پیٹرو کرنسی

نکسن دھچکا کے بعد ڈالر سے سونے کا تعلق ٹوٹنے کے بعد جب ایران اور سعودی عرب نے اپنے ڈالروں سے امریکی کمپنیاں خریدنے کا ارادہ ظاہر کیا تو امریکی حکام نے دھمکی دیکر پیار سے سمجھایا کہ امریکہ اسے اقدام جنگ سمجھے گا۔ حالانکہ پہلی جنگ عظیم کے بعد خود امریکہ نے بڑے پیمانے پر جرمن کمپنیاں خریدی تھیں۔ 1971ء میں ڈالر کا سونے سے ربط ٹوٹنے کے بعد ڈالر کی عالمی طلب تیزی سے گر رہی تھی۔ ڈالر کی عالمی مانگ بڑھانے کیلئے سعودی عرب کو ہدایت کی گئی کہ تیل صرف ڈالر کے عوض فروخت ہو گا اور حکومتی اخراجات کے بعد بچنے والے ڈالر صرف امریکی بینکوں میں محفوظ کئے جائیں، جس پہ سعودی عرب کو سودی منافع دیا جائے گا، تاکہ سعودی عرب بھی سونا نہ خرید سکے۔  “Petrodollar Recycling system”۔ اگر سعودی عرب آمادہ نہ ہوتا تو سعودی عرب پر حملے اور قبضے کا منصوبہ تیار تھا۔ اس وقت اگر عرب ڈالرز کے بدلے سونے کا مطالبہ کر دیتے تو امریکہ اپنا پورا سونا دے کر بھی قرض نہ چکا پاتا۔

نکسن انتظامیہ نے مالیاتی نظام میں لائی گئی تبدیلی کا بندوبست سعودی عرب کے ساتھ 1972ء سے 1974ء تک چلنے والے معاہدات کے کے ذریعہ کیا اور ڈالر کے ذریعے "پیٹرو کرنسی" کی بنیاد ڈالی اور دیگر ممالک کو ڈالر کا ذخیرہ  اپنے پاس محفوظ رکھنے کی وجہ فراہم کردی۔ اس طرح "عالمگیریت/گلوبلائزیشن” کی ابتداء ہوئی۔ جو کہ صرف بین الاقوامی تجارت ہی نہیں بلکہ عالمی حکمرانی بھی ہے۔ ایک عالمی منظر نامہ ابھرا کہ تیل ڈالر میں بیچا جائے گا اور یوں دنیا کے نقشے پر دو اشیاء کا ظہور ہوا۔ "ڈالر اور تیل”۔ امریکہ اور ڈالر کا نام جگمگانے لگا۔ امریکہ دنیا میں تیل کا سب سے بڑا خریدار تھا اور سعودی عرب دنیا میں سب سے بڑا تیل پیدا کرکے برآمد کرنے والا ملک۔ یوں تیل سے تعلق کی وجہ سے امریکی ڈالر مضبوط سے مضبوط تر ہوتا گیا۔ "پیٹرو کرنسی” ڈالر کوتسلیم کرلینے کی وجہ سے زیادہ تر بین الاقوامی تجارت بھی ڈالر میں ہونے لگی، کیونکہ ڈالر کا حصول تیل حاصل کرنے کیلئے ضروری تھا اور تیل ہر ملک کی گاڑیوں، مشینری کا پہیہ چلانے کیلئے ضروری تھا۔ اب جس ملک نے بھی تیل خریدنا ہو پہلے اپنا سونا چاندی یا دیگر مصنوعات عالمی منڈی میں دے کر کاغذی امریکی ڈالر حاصل کرے اور تیل والے ممالک کو کاغذی نوٹ دے کر تیل حاصل کرکے اپنے ملک کا پہیہ چلائے۔ جبکہ سعودی عرب کو ڈالر کے بدلے ہتھیار اور انفراسٹرکچر اورامریکی ٹریژری بانڈز ( امریکی ریاستی خزانہ کے بانڈز) ملنے تھے۔1977ء تک امریکی خزانہ کےبیرون ممالک میں موجود بانڈز کا20فیصد حصہ سعودی عرب کے پاس آچکا تھا۔

صدام حسین نے 2000ء میں کوشش کی کہ عراق کو تیل کا معاوضہ امریکی ڈالر کی بجائے کسی اور کرنسی یا سونے میں دیا جائے۔ یہ امریکی ڈالر کی مقبولیت پر براہ راست وار تھا۔ اس کا یہ ناقابل معافی جرم آخر کار عراق کو جنگ کی جانب لے گیا۔ لیبیا کے معمر قذافی نے صدام حسین کے انجام سے بے پرواہ ہوکر تیل کو سونے کے عوض فروخت کرنے کا عندیہ دیا اور افریقی ممالک کوساتھ ملا کر 2009ء میں افریقہ میں تجارت کیلئے سونے کا دینار نافذ کرنے کا ارادہ کیا تو اسے نشان عبرت بنادیا گیا۔ بلاشک و شبہ "سونے کا سکہ” سودی اور سرمایہ دارانہ  معاشی نظام کیلئے خطرے کی گھنٹی تھا اور دنیا کے معاشی توازن کو سودی معیشت سے ہٹا کر متوازن دنیا کے حق میں جھکا سکتا تھا اور سودی نظام کو شدید دھچکا لگ سکتا تھا۔ ۔ معمر قذافی دنیا کو ایک مستحکم بین الاقوامی کرنسی یعنی سونے کا سکہ دینا چاہتا تھا یا ملکوں کے درمیان سونے کے بدلے تجارت کرنا چاہتا تھا۔ قذافی نے بالخصوص تمام تیل کے وسائل والے  ممالک کو دعوت دی کہ آئیں اور سونے کے سکوں پر مشتمل حقیقی دولت پر کاروبار کریں اور  اپنا تیل ڈالرز کی بجائے سونے کے عوض فروخت کریں اور کسی دوسرے ملک کی کاغذی کرنسی کو قبول نہ کیا جائے۔جس کی وجہ سے لیبیا میں بغاوت کروائی گئی اور معمر قذافی کے قتل پہ یہ بغاوت ختم ہوئی۔ ستمبر 2017ء میں وینیزویلا نے بھی اعلان کر دیا تھا کہ وہ تیل کی قیمت ڈالر میں قبول نہیں کرے گا۔ روسی صدر پیوٹن نے بھی اعلان کر دیا تھا کہ 2018ء سے روس کی کسی بندرگاہ پر ڈالر وصول نہیں کیے جائینگے۔

دنیا میں سب سے زیادہ تجارت تیل کی ہی ہوتی ہے۔ اگر قیمت کے لحاظ سے دیکھا جائے تو دنیا میں ہر سال جتنا سونا نکلتا ہے اس کا دس گنا سے بھی زیادہ تیل نکلتا ہے۔ لیکن تیل اُسی سال استعمال ہو کر ہوا میں تحلیل ہو جاتا ہے جبکہ سونا ہزار سال بعد بھی موجود ہوتا ہے۔ لیکن فوجی بدمعاشی کی وجہ سے تیل کی کاغذی کرنسی میں فروخت نے امریکہ کا کاغذی ڈالر "آقا کرنسی” بنا دیا۔  1944ء کے بریٹن ووڈز معاہدے میں امریکہ نے جن اہداف کا سوچا بھی نہ تھا وہ نکسن دھچکے سے حاصل ہو گئے۔ کیونکہ اس بریٹن ووڈ معاہدے کو توڑنے کے بعد ڈالرصرف ایک حساب کی اکائی بن کر رہ گئی۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!