پاکستان میں مغربی طرز حکمرانی

23 مارچ 1956 کو "اسلامی جمہوریہ پاکستان” کا خطاب دستور ساز اسمبلی نے آئین کی منظوری کے ساتھ پاکستان کو دیا اور آئین کی منظوری کے ساتھ ہی آزادی ایکٹ 1935ء کے قانون کے تحت بظاہر ہمیشہ کیلئے پاکستان، برطانیہ کے اثر سے آزاد ہوگیا۔ اسلام کے نام پر بننے والے ملک، پاکستان کے مقصد اور لاکھوں قربانیوں کو "اسلامی جمہوریہ” بنا کر محض 9 سال بعد ہی پس پشت ڈال دیا گیا۔

 پاکستان میں رائج کردہ نظامِ حکومت و سیاست پہ مغربانہ طرز حکمرانی، جمہوریت کے نام سے ہی نافذ ہوتی رہی۔  شروع کے ان تین عشروں میں اربابِ اقتدار  نے پاکستان کے قیام کے مقصد سے روگردانی کی  اور اپنی من مانی کرکے مغرب کے مختلف نظام سیاست و انتخاب کو یکے بعد دیگرے نقل کیا۔ لہٰذا ان تین عشروں میں تین قسم کے دساتیر (دستور ۱۹۵۶ء ،۱۹۶۲ء اور ۱۹۷۳ء) بنائے گئے۔

ہم نے خود شاہی کو پہنایا ہے،  جمہوری لباس     
جب کبھی آدم ہوا ہے، خود شناس اور خود نگر

دستور سازی کے مختلف ادوار میں تین طرح کے نظامِ حکومت بالترتیب پارلیمانی ، صدارتی اور پھر پارلیمانی قائم کئے گئے۔ تین مرتبہ انتخابات 1964ء، 1970ء اور 1977ء ہوئے اور تین ہی بار مارشل لاء 1985ء، 1969ء اور1977ء لگے۔ ان سب کارروائیوں کا مجموعی نتیجہ یہ نکلا کہ ملک بحران میں گرفتار رہا اور اسی دوران ٹوٹ کر آدھا رہ گیا۔ ملک میں کوئی نظام نہ ہونے کی وجہ سے عوام مصائب کا شکار ہی رہے۔

کوششوں کے باوجود آج تک صاحب اختیار و صاحب اقتدار حضرات نے پاکستان میں اسلامی نظام حکومت نافذ نہ ہونے دیا۔ تقسیم کے بعد جب تک "لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ” کا نعرہ  گونج رہا تھا، مشرقی اور مغربی پاکستان اکٹھے تھے۔ جب تک ہم سب مسلمان اس عزم پہ قائم تھے، ہم اکٹھے رہے۔ جیسے ہی اس نعرے کی گونج دھیمی ہوتی گئی۔ ملک کا ایک حصہ کٹ گیا۔ ایک ہی نعرہ تھا، جس نے تسبیح کے دھاگے  کی طرح تمام صوبوں کو یکجا رکھا ہوا تھا۔ اب بھی جو لوگ دو قومی نظرئیے کو فراموش کرچکے ہیں، وہ اب کبھی سندھو دیش کی آواز اٹھاتے ہیں۔ کبھی بلوچ وطن کی آواز آتی ہے جو کہ یقینا بیرونی سازشیں ہیں، لیکن یہ آواز اٹھانے والے دو قومی نظریہ کے انکاری ہونے کی وجہ سے غداران وطن ہیں۔ ان کا مقصد  اب اللہ تعالی کی حکومت  کرنا نہیں بلکہ شخصی اقتدار بن چکا ہے۔

ایک نظریہ تھا جس پہ وطن عزیز قائم ہوا تھا۔ جبکہ ابھی تاریخ کے اوراق سے خون ٹپکنا بند نہیں ہوا تھا۔ ابھی تو کشمیر کی وادیوں سے "کشمیر بنے کاپاکستان” کی گونج آرہی ہے۔ جس کا واحد حل اپنے آباء و اسلاف کے نقش قدم پہ چلتے ہوئے صرف اور صرف "اسلامی نظام حکومت” نافذ کرکے ہی حاصل کیا جاسکتا ہے تاکہ مسلمان بھائی بھائی بن کر اکٹھے محبت و رواداری کے ساتھ رہ سکیں اور ہر ایک کے حقوق کی ادائیگی ممکن ہوسکے۔ واحد یکجہتی کی زنجیر، تسبیح کا دھاگہ جس کی وجہ سے سب مسلمانان برصغیر یکجا تھے، "لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ”  جس سے ارباب اختیار و اقتدار اس مقصد سے بے رخی  کرتے رہے۔ تیس سالہ 1947ء سے 1977ء دردناک داستانِ جمہوریت 1977ء کے مارشل لاء پر رک گئی۔

پہلی مارشل لاء حکومت نے ایک اہم کام یہ کیا کہ ملکی نظام و قوانین کو اسلامی سانچے میں ڈھالنے کیلئے "اسلامی نظریاتی کونسل” کی تشکیل نو کی اور اس میں نامور علماء جج صاحبان، قانون دان اور دانشور حضرات شامل کئے۔ لیکن یہ سب کاغذات کی حد تک رہا۔

بعد ازاں 1973ء کے دستور کے تحت ملک میں پارلیمانی نظام حکومت نافذ کردیا گیا۔ 1999ء میں ایک دفعہ پھر فوجی مداخلت سے حکومت ختم ہوئی اور 1973ء کے دستور کو معطل کردیا گیا۔ اس کے بعد تین دفعہ 1973ء کے تحت الیکشن ہوئے جن کے بعد دھاندلی کا شور شرابہ رہا ۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!