ہندوستان میں تعینات برطانوی افسران

پون صدی پہلے تک حکمران قوم کا ہر فرد ہی خود کو حکمران سمجھتا تھا اور غلام بسر و چشم خدمت و خوشامد پر آمادہ رہا کرتے تھے۔ قدرت اللہ شہاب نے لکھا ہے کہ جب ایسٹ انڈیا کمپنی نے جنوبی ایشیا میں تجارت کی آڑ لے کر سیاست کا جال پھیلایا تو بہت سے ملازمین کا ٹڈی دل بھی ان کے ساتھ انگلستان سے یہاں وارد ہوا۔ اِن گورے ملازموں کی تنخواہ فقط پانچ پاؤنڈ ماہوار تھی مگر ان کو ذاتی تجارت کی کھلی چھٹی تھی۔ چنانچہ اکثر ملازم چند سال میں لاکھوں سمیٹ کر واپس انگلستان کی راہ لیتے۔ لندن کے نواح میں وسیع جائیدادیں خریدتے اور پھر "نباب” (نواب) کہلاتے۔   شہاب نامہ میں "صاحب، بنیا اور میں” کے عنوان سے ایک باب ہے جس میں اس نوع کے صاحب کے معمولات مذکور آئے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں۔

"صبح سات بجے کے قریب جب صاحب بہادر کی آنکھ کھلتی تھی، تو سب سے پہلے حمال دبے پاؤں کمرے میں داخل ہو کر کھڑکیاں اور دروازے کھولتا تھا۔ مسالچی بستر پر تنی ہوئی مچھر دانی سمیٹتا تھا ۔ ایک طرف سے بیرا "چھوٹا حاضری” کی چائے پیش کرتا تھا۔ دوسری جانب سے حجام لپک کر بڑھتا تھا اور صاحب کے سر کے نیچے دوتین تکئے رکھ کر لیٹے ہی لیٹے اس کی شیو بنا دیتا تھا۔ چلمچی اور آفتابہ لا کر بستر ہی میں اس کا ہاتھ منہ دھلایا جاتا تھا۔ اس کے بعد جب وہ بریک فاسٹ کے لئے بیٹھتا تو یہی حجام کرسی کے پیچھے کھڑا ہو کر اس کے سر کی ہلکی ہلکی مالش کرتاتھا، بال بناتا تھا، وگ جماتا تھا۔ کانوں کی میل نکالتا تھا اور ہاتھ پاﺅں کی انگلیوں کو چٹخاتا تھا۔ ناشتہ ختم ہوتے ہی حقہ بردار حقے کی نلکی اُس(صاحب) کے منہ میں دے کر خود پیتل کی ایک چمکدار پھکنی سے چلم کی آگ سلگاتا رہتا تھا۔ حقے کی پہلی گڑگڑاہٹ کے ساتھ ہی صاحب کا بنیا جھک جھک کر سلام کرتا ہوا کمرے میں داخل ہوتا تھا۔ اس کے بعد ملازموں کی فوج ظفر موج کا ریلا اندر آتا تھا۔ خانساماں، بیرا، مسالچی، حمال، مالی، بہشتی، کتے والا، پنکھے والا، دھوبی، درزی۔ سب باری باری سلام کرکے اپنی دن بھر کی ضروریات پیش کرتے تھے۔ بنیا انہیں پورا کرنے کا بیڑا اٹھاتا تھا۔ اس کے بعد دفتر کے منشی، متصدی، پیشکار، ہرکارے، چوبدار اور چپڑاسی پیش ہوتے تھے۔ دس بجے صاحب کمرے سے برآمد ہو کر اپنی حیثیت کے مطابق گھوڑے یا پالکی یا فٹن پر سوار ہوتے تھے۔ اُن کے سر پرچھاتا کھلتا تھا اور آگے پیچھے دس پندرہ چوبداروں ، برقندازوں اور چپراسیوں کا جلوس چلتا تھا، جو بڑی خوبصورت رنگین وردیوںمیں ملبوس ہوتے تھے۔ کچھ وقت دفتر میں گزار کر سارے مقامی انگریز ایک بجے ٹفن کے لئے جمع ہوجاتے تھے۔ لنچ میں پندرہ سے اٹھارہ تک کھانے کے کورس اور چار پانچ قسم کی شرابیں ہوتی تھیں۔ چار بجے کھانے سے فارغ ہو کر شام کے سات بجے قیلولہ ہوتا تھا۔ اس کے بعد باربر ایک بار پھر ان کے کان کی میل نکالتا تھا، انگلیوں کے جوڑ چٹخاتا تھا، اور بال سنوارکرسر پروگ جماتا تھا، آٹھ بجے سب لوگ اپنی اپنی سواریوں پر ہوا خوری کے لئے نکلتے تھے، اور دس بجے ڈنر کے لئے بیٹھ جاتے تھے۔ ڈنر کے بعد رات گئے تک حقے اور شراب کادور چلتا تھا۔اس محنت شاقہ کے عوض یہ لوگ چندبرس میں لکھ پتی بن کر اپنے وطن سدھارتے تھے”۔

