کاغذی کرنسی

سونے، چاندی، ہیرے جواہرات و دیگر اجناس کو حفاظت کے پیش نظر کسی شخص کی تحویل میں دے دیا جاتا جو قابل بھروسہ بھی ہوتا اور اس رقم کی حفاظت بھی کر سکتا۔ ایسا شخص عام طور پر ایک امیر سونار ہوتا تھا۔ وہ سنار اس مال کی جو رسید جاری کرتا، ان رسیدوں پہ بازار میں لین دین ہونے لگا۔ یہ ایک عمومی حقیقت ہے۔

البتہ ابن بطوطہ جو 1324ء سے 1355ء کے درمیان چین کی سیاحت پر گئے تو چین میں کاغذی کرنسی نوٹوں کے استعمال کا کا تذکرہ کیا ہے۔ "اہل چین درہم یا دینار کے ذریعہ سے خرید و فروخت نہیں کرتے بلکہ سونے اور چاندی کو پگھلا کر ان کے ڈلے بنا کر رکھ چھوڑتے ہیں اور کاغذ کے ٹکڑوں کے ذریعہ سے خرید و فروخت کرتے ہیں۔ یہ کاغذ کا ٹکڑا کفدست (ایک بالشت ) کے برابر ہوتاہے اور بادشاہ کے مطبع میں اس پر مہر لگاتے ہیں "

پندرھویں صدی عیسوی کے لگ بھگ جاپان اور آس پاس کے علاقوں میں مذہبی عبادت گاہوں (پگوڈا) میں اناج ذخیرہ کرنے کے بڑے بڑے گودام موجود ہوا کرتے تھے، جن میں لوگ اپنا اناج جمع کرکے کاغذی رسید حاصل کر لیتے تھے اور پھر منڈی میں لین دین کیلئے ان ہی رسیدوں کو استعمال کرتے تھے۔ لوگ سونے یا چاندی یا اس طرح کی قیمتی چیزیں بھی محفوظ رکھنے کی غرض سےمذہبی پیشوا کے پاس رکھواتے تھے۔ پگوڈا میں اناج یا سونا چاندی جمع کرانے والے کو اجرت بھی  ادا کرنی پڑتی تھی۔

ایسے ہی برطانیہ کے سنار لوگوں کے سونے کی حفاظت کرتے آئے تھے۔ وہ سونے کے عوض رسیدیں جاری کرتے تھے۔ ان کی جاری کردہ رسیدیں اس علاقے کی کرنسی بنتی گئیں۔ یعنی ان رسیدوں کو لوگ خریداری کیلئے استعمال کرنے لگے۔ رفتہ رفتہ سنار بینکوں کی شکل اختیار کرتے گئے۔ انھیں وقت کے ساتھ ساتھ یہ سمجھ آنے لگی کہ اگر چاندی کے سکے بالکل ختم کر دئیے جائیں تو سونے کی بجائے سونے کی رسید سے ہی کام چل سکے گا۔ کیونکہ چاندی روزمرہ کی لین دین میں استعمال ہونے والی مقبول ترین عوامی کرنسی ہے جبکہ سونے کا سکہ کبھی کبھار ہی استعمال ہوتا ہے۔ اس طرح زرکثیف کی جگہ کاغذی کرنسی لےسکتی ہے۔ جیسے جیسے بینکاری کو عروج حاصل ہوتا گیا تو بینکاروں کو یہ بھی اندازہ ہوتا گیا کہ کاغذی کرنسی کے رواج کو فروغ دینے سے کس قدر زیادہ منافع ہو سکتا ہے اور کاغذ چھاپ چھاپ کر ان کی دولت میں خاصا اضافہ ہو سکتا ہے۔ چاندی کے سکوں کی موجودگی میں مرکزی بینکاروں کو کاغذی کرنسی کا رواج عام کرنے میں سخت دشواری کا سامنا تھا۔ بینکار جانتے تھے کہ صدیوں سے لوگ چاندی میں لین دین اوربچت کرتے آئے ہیں۔1869ء میں بیرون الفانسو ڈی روتھشیلڈ نے کہا تھا کہ "ہمیں چاندی کی کرنسی کو مکمل طور پر ختم کرنا پڑے گا تاکہ دنیا کے سرمائے (capital) کا بڑا حصہ برباد کیا جا سکے۔ یہ بہت بڑی تباہی ہو گی "۔

یورپ کے نشاة ثانیہ میں حصہ لینے والے خاندانوں میں سے فلورنس اٹلی کے میڈیکس خاندان نے سویڈن میں پہلا بنک دی رکس 1656ء میں قائم کیا۔ پھر بنک آف برطانیہ سود خوری کے منظم ادارے کے طور پر 1694ءمیں قائم کر دیا گیا۔

