اخبارات اور برقی ذرائع ابلاغ

ذرائع ابلاغ کے استعمال سے دنیا سمٹ گئی ہے۔ اخبار و رسائل کے بعد برقی ذرائع ابلاغ سے دنیا میں خبر اورمعلومات کا ایک طوفان برپا ہوگیا۔

رائے عامہ ہموار کرنے کیلئے ذرائع ابلاغ کو ایک موثر ترین ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔ جنگ سے پہلے قوموں کو  کمزور  کرنا، بےبس کرنا، عوام الناس کی ذہن سازی کرنااور علاقوں کو فتح کرنے کا جھوٹ پھیلا کر حوصلے پست کرنے کا کام بھی ذرائع ابلاغ سے لیا جاتا ہے۔  دنیا میں جھوٹ پھیلانے اور امن کو تباہ کرنے میں مغربی ذرائع ابلاغ کا بہت بڑا کردار رہا ہے۔

قرآن مجید، احادیث اور تاریخی واقعات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ عوام کی اکثریت جاہل، بے راہ روی کا شکار ہوتی ہےاور اس میں یہ صلاحیت نہیں ہوتی کہ وہ فیصلہ کرسکیں کہ کیا کرنا درست ہے۔ اس لئے انبیاء علیہم السلام مبعوث ہوئے اور انھوں نے اللہ کا پیغام ان تک پہنچایا اور نظام حیات واضح کیا۔ ان کے خلاف بھی پروپیگنڈہ کیا جاتا تھا اور جھوٹ بول کر ان کے خلاف رائے عامہ بنائی جاتی تھی۔ قرآن مجید میں اللہ تعالی نے فرمایا کہ

"اللہ تعالی نے ایک قوم پہ صرف اس لئے عذاب نازل کیا کہ وہ جھوٹ سنتے تھے”

آج کل جھوٹ کو پھیلانے کا آسان ذریعہ ذرائع ابلاغ ہیں، خواہ وہ سماجی ذرائع ابلاغ  Social Media، برقی ذرائع ابلاغ  Electronic Media، ویب سائٹ یا اخبارات ہوں۔ ذرائع ابلاغ پہ بیٹھ کر لوگ جھوٹ  بولتے ہیں لیکن عذاب کا شکار پوری قوم ہورہی ہے۔  نبی آخر الزماں، الصدق الصادقین ﷺ نے فرمایا کہ

” لوگوں پر ایک زمانہ آئے گا کہ ہر طرف دھوکہ ہی دھوکہ ہوگا۔ سچے کو جھوٹا اور جھوٹے کو سچا بنا کر پیش کیا جائے گا۔
 خیانت کرنے والے کو امانت دار اور امانت دار کو خائن قراردیا جائے گا اور رویبضہ خوب بولے گا”

صحابہ اکرام رضوان اللہ اجمعین  نے پوچھا  کہ” رویبضہ کون ہے؟۔۔۔”۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا۔

"عوام الناس کے اہم معاملات میں بولنے والے نااہل اور فضول لوگ”

ضروری ہے کہ اللہ کے آخری نبی ﷺ کے ذریعہ ہم تک پہنچنے والے دین کی پیروی کی جائے اور کسی بھی سطح پہ سچ کا دامن نہ چھوڑا جائے۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!