احتساب کا عمل

حضرت عمرفاروق جب کسی سرکاری عہدے پر کسی کو فائز کرتے تھے تو اس کے اثاثوں کا تخمینہ لگوا کر اپنے پاس رکھ لیتے تھے اور اگر اس کے اثاثوں میں اضافہ ہوجاتا تو اس کا احتساب کیا جاتا۔

محمد بن عروة یمن کا گورنر بن کر شہر میں داخل ہوا لوگ استقبال کے لئے امڈ آئے، لوگوں کا خیال تھا کہ نیا گورنر لمبی چوڑی تقریر کریں گے، محمد بن عروہ نے صرف ایک جملہ کہا اور اپنی تقریر ختم کر دی وہ جملہ یہ تھا کہ "لوگوں یہ میری سواری میری ملکیت ہے اس سے زیادہ لیکر میں واپس پلٹا تو مجھے چور سمجھا جائے”۔ یہ عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ کا سنہرا دور تھا محمد بن عروہ نے یمن کو خوشحالی کا مرکز بنایا جس دن وہ اپنی گورنری کے ماہ و سال پورا کرکے واپس پلٹ رہا تھا لوگ ان کے فراق پر آنسو بہا رہے تھے لوگوں کا جم غفیر موجود تھا امید تھی کہ لمبی تقریر کریں گے محمد بن عروہ نے صرف ایک جملہ کہا اور اپنی تقریر ختم کر دی وہ جملہ"لوگوں یہ میری سواری میری ملکیت تھی میں واپس جا رہا ہوں میرے پاس اس کے سوا کچھ نہیں ہے”۔

حضرت عمر بن عبد العزیزؒ نے جب خلافت سنبھالی اور امیر المومنین بنے تو قومی خزانے کا کم و بیش اسی فیصد حصہ مقتدر لوگوں کے قبضے میں تھا اور بیت المال خالی ہو چکا تھا۔ حضرت عمر بن عبد العزیزؒ نے نادہندگان سے قومی خزانے کی رقوم اور اثاثے واپس لئے۔

1982ءسنگاپور میں لوک پال بل کا نفاذ کیا گیا اور 142راشی سیاستدان اور افسروں کو ایک ہی دن میں گرفتار کرلیا گیا اور اب دنیا کے دس امیر ترین ممالک میں سنگاپور کا شمار ہوتا ہے۔ سیاستدان کبھی بھی اکیلا بدعنوانی یا رشوت ستانی نہیں کرسکتا جب تک متعلقہ محکمے کے افسران اس کا ساتھ نہ دیں۔

احتساب کے معاملے میں کسی بھی سطح پہ سستی یا رعائیت  نہ برتی جائے۔ ناجائز ذرائع سے کمایا گیا مال یقینا کسی کی حق تلفی ہی ہے۔ وہ کسی اور کاجائز حق تھا جو کہ ناجائز طریقے سے حاصل کرلیا گیا۔ اس کی روک تھام ہی احتساب کی ذمہ داری ہے۔ حق تلفی کو بھانپنا پڑتا ہے، جس کیلئے احتساب کے محکمے پہ بہت بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

ہر سطح پہ شریعت کی مقرر کردہ حدود کے مطابق عدل و انصاف سے بلاتفریق احتساب کیا جائے۔

  1. تمام جاگیریں جو انگریزوں نے حکومت سے وفاداری کے صلہ میں دیں، بحق سرکار ضبط کی جائیں یا آج کے حساب  کے مطابق پیسے وصول کئے جائیں اور جاگیرداری نظام کا مکمل خاتمہ کیا جائے۔
  2. تمام قرضے جو معاف کئے گئے ہیں، ان سے بنائے گئے اثاثے ضبط کئے جائیں۔ ورنہ ایسے لوگوں کی جائیدادیں ضبط کی جائیں۔
  3. پاکستان کی لوٹی ہوئی دولت جو بیرون ممالک میں بدعنوانی یا رشوت ستانی سے جمع کی گئی ہے،واپس لائی جائے۔

 احتساب کے دوران اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ کاروباری سرگرمیاں متاثر نہ ہو پائیں۔ کیونکہ کاروبار سے منسلک بہت سے لوگوں کا روزگار وابستہ ہوتا ہے۔ بیت المال، محکمہ مال، سرکاری و غیر سرکاری اداروں  پہ نظر رکھ کراحتساب کا تسلسل برقرار رکھا جائے۔ ادارہ قومی احتساب کو احتساب کا عمل سست روی کا شکار نہ کرنے دیا جائے جو کہ سربراہ مملکت کی ذمہ داری ہے۔ ہر محکمے کی سطح پہ ایک آزاد احتساب کا شعبہ قائم کیا جائے جو بدعنوانی اور رشوت ستانی کا سدباب کرے۔ عدلیہ اور فوج کے احتساب کا بھی محکمانہ احتساب کی بجائے، محکمہ احتساب  ہی شفاف احتساب یقینی بنائے۔  ہرایک  پہ احتسابی نظر ہی نہ ہو بلکہ احتساب کا عمل سرعت انگیز اور موثر ہو۔ احتساب کا ادارہ تمام اداروں پہ نظر رکھے کہ کہیں بد عنوانی اور رشوت ستانی نہ ہوسکے۔ ان کی روک تھام کی قانون سازی کیلئے محکمہ احتساب، سفارشات بھی مجلس شوری کو بھیج سکے۔

سربراہ مملکت، مجلس شوری کے اراکین، ضلعی  امیر، ضلعی نمائندہ، ناظم، نمائندگان اورسرکاری ملازمین  اور ان کے قریبی رشتہ داروں  کی جائیداد پہ محکمہ احتساب کڑی نظر رکھے اور حساس ادارے بھی  احتساب کے متعلقہ محکموں کو باخبر رکھیں اور رشوت، لوٹ مار کے تمام رستے بند کئے جائیں۔ ہر سال جب ہر شہری اپنی آمدن کے گوشوارے جمع کروائے تو وہیں وہ اپنے اثاثوں کی تفصیلات بھی جمع کروائے گا، جس کے تحت زکوۃ ادا کرے گا۔ جس سے آمدن سے بہتر معیار زندگی کی بھی نشاندہی ممکن ہوگی اور رشوت اور لوٹ مار کا بروقت سدباب ممکن ہوگا۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!