جیسے جیسے کاغذی کرنسی کا رواج بڑھتا چلا گیا عوام کے پاس موجود سونا اور چاندی اور دھاتی سکے مرکزی بینکوں کی تجوریوں میں منتقل ہوتے چلے گئے۔ عالمی جنگوں اور شدید مالی بحرانوں کے دوران بھی بینکوں کا سونا بڑھتا ہی رہا اور عوام غریب ہی نہیں بلکہ مقروض بھی ہوتے چلے گئے۔ 1965ء میں مرکزی بینکوں کے پاس اکٹھے ہوجانے والے سونے کی مقدار لگ بھگ 38500 ٹن تھی۔

سونے کے رسید کے طور پہ یورپ میں پہلا باقاعدہ کاغذی کرنسی نوٹ 1661ء کو "سٹاک ہام بینک” آف سویڈن نے جاری کیا۔ برطانیہ نے 1695ء میں کرنسی نوٹ جاری کئے۔ ہندوستان میں پہلا نوٹ 5 جنوری 1825ء کو ”بنک آف کلکتہ” نے جاری کیا جس کی مالیت دس روپے تھی۔

1694ءسے پہلے انگلستان میں اپنے پاس جمع شدہ سونے سے زیادہ کی رسیدیں (کاغذی کرنسی نوٹ ) چھاپنا قانوناً جرم تھا۔ فرانس سے جنگ کی وجہ سے بادشاہ ولیم شدید مالی مشکلات کا شکار تھا۔ چند امیر سناروں نے بادشاہ کو 12 لاکھ پاونڈ کی خطیر رقم 8فیصد سود پر اس شرط کے ساتھ قرض دینے کا وعدہ کیا کہ انہیں اپنے پاس جمع شدہ سونے سے زیادہ مالیت کی رسیدیں چھاپنے کا حق دیا جائے۔ یہ حکومت کی طرف سے جعلی سونے کی رسیدیں چھاپنے کا پہلا اجازت نامہ تھا۔ اس طرح 1694ء میں ولیم پیٹرسن کو بینک آف برطانیہ بنانے کی اجازت بھی مل گئی۔اسی طرز کے قوانین پہ مئی 1716میں فرانس میں جنرل بینک اور دسمبر 1913 میں امریکہ میں فیڈرل ریزرو بینک بنایا گیا۔ بینک اپنے پاس موجود سونے چاندی سے زیادہ کی رسیدیں یعنی کاغذی نوٹ چھاپ کر منافع اور سونا اکٹھا کرتے رہے۔ 1844ء میں برطانیہ نے ایک قانون کے ذریعے بینکوں کے کرنسی نوٹ چھاپنے کی آزادی ختم کی۔ لیکن بینکوں کا کام چیک اور ڈرافٹ کے ذریعے جاری رہا جو اس قانون کی زد میں نہیں آتا تھا۔

دنیا کے کئی ممالک میں کاغذی کرنسی مقبول نہ ہو رہی تھی کیونکہ لوگ سونے چاندی پہ اعتبار کرتے تھے۔ ان میں چین، ہندوستان اور امریکہ جیسے بڑے ممالک شامل تھے۔ جبکہ برطانوی بینکار ایک ایسی کرنسی چاہتے تھے جسے وہ پوری طرح کنٹرول کر سکیں اور یہ کرنسی صرف کاغذی کرنسی ہو سکتی تھی۔ ان بینکوں نے مختلف مواقع پر حکومتوں سے قوانین کے ذریعے ایسے  اقدامات کروائے جو لوگوں کو کاغذی کرنسی استعمال کرنے پر مجبور کرتے تھے۔ حتی کہ کاغذی کرنسی کو کامیاب کرنے کیلئے25 اپریل 1933ء کو ایک قانون کے تحت امریکہ اور کینیڈا نے عوام پہ سونا رکھنے پر پابندی لگا دی تھی۔