برطانوی کاروباری طبقہ کے علاوہ ایک اور جنس بھی یہاں موجود تھی "افسر شاہی”۔ یہ صاحب بہادر لوگ تھے۔ ان کی روایات آج بھی بیوروکریسی میں دیکھی جاسکتی ہیں۔ مقبوضہ ہندوستان کے ڈپٹی کمشنر صاحب کے دفتر کا منظر دیکھئے۔

"صاحب بہادر کی شاندار میز اور کرسی کے سامنے ایک پارٹیشن ہوتی جو لکڑی یا خوبصورت پردوں کی بنی ہوتی تاکہ کوئی سائل (یعنی محکوم غلام) صاحب کی جھلک نہ دیکھ پائے۔ کمرے کے باہر غلام قوم کا ایک ہندوستانی چپراسی شاندار پگڑی اور وردی میں ملبوس مستعد کھڑا ہوتا جو کسی بھی سائل کو صاحب تک رسائی سے پہلے اسے اس کی اوقات سمجھاتا۔ اگر چپڑاسی مناسب سمجھتا تو باادب و باملاحظہ اندر جا کر صاحب کا موڈ دیکھ کر سائل کی آمد کی اطلاع دیتا۔ صاحب تجاہلِ عارفانہ یا تکبرِ حکمرانہ برتتے ہوئے تھوڑی دیر کے لئے اسے نظرانداز کرتا۔   اتنی دیر چپڑاسی، صاحب کے حضور دست بستہ کھڑا رہتا۔ پھر صاحب انداز ِخسروانہ میں پوچھتے "کیا بولٹا ہے” بعد از بصد آرزو و بدقت تمام یہ پیکر عجز و نیاز، غلامی کے جوئے میں دبا ہوا سائل اگر شرف باریابی حاصل کر ہی لیتا تو صاحب بہادر اندر آتے ہوئے غلام کو کن اکھیوں سے دیکھتا اور پھر رعب و دبدبہ قائم رکھنے کے لئے میز پر سے ایک کاغذ اٹھا کر اپنی نظریں اس پر گاڑ دیتا‘ گویا کوئی انتہائی دقیق مسئلہ حل کرنے میں مصروف ہے۔ اگرچہ اس دوران وہ اندازہ لگاتا کہ سائل کی شخصیت کو کرش کرنے یا اسے اپنی ہیبت و طمطراق سے متاثر یا گھائل کرنے میں کتنی دیر لگے گی۔ جب صاحب کی قوتِ متخیلہ یہ فیصلہ سنا دیتی کہ اب سائل بحث کرنے کے قابل نہیں رہا تو شاہانہ انداز میں نظریں اٹھا کر پوچھتا "کیا مانگٹا ہے؟۔۔۔” سائل کانپتے ہوئے ٹوٹی پھوٹی زبان میں اپنا مدعا پیش کرتا۔ صاحب گھنٹی پر انگلی دباتا، سرکار کا ایک ملازم اندر داخل ہوتا اور صاحب بہادر حکم صادر فرما دیتے۔ جس کا مطلب یہ نہ ہوتا کہ مسئلہ حل ہو جائے گا بلکہ یہ کہ کاغذی کارروائی شروع ہو جائے گی۔ جس کا نتیجہ نچلے درجے کے کالے صاحبان کی صوابدید پر منحصر ہوتا۔ یوں سرخ فیتہ ایک میز سے دوسری میز تک چلتا رہتا”۔

 اب ذرا صاحب بہادر کی کوٹھی کا منظر جو الطاف گوہر نے اپنی کتاب” لکھتے رہے جنوں کی حکایت” میں نواب امیر محمد خاں کی زبانی بیان کیا ہے۔

