ہند میں نظام حکومت

ہندوستان ایک بہت بڑی ریاست تھی اور اتنی بڑی ریاست نظام اور عہدوں کے بغیر چلانا ممکن ہی نہیں ہے۔

محمد بن قاسم کی قیادت میں اسلامی لشکر نے ظلم کے خاتمے کیلئے ہندوستان کا رخ کیا۔ محمد غوری نے اسلامی ریاست کی بنیاد رکھی اور شمس الدین التمش نے باقاعدہ خلافت سے فرمان خلافت حاصل کیا اور چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں بٹا ہوا خطہ ہند کو مسلمانوں نے ایک بڑی ریاست بنا دیا۔ غیرمسلم کے اکثریت میں ہونے کے باوجود عدل و انصاف، معیشت، و دیگر نظام حکومت، اسلامی تعلیمات کے مطابق ہی چلائے جاتے رہے۔

سلاطین دہلی خط و کتابت کے شعبے کے انچارج کو” دیوان ” کہتے تھے۔ اس شعبے کی ابتداء حضرت عمر فاروق کے دور میں ہوئی لیکن اس شعبے کو وسعت حضرت امیر معاویہ کے دور میں دی گئی۔ بعد ازاں اس میں بھی شعبے بن گئے۔ ہندوستان میں دیوان خزانہ/مالیات، دیوان انشاء، دیوان رسائل، دیوان عارض یعنی دفاع، دیوان قضاء، دیوان برید یعنی ڈاک و جاسوسی، دیوان رسالت یعنی خارجہ، دیوان مظالم، دیوان سیاست، وغیرہ شامل تھے۔ دیوان ایسے ہی ہے جیسے آج کل وزارت کے محکمے۔ دیوان کے انچارج کوبھی دیوان ہی کہتے تھے، جیسے آج کل وزارت کے انچارج کو وزیر کہا جاتا ہے۔

علماء و مشائخ عظام کا اس قدر احترام اسلامی حکومتوں میں کیا جاتا تھا کہ شرعی حیثیت کی تنقید سن کر بھی انھیں خلعت سے نوازا جاتا اور حق گوئی کی تعریف کی جاتی تھی۔ سلاطین دہلی مشکل وقت میں بالخصوص مشائخ سے دعاؤں اور روحانی مدد کے طالب ہوتے تھے۔

بختیار الدین کاکی رحمۃ اللہ علیہ کا جنازہ ادا کرنے کی تیاری مکمل ہے اور وصیت پڑھی جاتی ہے۔ "میرا جنازہ وہ شخص پڑھائے جس نے کبھی بغیر وضو آسمان نہ دیکھاہو، جس کی تکبیر اولی بھی کبھی قضا نہ ہوئی ہو، تہجد کبھی قضا نہ ہوئی ہو، جس کی عصر اور عشاء کی سنت غیرموکدہ کبھی قضا نہ ہوئی ہوں، کسی غیرمحرم پہ بری نظر نہ ڈالی ہو”۔ تاریخ میں اختلاف کے ساتھ ایسی شرائط مذکور ہیں۔ جب کوئی آگے نہیں بڑھتا تو سلطان الہند، شمس الدین التمش آگے بڑھتے ہیں اور عرض کرتے ہیں کہ "حضرت، جاتے جاتے میرا راز فاش کرگئے” اور جنازہ کی امامت کرتے ہیں۔ ٹیپو سلطان نے سرنگاپٹم میں ایک خوبصوررت مسجد تعمیر کی اور اعلان کیا کہ مسجد کا افتتاح وہ شخص کرے گا، جس نے زندگی بھر نماز قضا نہ کی ہو۔ کافی دیر تک کوئی شخص آگے نہ آیا تو ٹیپو سلطان خود آگے بڑھتے ہیں اور کہتے ہیں"اللہ کا شکر ہے میری آج تک کوئی نماز قضا نہ ہوئی ہے” اور افتتاح کرتے ہیں۔ ہمارے حکمرانوں کا اللہ کے ساتھ اتنا مضبوط تعلق تھا۔

اورنگزیب عالمگیر نے ہی فتاوی عالمگیری تیار کروایا تاکہ سلطنت میں ایک تحریری اسلامی قانونی دستور موجود ہو۔ مغلیہ سلطنت کے پاس "فتاوی عالمگیری” کی صورت میں تحریری اسلامی قانونی دستور موجود تھا۔

ہندوستان 562ریاستیں یا صوبے بتائے جاتے ہیں۔ صوبوں کا انچارج "صوبیدار” کہلاتا تھا اور ریاست کا انچارج "نواب” کہلاتا تھا۔

"سرکار”،میں کئی پرگنہ ہوتے تھے۔ سرکار جیسے آج کل ضلع ہوتے ہیں۔ ان کے انتظام صوبائی حکومتیں دیکھتی تھیں۔ "پرگنہ” جو کہ کم از کم ایک سو یا اس سے کچھ زیادہ دیہاتوں پہ مشتمل علاقہ کو کہتے تھے، جیسے آج کل تحصیلیں ہوتی ہیں۔

"زمیندار” پانچ سو ایکڑ زمین پر منتظم کو کہتے تھے اور زمین کے متعلق رپورٹیں "چوہدری” نیم سرکاری عہدہ دیا کرتا تھا، حقیقت چھپانے پہ زمیندار چوہدری کو سزا بھی دیتا تھا، جیسے آج کل "پٹواری” ہوتے ہیں۔ ان کے علاوہ کوتوال، قاضی، مفتی، صدر، صدرالصدور، امیر داد یا میر عدل، محتسب، وقائع نویس، بخشی، عامل، بتکچی، خزانہ دار، امین، قانون گو، پٹواری، کروڑی، تحصیلدار، زمیندار، کارکن، ضابطہ، ہرکارہ، سرکار، شقدار، فوجدار، دیوان جیسے عہدے ہوتے تھے۔

کوئی بھی فرد بادشاہ کے دربار میں حاضر ہوسکتا تھا۔ کسی بھی ادارے کے باصلاحیت اور مدبر لوگوں کو ترقی کے مواقع ملتے تھے اور وہ خاص الخاص تک بن سکتے تھے۔ ترقیاں علم، تجربے اور قابلیت کے مطابق ملتی تھیں۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!