پاکستان میں سود کے خاتمے کی کوششیں

پاکستان میں سیاست و معیشت کو اسلامی قوانین پہ استوار کرنے کی کوششیں کسی نہ کسی سطح پہ ہوتی رہیں۔ معاشی نظام میں سود کا گڑھ بینکنگ نظام ہے۔ اس لئے بینکنگ نظام کی اسلام کے اصولوں کے مطابق اصلاح ضروری ہے۔

 1949ء میں قرارداد مقاصد منظور ہونے کے باوجود پاکستان میں سودی نظام چلتا رہا۔  1969ء میں ڈھاکہ میں سٹیٹ بنک کی "فرمائش” پہ اسلامی مشاورتی کونسل نے واضح کیا کہ جسے "بینک کا نفع” کہا جاتا ہے وہ اصل میں سود ہی ہے۔

  1973ء کے آئین میں یہ یاد رہا کہ سود حرام ہے لہٰذا اسے ختم کیا جائے مگر حکومت کو 9 سال کی مدت دی گئی، جو کہ خلاف شرع ہے۔

1977ء میں اسلامی نظریاتی کونسل بنی اور 1980 میں کونسل نے سود کے متبادل سفارشات پیش کیں لیکن نافذ نہ ہوسکیں۔

1981ء میں وفاقی شرعی عدالت بنی لیکن معاشی معاملات اسکے دائرہء کار سے باہر رکھے گئے۔

 1988 میں نفاذ شریعت آرڈیننس / انصاری کمیشن رپورٹ کے نفاذ کی کوشش کی گئی جس کے تحت  سود ختم کرکے شورائی نظام حکومت کو نافذ کرنا تھا کہ حکومت ختم ہوگئی۔

1991ء میں وفاقی شرعی عدالت سے سود کی حرمت پہ فیصلہ آیا اور حکومت نے سپریم کورٹ میں اپیل کر دی۔ 1997ء میں سود کے خاتمے کیلئے ایک کمیٹی بنائی گئی لیکن وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل واپس نہ لی گئی اور نہ ہی کمیٹی کی بات مانی گئی۔ اس دوران وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کے خلاف 67 مختلف اپیلیں عدالت عظمی میں کی گئیں۔ 1999ء میں عدالت عظمی نے 1100 صفحات کے فیصلے میں وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ بحال رکھا اور حکومتی اپیل خارج کر دی۔ حکومت کو متبادل اسلامی بنکاری نظام کیلئے 2 سال کی مہلت دی گئی۔ اس تفصیلی فیصلے میں ربوٰ اور انٹرسٹ کے فرق کی پرانی بحث کو بھی نمٹا دیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ دونوں میں کوئی فرق نہیں۔

جنرل مشرف کے دور کی ابتداء میں ہی تنظیم الاخوان پاکستان کی سربراہی میں، منارہ ضلع چکوال میں نفاذ اسلام کیلئے قائم رہنے والی خیمہ بستی کے نتیجے میں حکومت چاروناچار یہ مانی کہ ملک کے نظام حکومت کو بتدریج اسلامی کرنے کیلئے مان گئی۔ حکومت اور تنظیم الاخوان پاکستان کے مابین یہ پایا کہ  معاشی نظام کو اسلامی کرنے سے نفاذ اسلام کی  ابتدا کی جائے اور ہر سطح پہ سود سے چھٹکارا حاصل کیا جائے۔ جس کیلئے ایک اعلی تعلیم یافتہ اور تجربہ کار کمیٹی تشکیل دی گئی۔ لیکن یہ کمیٹی صرف اسلامی بینکنگ نظام کو ہی تشکیل دینے اور نافذ کرنے میں کامیاب ہوسکی۔

 2002ء مشرف دور میں ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ ہم نہیں مانتے کہ بینک کا سود ہی ربوٰ ہے۔ جسٹس مفتی تقی عثمانی صاحب کو شریعت اپیلٹ بنچ سے برطرف کر دیا گیا۔ یو بی ایل کے ذریعے وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کے خلاف دوبارہ اپیل کروائی گئی۔ مقصد یہ تھا کہ پاکستان میں اسلامی اور سودی بینکنگ متوازی حیثیت میں چلتے رہیں۔ جبکہ اسلام کے اصولوں کے مطابق مکمل بینکنگ نظام کا نمونہ حتمی شکل اختیار کرچکا تھا۔ عدالت عظمی نے اپیل منظور کر لی اور کیس دوبارہ وفاقی شرعی عدالت کو ریفر کر دیا۔  تب سے اب تک وفاقی شرعی عدالت نے اس کیس کی چھ یا سات بار سماعت کی ہے لیکن کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا۔ اسی دوران 2015ء میں سود کے خاتمے کیلئے بل اگلے سال قومی اسمبلی میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی تو حکومت نے عذر پیش کیا کہ مقدمہ وفاقی شرعی عدالت میں زیر سماعت ہے لہذا یہ بل پیش نہیں ہو سکتا۔ بل پیش کرنے والے رکن اسمبلی شیر اکبر نے یاد دلایا کہ پارلیمنٹ ملک کا سپریم ادارہ ہے اور کسی عدالت میں کوئی کیس زیر سماعت ہونے سے اسکے قانون سازی یا ترمیم کے اختیار پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ لیکن حکومت اڑی رہی۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!