"ہم لوگ چندہ تو مسلم لیگ کو ادا کرتے تھے مگر ہماری اصل سیاست اپنے کمشنر کی سیاست تھی۔ ایمرسن صاحب (انگریز کو وہ ہمیشہ "صاحب” ہی کہتے تھے) جو کہہ دیتے ہم وہی کرتے تھے۔ لاہور کے ڈپٹی کمشنر کا گھر گورنمنٹ ہاؤس کے قریب ہی ہوتا تھا۔ یکم جنوری کی صبح ہم لوگ وہاں اکٹھے ہو جاتے تھے۔ بڑے بڑے طرے لگا کر، نیلے گنبد والے کپور تھلہ ہاﺅس کی بنی ہوئی نئی شیروانیاں پہنتے۔ہر ایک زمیندار، جس میں ٹوانے، نون، دولتانے اور ممدوٹ سب شامل ہوتے، اپنے ساتھ نذر کی ڈالیاں لاتے۔ ہم سب خاموشی سے شامیانے کے نیچے کھڑے ہو جاتے۔ بات تو کیا، کھسر پھسر بھی نہیں کرتے تھے۔ سب اس انتظار میں کہ ابھی ڈپٹی کمشنر بہادر نمودار ہوں گے تو باجماعت کورنش بجا لایں گے۔صاحب بہادرنشہ میں مدہوش پڑے ہوتے۔ نئے سال کی آمد کی خوشی میں گزشتہ شب انھوں نے جام پر جام لنڈھائے ہوتے۔ کوئی گیارہ بجے کے قریب ایک باوردی چوبدار چک اٹھا کر باہر آتا اور اعلان کرتا، "صاحب بولا، سلام ہو گیا”۔ اب ہم بڑے جوش و خروش سے ایک دوسرے سے بغل گیر ہوتے اور مبارک سلامت کا غلغلہ مچ جاتا۔ کمشنر بہادر تک ہم زمینداروں کی رسائی مشکل سے ہوتی تھی”۔

 نواب کالا باغ، صدر مملکت جنرل ایوب خان کے دور میں مغربی پاکستان کے گورنر رہے اور ہرکوئی ان کی دہشت سے کانپتا تھا۔ غلاموں کو ان کی اوقات یاد دلانے کیلئے ہندوستان کے بادشاہوں، راجوں، مہاراجوں، نوابوں کا لباس شیروانی، کلاہ، شلوار اور سلیم شاہی جوتا، صاحب بہادر کے دربان، خانساماں اور چپڑاسی کو پہنایا گیا۔ ضلع کے نواب اور جاگیردار جیسی طرے والی پگڑی پہن کر صاحب بہادر کے دربار میں حاضری کو جاتے، ویسی ہی صاحب کے دربان نے پہنی ہوتی۔ شملہ سول کلب کے باہر "no entry for dogs and indians” کا بورڈ لگا ہوتا۔

