کاغذی کرنسی کی شرعی حیثیت

خلیفہ مروان بن الحکم کے عہد حکومت میں لوگوں کوجار (بازار کا نام) کے غلّے کی سندیں/راشن کارڈ ملے، جنہیں "صکوک” کہا جاتا تھا۔ لوگوں نے رسیدوں کو ہی آگے ایک دوسرے کو بیچ دیا۔ ابھی  غلہ اپنے قبضہ میں نہ لائے تھے۔ حضرت زید بن ثابت اور حضرت ابو ہریرہ رضوان اللہ اجمعین مروان بن الحکم کے پاس گئے اور کہا ” اے مروان!کیا آپ نے  سود کی بیع کو جائز قرار دیا ہے؟۔۔۔”۔ خلیفہ مروان بن الحکم نے کہا "معاذاللہ۔ میں نے تو ایسا نہیں کیا”۔ تو انہوں نے کہا کہ "آپ نے صکوک فروخت کرنے کی اجازت دی ہے، حالانکہ رسول اللہﷺ نے بیع سے منع فرمایا تاآنکہ اسے قبضہ میں لے لیا جائے”۔ مروان بن الحکم نے محافظوں کو بھیجا کہ وہ رسیدیں لوگوں سے چھین کر رسید والے یعنی مالکان کے حوالے کر یں۔ اس سے معلوم ہوا کہ قرون اولی میں  رسیدوں پہ تجارت کو حرام سمجھا گیا۔

عالم اسلام میں1840ء میں خلافت عثمانیہ میں کاغذی نوٹوں کی ابتدا کی گئی۔ جس کے خلاف علماء اکرام/مجلس شوری نے فتوی دیا۔ لہٰذا اس پر پابندی لگا دی گئی۔ کچھ وقت کے بعدیہ کوشش دوبارہ کی گئی لیکن اس پر پھر پابندی لگائی گئی اور اس وقت کے مفتی ا‍ عظم شیخ علیش نے اس کے استعمال کو حرام قرار دیا۔ لیکن سقوط خلافت کے بعد اسلامی قوانین کی پرواہ نہ کی گئی اور ہر اسلامی ملک بشمول ترکی نے بھی کاغذی کرنسی چھاپی۔

مغربی نظامِ معیشت میں حکومت کو یہ کھلا اختیار دیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی شے کو "زر”قرار دے سکتی ہے مثلاً حکومت اگر کہے کہ کاغذی نوٹ "زر” ہے تو سب کو ماننا پڑے گا اور اگر کہے کہ پلاسٹک سے بنے کارڈ "زر”ہے تو سب کو ماننا پڑے گا۔ لہٰذا دنیا کے تمام ممالک نے کاغذی نوٹ کو بطور "زر” مقرر کررکھا ہے۔ اگر کوئی شخص اپنے ملک کی کرنسی لینے سے انکار کرے تو حکومت اُسے مجرم قرار دے کر سزا دے سکتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ ملک میں موجود اشیاء کے عوض مرکزی بینک کی جاری کردہ رسید ہے لیکن رسید اگر دو بندوں کے درمیان نجی معاملہ ہو تو حلال ہے لیکن اس کو تیسرے اور چوتھے بندے پر بیچ نہیں سکتے ہیں۔ جب تک اس مال پر قبضہ حاصل نہ کر لیا جائے۔ جیسا کہ آج کل حکومتی اور نجی مختلف رہائشی منصوبوں کے فارم، رسیدوں کی شکل میں بازار میں بکتے ہیں اور ان پہ خوب منافع کمایا جاتا ہے۔ان کی اصل قیمت کچھ اور ہوتی ہے اور ان کی قیمت فروخت کچھ اور ہوتی ہے جبکہ پلاٹ یا مکان موجود نہیں ہوتا۔اس لئے یہ بھی جائز نہیں۔

فقہاء نے کرنسی کا تذکرہ کرتے ہوئے "نقد” کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔ لغت میں خرید و فروخت میں نقد کا معنی ہے جو ادھار نہ ہو۔ کاغذی کرنسی کو ایک رسید کہا جاتا ہے، جبکہ رسید جاری کرنے والی حکومت یا مرکزی بینک نے کبھی کسی کو آج تک رسید کے بدلے کوئی جنس عطا نہیں کی۔ اس لئے کاغذی کرنسی کا کوئی شرعی جواز ہمیں نہیں ملتا۔ کاغذی کرنسی  کے استعمال سے غرر لازمی آتا ہے، جس کی اسلام میں ممانعت ہے۔ الموسوعۃ الفقہیۃ میں ہے۔

” امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف ، مالکی ( مشہور مسلک ) شافعی اور حنبلی فقہا کا خیال ہے کہ
 دھاتی سکوں کے ذریعے مضاربہ درست نہیں کیونکہ مضاربہ
"عقد غرر” ہے جو ضرورت کی بنا پر جائز قرار دیا گیا ہے۔
چنانچہ یہ انہی چیزوں کے ساتھ خاص رہے گا جو اکثر مروّج ہوں اور  ان کے ساتھ تجارت آسان ہو اور وہ نقدیاں ہیں”

مزید یہ کہ فقہاء عظام  کا اتفاق ہے کہ "دھاتی سکوں میں ربا نہیں ہے بلکہ یہ سامان کی طرح ہیں "۔کاغذی  نوٹوں کے ساتھ مشارکہ یا بیع سلم درست نہیں کیونکہ کاغذی نوٹ دینے  کی رسید ہے۔ جبکہ شرعی اعتبار سے شراکت اور سلم میں سرمایہ نقد ہونا ضروری ہے۔ جبکہ ریز گاری حاصل کرنے کیلئے سونے کے سکے”دینار” کے عوض چاندی کے سکے "درہم” یا دینار، درہم کے بدلے "فلوس” یعنی دھاتی سکے حاصل کرنا جائز ہیں۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ

"حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ نے حکم دیا کہ
 تم ایک دینار کو دو دینار اور ایک درہم کو دو درہم کے عوض فروخت نہ کرو”

اس سے ثابت ہوا کہ زر کی تجارت کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں۔ حدیث مبارک ہے کہ

"سونا سونے کے بدلے، چاندی چاندی کے بدلے، گندم گندم کے بدلے، جوء جوء کے بدلے، کھجور کھجور کے بدلے اور نمک نمک کے عوض مقدار میں مساوی ایک جیسے اور نقد بنقد ہونے چاہئے۔ جب یہ قسمیں تبدیل ہوجائیں تو پھر جیسے چاہو بیچو بشرطیکہ دونوں طرف سے نقد ہو”

نئے نوٹ فروخت کرنے کا کاروبار جائز نہیں۔ کاغذی کرنسی کی طرح اسلامی معاشی نظام میں پلاسٹک کرنسی، کرپٹو کرنسی یعنی برقی کرنسی Digital Currency بھی مکمل طور پر حرام ہیں۔

ایک رائے یہ ہے کہ نوٹ سونے، چاندی کا متبادل ہیں ۔  اگراس کے پیچھے سونا ہو تو سونے اور اگر چاندی ہو توچاندی کامتبادل ہو گا۔   اس نظریہ کے قائلین کی دلیل یہ ہے کہ قیمت کے اعتبار سے یہ نوٹ اپنی اس اصل کی طرح ہے جس کے یہ بدل ہیں یعنی سونا اور چاندی ، کیونکہ ان کا اصل چاندی یا سونا ان کی پشت پر ان کے زرِ ضمانت کے طور پر موجود ہے اور مقاصد شرعیہ کاتعلق تو اصل اور حقائق سے ہے نہ کہ الفاظ اور ان کی بناوٹ سے۔  یہ نظریہ حقیقت کے مطابق نہ ہونے کی بنا پر قابل التفات نہیں ۔ کیونکہ اس کا دار و مدار کرنسی نوٹوں کی اصل پر ہے اور جیسا کہ ہم پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ سونا چاندی  تو کرنسی نوٹوں کی پشت پر ہے نہیں۔بلکہ ممالک کے نوٹ محض ساکھ کی بنا پر ، زبانی ضمانتوں اور حکومتوں کے جاری کردہ ہونے کی بنا پر رائج اور قابل قبول ہیں۔ کچھ ایسے ہیں جنہیں جائیدادوں کی ضمانت حاصل ہے اور کچھ کو محض اقتدار کی ضمانت۔ لہٰذا یہ نظریہ باطل ہے۔ موجودہ دور میں بعض علما کی حالات کے پیش نظر جز وقتی  رائے یہ بھی ہے کہ "یہ مال ہے رسید نہیں اور چونکہ کاغذی نوٹ ثمن خلقی نہیں بلکہ ثمن عرفی ہے،  لہٰذا اس کے ادا ہو نے سے زکوٰۃ ادا ہو جاتی ہے اور اس کا وہی حکم ہے جو فلوس کا ہے اور  جہاں تک مال عرفی کا تعلق ہیں تو اس پر احکام عرف کے جاری نہیں ہوں گے بلکہ اس پر احکام اس کی حقیقت کے جاری ہوں گے یعنی رسید کے”۔ اس کی مثال اس طرح ہے کہ  اگر کسی شخص کا نام عبد اللہ ہے اور عرف میں اس کو شیر کہاجاتا ہے۔ اب اگر یہ شخص چوری کرے تو اس پر انسانوں والے احکام جاری ہو ں گے،‎جانوروں والے نہیں۔ باوجود اس کے کہ اس کا ‎عرف جانور والا ہے۔  اس وجہ سے کاغذی کرنسی  پہ کراہت کے ساتھ مال کے احکام نہیں بلکہ رسیدوں کے احکام جاری ہوں گے۔ اگر یہ مال ہوتا تو ہر ملک زیادہ کرنسی چھاپ کر زیادہ مالدار ہوتا۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ کاغذی نوٹ خود سے قیمت بننے کی صلاحیت سے عاری ہے۔ چونکہ یہ نظریہ تجربات کے بعد خطرناک نتائج کا حامل  ہوچکا ہے ، اس لیے کسی صورت اس کی تائید نہیں کی جاسکتی۔

کاغذی  نوٹ رسید نہ ہونے کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ اگر یہ گم یا تلف ہو جائے تو اس کا مالک جاری کنندہ سے مطالبہ نہیں کر سکتا۔ خواہ اس کے پاس ہزار گواہ ہوں۔ اگر یہ حقیقی رسید ہوتا تو یہ اختیار ضرور ہوتا ، کیونکہ قرض مقروض کے ذمے ہوتا ہے ، رسید تلف ہونے سے قرض ضائع نہیں ہوتا۔

موجودہ کاغذی نوٹوں نے سونے کے دینار اور چاندی کے درہم کو صفحہ ہستی سے ایسے مٹا دیا، جیسے وہ تھے ہی نہیں۔ چونکہ موجودہ کاغذی نوٹ ہرگز مال نہیں۔ اسی لیے اگر سونے کے دینار اور چاندی کے درہم بازار میں موجود نہ ہوں تو مجبورا کاغذی کرنسی میں زکوٰۃ ادا کرنے کی صورت بنتی ہے۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!