کرنسی اور تجارت میں برقی دھوکے

کاغذی کرنسی کے تیزی سے زوال پزیر ہونے کے بعد اب سونا چاندی اور حقیقی دولت کو اپنے زیر اثر رکھنے کیلئے سرمایہ دارانہ نظام نے پوری دنیا میں "پلاسٹک کرنسی” یعنی اے ٹی ایم کارڈ اور کریڈٹ کارڈ کے ذریعے ہر انسان کو غلام رکھنے کی کوشش جاری ہے۔ جبکہ آپ کے پاس اے ٹی ایم یا کریڈٹ کارڈ یعنی “Plastic Money” ہے۔ لیکن اگر بینک کا کمپیوٹر نظام جہاں آپ کی رقم کا ریکارڈ موجود ہے، بند کردیا جائے تو آپ کے بینک کھاتہ میں جتنی بھی کاغذی رقم موجود ہو آپ کے کسی کام نہیں آسکتی ۔ آپ کو کریڈٹ کارڈ کے ذریعے جتنی بھی رقم نکلوانے کا اختیار ہو، آپ کچھ نہیں کرسکتے۔ اگر اے ٹی ایم مشین یا دکاندار کے پاس موجود مشین کام نہ کرے تو بھی آپ کا یہ کارڈ بےکار ہے۔ بجلی کی فراہمی یا انٹرنیٹ موجود نہیں تو بھی آپ کا کارڈ بےکار ہے۔جنگی حالات میں بھی اس سے بھی شدید خطرناک صورتحال کا سامنا ہوگا۔ کیونکہ اس “Plastic Money”  کے اوپر اس کارڈ کی مالیت بھی  درج نہیں ہوتی اور آپ کا کارڈ بالکل ہی بیکار ہے۔ آپ اس نظام کا کچھ بھی نہیں کرسکتے۔ کاغذی کرنسی کے دھوکے کے بعد پلاسٹک کا ٹکڑا تھما کر ہر انسان کی محنت کے معاوضے اور بچت کو بینک کے پاس محفوظ کرنے کے بہانے ضبط کرنے کا بندوبست کیا جارہا ہے۔پلاسٹک کرنسی دنیا کا دوسرا سب سے بڑا دھوکا ہے۔

لیکن اس سے بھی بڑا تیسرا دھوکہ “Crypto Currency/Digital Currency” کے نام سے متعارف کروایا جارہا ہے۔اب جبکہ کاغذی کرنسی نے دنیا کی معیشت کو عدم توازن کا شکار کردیا ہے تو کاغذی کرنسی کو بتدریج ڈیجیٹل کرنسی میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ جس کے تحت آپ کو ایک ایسی کرنسی کا مالک بنایا جارہا ہے جس کا آپ کے پاس کوئی ثبوت ہی موجود نہیں۔ آپ کتنی مالیت کی رقم کے مالک ہیں، اس کا ریکارڈ صرف"کمپیوٹر سرور” پہ موجود ہے اور اگراس سے ریکارڈ ضائع ہوجائے یا وہ بند ہو جائے یا وہ آئی ڈی بند ہوجائے یا اس کا مالک بھاگ جائے یا اس کو کوئی قبول نہ کرے تو آپ کا سرمایہ ختم ہو جائے گا۔ ویسے بھی اس رقم کو دنیا کے ننانوے اعشاریہ ننانوےفیصد سے بھی زیادہ جگہوں پہ قبول کرنے کا کوئی نظام ہی موجود نہیں ہے۔ اس سب کا مقصد دھوکہ دہی سے پوری دنیا کو مزیدلوٹنا ہے۔ جو کہ "کاغذی کرنسی اور پلاسٹک منی” سے بھی بڑا دھوکہ ہے۔

کاغذی کرنسی کی تجارت، "فورین ایکسچینج مارکیٹ” دنیا کی سب سے بڑی مارکیٹ ہے۔ کاغذی دولت کی تجارت میں سو سالوں میں لگ بھگ 200 گنا اضافہ ہوا۔یہاں روزانہ ہونے والی خرید و فروخت کا حجم تقریبا 5000 ارب ڈالر سے زیادہ کا ہوتا ہے۔ اس کے برعکس پوری دنیا میں ایک سال میں بکنے والے 35 ارب بیرل معدنی تیل کی قیمت 1750 ارب ڈالر ہوتی ہے۔

"فاریکس ٹریڈ” ایک اوربڑا دھوکہ ہے۔ جس کے تحت انٹرنیٹ پہ سونا، تیل وغیرہ جیسی چیزوں کی تجارت کی جاتی ہے۔ جبکہ کوئی شخص خواہ وہ کتنا ہی بااختیار کیوں نہ ہو، چاہتے ہوئے بھی تجارت کے ذریعے خریدا گیا سونا یا تیل حاصل نہیں کرسکتا۔ اس نظام کی حقیقت یہ ہے کہ آپ کا پیسہ اکٹھا کرلیا جاتا ہے اور تیل، سونے کی خریدو فروخت کا جھانسا دیکر آپ کا پیسہ وصول کرلیا جاتا ہے اور سونے یا تیل کی خریداری کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی اور جب چاہیں وہ آپ کو لوٹ کر بھاگ جائیں۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!