادب کے ساتھ ساتھ اندلس کی خواتین سیاست میں بھی کافی آگے تھیں۔ عبدالرحمٰن ثانی کے دور میں امورِ سلطنت سلطانہ طروب نامی عورت کے ہاتھ میں تھے۔ اسی طرح خلیفہ ہشام ثانی  جب اپنی کم عمری کے سبب سلطنت کے انتظام سنبھالنے سے عاجز رہا تو اس وقت اس کی والدہ اور خلیفہ حکم ثانی کی بیوہ سلطانہ صبح  نے امورِ سلطنت اپنے ہاتھ میں لے کر  اس مشکل وقت میں خلافت کو استحکام بخشا۔ خلافت عثمانیہ کے خلیفہ مراد کے بالغ ہونے تک ان کی والدہ "کوسم سلطان” نے امور سلطنت بطور "والدہ سلطان” چلائے۔

فاطمہ بنت محمد الفہریہ القریشیہ اور ان کی بہن مریم بنت محمد الفہریہ القریشیہ، دونوں قریشی خواتین، جن کے آباء مکہ سے ہجرت کرکے مسلم اسپین میں آبسے تھے۔ نویں صدی عیسوی کے اوائل میں یہ خاندان قیروان سے مراکش کے شہر فاس چلے گئے۔ یہ دونوں اپنے وقت کی ممتاز عالمہ "علم الحدیث و علم الفقہ” کی ماہرہ تھیں۔ ان دونوں کے والداپنے وقت کے رئیس تاجر تھے۔ ان کے انتقال کے بعد جب ان بہنوں کو وراثت میں حصہ ملا تو انہوں نے اپنے مالِ وراثت سے ایک عظیم الشان مسجد کی بنیاد رکھی جو کہ اُس وقت بیس ہزار 20,000نمازیوں  کیلئے کافی تھی۔ بعد میں یہ مسجد ایک جامعہ  میں تبدیل ہوگئی  جو کہ دنیا کی قدیم  ترین جامعات میں سے ہونے کا شرف رکھتی ہے۔ 266ہجری میں اپنی وفات تک فاطمہ بنت محمد اس مدرسہ کی نگراں رہیں۔  بہت سے مسلمان حکمرانوں نے اس جامعہ میں توسیع بھی کی۔ یہ جامعہ / یونیورسٹی  859ء میں  شمالی افریقہ کی اسلامی ریاست میں آج سے تقریبا ساڑھے گیارہ سو سال پہلے قائم کی۔

جامعہ القرويين کی لائبریری کو بھی  قدیم ترین کتب خانوں میں سے ہونے کا شرف حاصل ہے۔ یہاں کئی شعبوں اور کلیہ میں تعلیم دی جاتی تھی جن میں  حدیث، فقہ، اسلامی شریعت، ریاضی، قواعد اور طب وغیرہ شامل تھے۔ جامعہ القرويين میں قرآن و سنت کے ساتھ ساتھ جدید علوم کی تعلیم بھی دی جاتی تھی اور علم و تحقیق کا گڑھ ثابت ہوئی۔ جبکہ اس لائبریری میں  کئی قدیم مخطوطے جن کی تعداد تقریباً 4000 کے قریب ہیں، جو دنیا میں کہیں اور نہیں موجود ہیں۔ ان مخطوطوں میں تیسری صدی ہجری کے ہاتھ کی کتابت سے لکھے قرآن اور احادیث کے مجموعے بھی شامل  ہیں۔

المختصر مسلمان خواتین نے زندگی کے ہر شعبہ میں ہمیشہ کارہائے نمایاں انجام دئیے۔ یہ وہ وقت تھا جب دوسری اقوام میں عورتوں کو معاشرے میں کوئی مقام حاصل نہ تھا۔ چہ جائیکہ وہ علم و ادب یا سیاست میں کوئی کارہائے نمایاں انجام دیتیں۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!