ایک انگریز خاتون نے اپنے سول سروس آفیسر کے ساتھ زندگی کے کئی سال ہندوستان کے مختلف علاقوں میں گزارے۔ واپسی پر اپنی یاداشتوں پر مبنی کتاب میں لکھتی ہے کہ میرا شوہر جب ایک ضلع کا ڈپٹی کمشنر تھا اُس وقت میرا بیٹا تقریبا  چار سال کا اور بیٹی ایک سال کی تھی۔ ڈپٹی کمشنر کو ملنے والی کئی ایکڑ پر محیط رہائش گاہ میں ہم رہتے تھے۔ ڈپٹی کمشنر کے گھر اور خاندان کی خدمت گزاری پر کئی سو افراد معمور تھے۔ روز پارٹیاں ہوتیں، شکار کے پروگرام بنتے ضلع کے بڑے بڑے زمیندار ہمیں اپنے ہاں مدعو کرنا باعث فخر جانتے اور جس کے ہاں ہم چلے جاتے وہ اسے اپنی عزت افزائی سمجھتا۔  درحقیقت ہمارے ٹھاٹھ ایسے تھے کہ برطانیہ میں ملکہ اور شاہی خاندان کو بھی مشکل سے ہی میسر تھے۔ ٹرین کے سفر کے دوران نوابی ٹھاٹھ سے آراستہ ایک عالیشان ڈبہ ڈپٹی کمشنر کے اہلخانہ کیلئے مخصوص ہوجاتا۔ جب ہم ٹرین میں سوار ہوتے تو سفید لباس میں ملبوس ڈرائیور ہمارے سامنے آکر دونوں ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو جاتا اور سفر کے آغاز کی اجازت طلب کرتا۔ اجازت ملنے پر ہی ٹرین چلتی۔  ایک بار ایسا ہوا کہ ہم سفر کیلئے ٹرین میں بیٹھے تو روایت کے مطابق ڈرائیور نے حاضر ہو کر اجازت طلب کی۔ اس سے پہلے کہ میں بولتی میرا بیٹا بول اٹھا جس کا موڈ کسی وجہ سے خراب تھاکہ ٹرین نہیں چلانی۔ ڈرائیور نے حکم بجا لاتے ہوئے کہا کہ جو حکم چھوٹے صاحب۔ کچھ دیر بعد صورتحال یہ تھی کہ اسٹیشن ماسٹر سمیت پورا عملہ جمع ہو کر میرے چار سالہ بیٹے سے درخواست کر رہا تھا لیکن بیٹا ٹرین چلانے کی اجازت دینے کو تیار نہیں ہوا۔ بلآخر بڑی مشکل سے میں نے کئی چاکلیٹس دینے کے وعدے پر بیٹے سے ٹرین چلوانے کی اجازت دلائی تو سفر کا آغاز ہوا۔  چند ماہ بعد میں دوستوں اور رشتہ داروں سے ملنے واپس برطانیہ آئی۔ ہمیں اپنی منزل تک پہنچنے کیلئے ٹرین کا سفر کرنا تھا۔ بیٹی اور بیٹے کو اسٹیشن کے ایک بینچ پر بٹھا کر میں ٹکٹ لینے چلی گئی۔ قطار  طویل ہونے کی وجہ سے خاصی دیر ہو گئی۔ جس پر بیٹے کا موڈ بہت خراب ہو گیا۔ جب ہم ٹرین میں بیٹھے تو عالیشان کمپاونڈ کے بجائے فرسٹ کلاس کی سیٹیں دیکھ کر بیٹا ایک بار پھر ناراضگی کا اظہار کرنے لگا۔ وقت پر ٹرین نے وسل دے کر سفر شروع کیا تو بیٹے نے باقاعدہ چیخنا شروع کر دیا۔ وہ زور زور سے کہہ رہا تھا، یہ کیسا الو کا پٹھہ ڈرائیور ہے۔ ہم سے اجازت لئے بغیر ہی اس نے ٹرین چلانا شروع کر دی ہے۔ میں باپ سے کہہ کر اسے جوتے لگواؤں گا۔ میرے لیے اُسے سمجھانا مشکل ہو گیا کہ یہاں  اُس کا باپ حکمران نہیں بلکہ یہ ایک آزاد ملک ہے۔ یہاں ڈپٹی کمشنر جیسے تیسرے درجہ کے سرکاری ملازم تو کیا وزیر اعظم اور بادشاہ کو بھی یہ اختیار نہیں کہ عوام کو خوار کرسکیں۔ انگریز افسران، جنھوں نے ہندوستان میں ملازمت کی، جب واپس برطانیہ جاتے تو انہیں وہاں سرکاری ذمہ داری بھی نہ دی جاتی۔ دلیل یہ تھی کہ تم نے ایک غلام قوم پر حکومت کی ہے جس سے تمہارے اطوار اور رویئے میں فرق آگیا ہے۔ یہاں اگر کوئی ذمہ داری تمہیں دی جائے تو تم آزاد قوم کو پریشان کروگے۔

برصغیر میں مسلمان حکمرانوں کے نظام کا خاتمہ اور برصغیر کی آج تک چلنے والی عبرتناک تباہی انگریزوں کے ہاتھوں برصغیر میں سرانجام پائی۔ یہ بد بخت سرمایہ پرستی اور سرمایہ داری نظام اور نسلی تعصب کا عذاب ہے جو ہماری بے شعوری کی وجہ سے آج بھی قائم ہے۔نوآبادیاتی دور کا مطالعہ اِس لئے بھی اہم ہے کہ اِس کے بغیر ہم اپنے موجودہ مسائل کا درست تناظر میں جائزہ لینے اور اُن کا حل نکالنے کے قابل نہیں ہوسکتے۔

ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہندوستان کو تجارت کے نام پر لوٹ کر بے حساب دولت کمائی۔ دسمبر 1700ء میں انگریز ایک جرس زمین مانگنے آئے اور 1857ء تک بھارت پہ مکمل برطانوی راج قائم کرنے میں کامیاب ہوئے۔ انگریز بتدریج ڈیڑھ سو سال میں ہندوستان پہ قبضہ کرنے میں کامیاب ہوسکے۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!