ہندوستان میں عدل و انصاف

صوبائی حکومتیں تواتر سے بادشاہ کو قضا / عدلیہ، محصولات اور دیگر امور کی رپورٹ، دہلی بھیجتی تھیں۔ ہند میں عدل و انصاف کی بے شمار مثالیں موجود ہیں۔ ۸۰۰ ہجری کے آغاز میں سلطان احمد شاہ، والئی گجرات دکن مقرر ہوئے۔سلطان احمد شاہ نہایت ہی نیک، عادل اور رحیم بادشاہ تھا۔ سلطان کا داماد، نہایت ہی خوبصورت، بااخلاق اور وجیہہ نوجوان ہونے کے علاوہ شاہی خاندان کا رکن اعظم بھی تھا۔ اتفاق سے اس کے ہاتھ سے ایک غریب مزدور مارا گیا۔ گرفتار کرکے عدالت میں مقدمہ چلایا گیا۔ کچھ بااثر لوگوں نے وارثوں کو خون بہا پہ راضی کرلیا اور بائیس اشرفیاں خون بہا طے پاگئیں۔ وارثوں نے راضی نامے پہ دستخط بھی کردئیے۔ مسل مقدمہ  مکمل ہوکر آخری فیصلے کیلئے سلطان کے سامنے پیش ہوئی۔"حضور والا۔ میں مقدمے کی تحقیق نیز گواہوں کے بیانات سے اس امر کی تصدیق کرتا ہوں کہ ملزم واقعی قتل عمد کا مرتکب ہوا ہے اور اس پر قصاص ازروئے شرع جاری ہونا ضروری ہے۔ لیکن مقتول کے ورثاء جوکہ اب مدعی کی حیثیت سے ہیں، برضاو رغبت خون بہا لینے پر راضی ہیں۔ میں نے ورثاء کے مشورے سے ۲۲ اشرفیاں خون بہا تجویز کی ہیں۔ برائے حصول حکم آخری مسل اجلاس معلی میں پیش کرنے کی عزت حاصل کرتا ہوں”۔

سلطان نے حکم لکھوایا۔ ” اس میں شک نہیں کہ ورثاء راضی ہوگئے، لیکن حقیقت میں فیصلہ بہت کمزور ہے۔اور یقین کامل ہے کہ اس میں میرا داماد ہونے کی وجہ بھی اثر کررہی ہے۔وارثوں کا خیال ہوگا کہ ہماری اس در گزشت سے بادشاہ ممنون ہوگا۔ دوسرے اس فیصلےکا نتیجہ یہ نکلے گا کہ شاہی خاندان کے افراد ہر ایک کمزور اور غریب رعیت کو اسی طرح مار ڈالا کریں گے۔ میں سیاستا، انتظاما اور اخلاقا اس فیصلہ کے خلاف ہوں۔ جبکہ مجھے معلوم ہے کہ میری عزیز اور پیاری بیٹی اس صدمے سے مجروح ہوگی۔ اور اس کو داغ بیوگی برداشت کرنا پڑے گا۔ لیکن میں اولاد اور خاندان کی خوشی کیلئے رعایا کی جان اس طرح ارزاں کرنا مناسب نہیں سمجھتا۔ملزم نے جو اس طرح بیباکانہ غریب کا خون بہایا، اس میں ضرور یہ گھمنڈ پوشیدہ ہے کہ میں بادشاہ کا چہیتا داماد ہوں ، جو کسی طور اولاد سے کم نہیں ہوتا۔اسی طرح راضی نامہ اور فیصلہ میں بھی ضرور شاہی رعایت کا لحاظ کار فرما ہے۔ ان تمام حالات و واقعات پر نظر کرتے ہوئے میں کسی طرح مناسب نہیں سمجھتا کہ عدالت ماتحت کے فیصلے کو بحال رکھا جائے۔اس فیصلہ سے دولتمندوں کو بڑی ڈھیل ملے گی۔ ایک شاہی خاندان کے رکن کیلئے بائیس اشرفیاں کوئی اہمیت نہیں رکھتیں۔ ایک جان بہت قیمتی ہوتی ہے۔ خواہ وہ غریب کی ہی کیوں نہ ہو۔ اس لیے میں ماتحت عدالت کے فیصلے کو منسوخ کرتا ہوں اور حکم دیتا ہوں کہ قاتل کو قصاص کے طریقے پر تختہ دار پرلٹکایا جائے۔ نیز یہ حکم بھی دیتا ہوں کہ عبرت کے واسطے ایک دن رات وسط شہر میں قاتل کی لاش کو لٹکایا جائے۔ تاکہ پھر کسی دولت مند کوکسی غریب کا خون بہا دینے کی جرات اور امید باقی نہ رہے”۔

مغلیہ دور کو بہت زیادہ تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے کہ بادشاہ بہت ظالمانہ انداز میں حکومت کیا کرتے تھے۔  ملکہ ممتازمحل میں تیر اندازی کی مشق کر رہی تھی کہ ملکہ  ممتاز کا نشانہ خطا ہونے سے تیرہوا میں چلا گیا اور کوئی قتل ہوگیا۔ مقتول کے وارث شاہی دربار میں پیش ہوگئے۔ فورا انکوائری  کی گئی کہ شاہی تیر سے ہلاکت کا ذمہ دار کون ہے۔معلوم ہوا کہ ملکہ کے تیر سے یہ ہلاکت ہوئی ۔ مغل بادشاہ  نے حکم دیا کہ قتل والی  جگہ پہ ملکہ کو کھڑا کرکے قصاص دیا جائے۔ لیکن مدعی نے موقع پہ ہی اپنی مرضی سے خون بہا لے کر معاف کرنے کا اعلان کردیا۔ جبکہ دیکھا جائے تو مقتول کے ورثاء کے زخم ابھی تازہ تھا۔ لیکن انصاف کی فوری فراہمی کو عدل کے ساتھ یقینی بنانا ہی اسلامی ریاستوں کا ہمیشہ شیوہ رہا ہے۔ اسلامی ریاستوں کی  تاریخ میں ایسا نہیں ملتا کہ مجرم نامعلوم ہو یا انصاف نہ کیا گیا ہو۔ اورنگزیب عالمگیر کے ایک گورنر نے قتل کے مقدمہ کی رپورٹ لکھ بھیجی کہ فلاں جگہ قتل ہوا اور قاتل نامعلوم ہے۔ جس پر اورنگزیب عالمگیر نے جواب لکھ بھیجا کہ میں آرہا ہوں اور میرے آنے تک اگر قاتل نہ ملے تو گورنر سزا کیلئے تیار ہوجائے۔بادشاہ کے پہنچنے سے پہلے ہی قاتل کو ڈھونڈ لیا گیا تھا۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!