جب انگریز ہندوستان میں آیا تھا تو سونا ہندوستانیوں کے پاس تھا اور کاغذی کرنسی انگریزوں کے پاس تھی۔ جب انگریز یہاں سے گیا تو سونا انگریزوں کے پاس تھا اور کاغذی کرنسی ہندوستانیوں کے پاس تھی۔ انگریز ہندوستان میں قدم رکھنے کے بعد ہی سونا، چاندی لوٹنے کیلئے کاغذی کرنسی کو رواج دینے کی کوشش میں لگ گیا۔ ہندوستان باقی دنیا کو بہت زیادہ مالیت کا سامان تجارت برآمد کرتا تھا جبکہ درآمدات کم تھیں۔ یعنی تجارت کا توازن ہندوستان کے حق میں تھا۔ انگریز اس مال کے بدلے ہندوستان کے لوگوں کو سونا یا چاندی ادا نہیں کرنا چاہتا تھا۔ انگریزوں کی کوشش تھی کہ ہندوستان میں بھی کاغذی کرنسی کا رواج پڑ جائے تو صرف کاغذ چھاپ چھاپ کر مال خریدا جا سکتا ہے۔ ہندوستانیوں کو بینکاری اور کاغذی کرنسی کا تجربہ نہیں تھا جبکہ انگریز اس فراڈمیں ماہر ہوچکے تھے۔ ہندوستان کے لوگوں کو بینکاری کی عادت ڈالنے کیلئے ایسٹ انڈیا کمپنی کے زمانے سے  ہی ڈاک خانوں میں پوسٹل سیونگ بینک بنائے گئے۔ جن سے سونا چاندی بٹورنا ممکن ہوا۔ 1879ء میں ان بینکوں کی جانب سے 4 فیصد کے لگ بھگ سود دیا جاتا تھا جو بعد میں کم ہوتا چلا گیا۔ اس زمانے میں افراط زر بہت کم ہونے کی وجہ سے یہ معقول منافع تھا۔ انگریز کی ہندوستانی حکومت ہر سال اوسطاً ساڑھے 13 کروڑ روپے کا سونا برطانیہ بھیجتی رہی۔

سکے بنانے والے کارخانوں کو ٹکسالی کہا جاتا تھا۔ ٹکسالیں 2 فیصد اجرت کے عوض عوام سے چاندی لے کر اسے سکوں میں تبدیل کر دیا کر تی تھیں اور سکے بنوانے کی کوئی حد مقرر نہیں تھی۔ کاغذی کرنسی کو عروج دینے کیلئے آہستہ آہستہ ٹکسالوں کی بندش کرکے سکے بنوانے کی سہولت عوام سے چھین لی گئی۔ یہ سہولت ختم ہونے کے بعد مالیاتی نظام پہ حکومتیں پوری طرح قابض ہوتی چلی گئیں اور کاغذی کرنسی کو فروغ دیتی گئیں۔ اس طرح حکومتوں کا چاندی اور سونے کی قیمتوں کو کنٹرول کرنا بھی ممکن ہوگیا۔ درحقیقت عوام کیلئے ٹکسالیں بند کر کے حکومتوں نے آزاد منڈیFree Market Economy کی پشت میں چُھرا گھونپ دیا۔ سونے کا سکہ  )اشرفی( غائب کرکے ہندوستان کی برطانوی حکومت نے چاندی کا سکّہ بنانے والی ساری ٹکسالیں عوام کیلئے بند کروا دیں تاکہ نہ چاندی کا سکہ مناسب مقدار میں دستیاب ہو نہ لوگ اسے استعمال کر سکیں۔ سونے کا سکہ (اشرفی) انگریز پہلے ہی سمیٹ کر غائب کر چکا تھا۔ اس طرح ہندوستانیوں کے پاس لین دین کیلئے کاغذی نوٹ بطور کرنسی استعمال کرنے کے سوا کوئی چارہ نہ رہا۔

1815ء میں فرانس کی شکست کے بعد برطانیہ کو کرنسی کے معاملات میں واضح برتری حاصل ہوگئی اور وہ ساری دنیا کو قرضے جاری کرنے لگا۔ اس طرح تجارتی خسارے کے دنوں میں بھی برطانیہ کاغذی کرنسی کے ذریعے سونا حاصل کرتا رہا۔ 1914ء میں دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا بھر کو قرض دینے کا حق برطانیہ کے ہاتھ سے نکل کر امریکہ کے ہاتھ میں چلا گیا کیونکہ امریکہ نے عالمی مالیاتی برتری برطانیہ سے چھین لی تھی اور یہی کام کاغذی کرنسی ڈالر کے ذریعے پوری دنیا کو معاشی غلام رکھنے کیلئے امریکہ کرنے لگا۔ پہلی جنگ عظیم کے نتیجے میں مقروض ہونے وال ملک، امریکہ 1919ء تک کاغذی نوٹ چھاپ چھاپ کر قرضہ دینے والا سب سے بڑا ملک بن گیا اور دنیا بھر کا سونا ہتھیانے لگا۔

"1933ء تک امریکہ اور برطانیہ کاغذی ٹکڑوں کے عوض دنیا بھر کا بیشتر سونا ہتھیا چکے تھے”

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!