ہندوستان کے روزگار اور معیشت

مغلیہ دور میں، مسلمانوں سے سال کے بعد ہونے والی بچت پہ 2.5% زکوۃ اور غیر مسلموں سے کم از کم جزیہ 3.5% وصول کیا جاتا تھا۔ اس میں طبقاتی تقسیم بھی تھی۔ پہلے طبقے میں وہ غیر مسلم تھے جن کی سالانہ آمدنی دس ہزار سے زیادہ تھی۔ دوسرے طبقے میں اس سے کم آمدنی والے غیرمسلم تھے۔

مغلیہ دور میں، کسانوں کو ان کی نقد فصل کے دس سے بیس فیصد عشر/خراج دینا ہوتا تھا جو کہ اسلام کے حکم کے عین مطابق تھا۔یہ مستقبل میں کاشت کے دوران موسم کی تبدیلی سے حفاظت کے ایک وسیع جال کو یقینی بناتا تھا۔ ہندوستان کے لوگ غیر متوقع خشک سالی کے نتائج سے بخوبی واقف تھے اور فروخت کرکے اتنا اناج ذخیرہ رکھتے تھے کہ بارش نہ ہونے کے باوجود غذا کی کمی نہ ہو۔

ہندوستان میں مغلیہ حکومت اپنی سلطنت کے مختلف علاقے ایک ایک سال کیلئے پٹے (لیز) پر دیا کرتی تھی اور ہر سال یہ علاقے نیلام ہوا کرتے تھے۔ جو سب سے زیادہ بولی لگاتا اسے ایک سال کیلئے اس علاقے کی زمینداری مل جاتی تھی۔ مغل حکمرانوں کے تربیت یافتہ دیوان نہ صرف بولی لگانے والے زمینداروں سے ٹیکس وصول کرتے تھے بلکہ اس پر بھی نظر رکھتے تھے کہ وہ رعایا کے ساتھ غیر ضروری سختی نہ برتیں۔ دیوان کو یہ اختیار ہوتا تھا کہ وہ عوامی بےچینی کی صورتحال میں زمیندار کی زمینداری ختم کر دیں۔

کسٹم / محصول /راہداری بھی  وصول کئےجاتے تھے۔ ہندوستانی سونا، پٹ سن، چائے، کافی، گندم، چاول اور دیگر اناج، کپاس، خام مال، نمک اور کوئلہ تھا۔ مصنوعات کے اعلی معیار کی یہ مثال ہے کہ برطانیہ کے ہاؤس آف کامنز نے 1813ء میں تھامس منرو،جوبعدازاں مدراس کا گورنر بنا سے پوچھا کہ آخر صنعتی انقلاب کے بعدبرطانیہ کے بنے ہوئے کپڑے ہندوستان میں کیوں نہیں بک رہے تو اس نے جواب دیا کہ "ہندوستانی کپڑے کہیں زیادہ بہتر کوالٹی کے ہوتے ہیں۔ میں ایک ہندوستانی شال سات سال سے استعمال کر رہا ہوں مگر وہ آج بھی نئی جیسی ہے۔ اگر کوئی مجھے یورپ کی بنی شال تحفے میں بھی دے تو میں اسے استعمال نہیں کروں گا”۔

پورے خطہ ہند برصغیرمیں انگریزوں کے دور سے پہلے ایک بھکاری نظر نہیں آتا تھا اور خزانہ بھرا ہوا تھا اور ایک پیسہ کا بھی ریاست پہ قرض نہ تھا۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ ہر کوئی برسر روزگار ہی نہیں تھا بلکہ خوشحال تھا۔ معاشی حوالے سے ہندوستان اوسطاً  دنیا کی کل سالانہ آمدن کا 25% فیصد سے زیادہ کا حصہ دار تھا۔ در آمدات کم اور برآمدات زیادہ تھیں۔ ماہر معاشیات جانتے ہیں کہ کسی بھی ملک کی کامیابی کا راز اسی میں مضمر ہے۔ سترویں صدی میں فرانسیسی سیاح فرانکیوس برنئیر ہندوستان آیا اور کہتا ہے کہ ہندوستان کے ہر کونے میں سونے اور چاندی کے ڈھیر ہیں. اسی لئے سلطنت مغلیہ ہند کو "سونے کی چڑیا” کہا جاتاتھا۔

دنیا کی سب سے بڑی جہاز رانی کے انڈسٹری  ہندوستان میں تھی۔ فن تعمیر کی جو تفصیلات تاج محل، شیش محل، شالامار باغ اور دیوان خاص وغیرہ وغیرہ میں نظر آتی ہے، اس سے لگتا ہے کہ انکے معمار جیومیٹری کے علم کی انتہاؤں کو پہنچے ہوئے تھے۔ تاج محل کے چاروں مینار صرف آدھا انچ باہر کی جانب جھکائے گئے۔ تاکہ زلزلے کی صورت میں گریں تو گنبد تباہ نہ ہوں۔ مستری کے اینٹیں لگانے سے یہ سب ممکن نہیں۔ اس میں حساب کی باریکیاں شامل ہیں جو کہ ثابت کرتی ہیں کہ ماہرانجینئیر اور آرکیٹیکٹ کی زیرنگرانی ہی یہ کارنامے سرانجام پائے۔ پورا تاج محل 90 فٹ گہری بنیادوں پر کھڑا ہے۔ اس کے نیچے 30 فٹ ریت ڈالی گئی کہ اگر زلزلہ آئے تو پوری عمارت ریت میں گھوم سی جائے اور محفوظ رہے۔ لیکن اس سے بھی حیرانی کی بات یہ ہے کہ اتنا بڑا شاہکار دریا کے کنارے تعمیر کیا گیا ہے اور دریا کنارے اتنی بڑی تعمیر اپنے آپ میں ایک چیلنج تھی، جس کیلئے پہلی بار "well foundation” کنواں نما بنیادیں متعارف کرائی گئی۔ یعنی دریا سے بھی نیچے بنیادیں کھود کر انکو پتھروں اور مصالحہ سے بھر دیا گیا، اور یہ بنیادیں سینکڑوں کی تعداد میں بنائی گئی گویا تاج محل کے نیچے پتھروں کا پہاڑ اور گہری بنیادوں کا وسیع جال ہے۔ اس طرح تاج محل کو دریا کے نقصانات سے ہمیشہ کیلئے محفوظ کر دیا گیا۔ انگریز نے تعمیرات میں ویل فاونڈیشن کا آغاز انیسویں صدی اور فریب نظر یعنی  optical illusions کا آغاز بیسویں صدی میں کیا۔ جب کے تاج محل ان طریقہ تعمیر کو استعمال کر کے سترھویں صدی کے وسط میں مکمل ہو گیا تھا۔ عمارت کے اندر داخل ہوتے ہوئے اسکا نظارہ فریب نظر  سے بھرپور ہے۔ یہ عمارت بیک وقت اسلامی، فارسی، عثمانی، ترکی اور ہندی فن تعمیر کا نمونہ ہے۔ یہ فیصلہ کرنے کیلئے حساب اور جیومیٹری کی باریک تفصیل درکار ہے۔ تاج محل کو مغل شاہکار کہا جاتا ہے۔  کسی بھی ریاست کی فکری برتری میں اس کے آرٹ کا  اہم حصہ ہوتا ہے، اور تاج محل یہ ثابت کرتا ہے کہ تکنیکی مہارت، فن تعمیرات اور تعمیراتی خوبصورتی میں مغل ریاست دنیا سے بہت آگے تھی، جو کہ ایک اعلی تعلیمی نظام کی صورت میں ہی ممکن ہے۔ دنیا کے کسی خطے میں ماربل سے کوئی ایسا خوبصورت کام نہیں لیا گیا۔

 "ٹائل موزیک” فن ہے ، جس میں چھوٹی چھوٹی رنگین ٹائلوں سے دیوار پر تصویریں بنائی جاتی اور دیوار کو منقش کیا جاتا ہے۔ یہ فن لاہور کے شاہی قلعے کی ایک کلومیٹر لمبی منقش دیوار اور مسجد وزیرخان میں نظر آتا ہے۔ ان میں جو رنگ استعمال ہوئے، انکو بنانے کیلئے آپ کو موجودہ دور میں پڑھائی جانے والی کیمسٹری کا وسیع علم ہونا چاہئے۔ یہی حال فریسکو پینٹنگ کا ہے، جن کے رنگ چار سو سال گزرنے کے باوجود آجتک مدہم نہیں ہوئے ۔ تمام مغل ادوار میں تعمیر شدہ عمارتوں میں ٹیرا کوٹا (مٹی کو پکانے کا فن) سے بنے زیر زمین پائپ ملتے ہیں۔ ان سے سیوریج اور پانی کی ترسیل کا کام لیا جاتا تھا۔ کئی صدیاں گزرنے کے باوجود یہ اپنی اصل حالت میں موجود ہیں۔

موجودہ دور کے سائنسی پیمانوں پر ایک نصاب کی صورت تشکیل دیا جائے تو صرف ہندوستان کے فن تعمیر کا مکمل علم، سیکھنے کیلئے پی ایچ ڈی  کی کئی ڈگریاں درکار ہوں گی۔ کیا یہ سب کچھ اس ہندوستان میں ہو سکتا تھا، جس میں جہالت کا دور دورہ ہو اور جس کے حکمرانوں کو علم سے نفرت ہو؟۔۔۔ سیاحوں کیلئے ان عمارات کے سحر سے نکلنا ایک مشکل کام ہے۔ فخر اور حیرانی ہوتی ہے کہ ان ادوار میں مشین کا وجود نا ہونے کے باوجود ایسے شاہکار تعمیر کرنا ناممکن لگتا ہے۔ مغلیہ فن تعمیر پر غور کرنے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ  جب مغرب یونیورسٹیاں بنا رہا تھا تو یہاں وہ تعلیمات پہلے ہی عام ہو چکی تھیں۔

مغلیہ  دور میں دنیا بھر کی آمدن/جی ڈی پی کا چوتھائی حصہ سے زیادہ تقریبا چھبیس فیصد حکومت کی سالانہ آمدن تھی۔ آج تک امریکہ، چین، متحدہ یورپ جیسے بڑے صنعتی  ممالک بھی اٹھارہ فیصد تک پہنچ سکے ہیں۔ اس کی نسبت ہند کی ریاست پہ کسی قسم کا کوئی قرض نہ تھا جبکہ آج کے ترقی یافتہ ممالک قرضوں میں ڈوب چکے ہیں۔ جبکہ انگریزوں کے بنائے نظام حکومت نے اس قوم میں بھکاری پیدا کئے اور اب نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے  کہ پوری دنیا کے ممالک اسی جمہوریت و سرمایہ دارانہ نظام معیشت کی وجہ سے مقروض ہوچکے ہیں۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!