پاکستان میں اسلامی نظام حکومت کا مطالبہ اور اقدامات

افراد کی طرح قوموں پہ بھی بچپن، جوانی اور بڑھاپا آتا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالی نے مختلف اقوام کا تذکرہ فرما کر اس قانون فطرت کوبیان فرمایا ہے۔ اقوام اپنی تاریخ سے سیکھتے ہیں۔ حکمران کی تاریخ پر بہت گہری نظر ہونی چاہئے۔ ڈاکٹر محمود احمد غازی نے ایک دفعہ فرمایا تھا کہ "قوموں کی تاریخ ان کا حافظہ ہوتی ہے، فرد اپنا حافظہ بھول جائے تو اس کی جگہ پاگل خانہ ٹھہرتی ہے، اور اگر قومیں اپنی تاریخ بھول جائیں تو۔۔۔ فرد کے معاملے پر رکھ کر قیاس کرلیجئے”۔ قوموں کی بقاء اور ترقی اس یقین، لگن اور جذبہ پر ہے جو انھیں اپنے نظریات اور فکری سرمایہ کے ساتھ ہوتا ہے۔ یہ جذبہ جوں جوں کم ہوتا ہے، قومیں بے عملی اور بدعملی کا شکار ہوجاتی ہیں اور قوموں کی زندگی انحطاط اور زوال کا شکار ہوجاتی ہے۔ نظریات، فکری سرمایہ سے دوری، بے عملی اور بدعملی قوموں کو احساس کمتری کا شکار کردیتی ہے۔ پھر ہمیں اپنا آپ گھٹیا محسوس ہونے لگتا ہے اور بجائے ترقی کے قوم مزید زوال کا شکار ہوتی جاتی ہے۔

ہند کے امرائے سلطنت اور ارباب اختیار و اقتدار سے جو غلطیاں اور غفلتیں ہوئیں، جس کی وجہ سے انگریز حکومت پہ قابض ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ مسلمانوں نے انگریزوں کے ناپاک ارادوں کو بھانپتے ہوئے اپنی فکر اور نظریات کی روشنی میں جدوجہد جاری رکھی۔ جس کے نتیجے میں پاکستان معرض وجود میں آیا۔ پاکستان بہت سی جانی و مالی قربانیوں کے بعد بن گیا لیکن اپنی اصل کو ہم بھول گئے اور غیرمسلموں کو اقتدار سے بیدخل کرنے کے بعداسلامی نظام حکومت نافذنہ کرنے کی کوتاہی ہوگئی۔ جس کی وجہ صرف ارباب اختیار کا ایمانی قدروں سے غفلت کا رویہ اور بے عملی کا شکار ہوکر احساس کمتری میں مبتلا ہونا ہے۔ اسی وجہ سے ہم ایک خطہ حاصل کرکے آزاد تو ہوگئے لیکن ارباب اختیار ذہنی غلامی میں ہی رہے۔

"آزاد ہونا ایک عظیم اعزاز ہے لیکن عظیم آزادی کے ساتھ عظیم ذمہ داری مشروط ہے”

قیام پاکستان کے بعد، اسلامی نظام کا مطالبہ کسی نہ کسی انداز میں عوام کی جانب سے ہوتا رہا۔اکثر اوقات ہونے والی کوششوں میں باقاعدہ اسلامی طرز حکمرانی پہ منتقل کرنے کی کوشش بھی کی گئی،جو کہ تکمیل تک نہ پہنچ سکیں۔ جبکہ پاکستان بننے کے بعد بھی قائداعظم مذکورہ موقف پر قائم رہے اور اسلامی نظام حکومت کا ہی اعلان کرتے رہے۔ انہوں نے جنوری 1948ء میں برملا کہا کہ

” اسلام صرف رسوم و روایات اور روحانیت کا مجموعہ نہیں، بلکہ مسلمان کی پوری زندگی پر محیط ہے، جس میں سیاست و معیشت اور دیگر تمام شعبہ حیات شامل ہیں”

 فروری 1948ء میں ان کا بیان یہ تھا کہ

” میرا ایمان ہے کہ ہماری نجات اس میں مضمر ہے کہ ہم ان بیش بہا اُصولوں کی پیروی کریں جو ہمارے قانون دہندہ پیغمبر اسلامﷺ نے ہمارے لئے وضع کئے ہیں۔
آئیے ہم اپنی ریاست کی اساس سچے اسلامی تصورات اور اصولوں پر قائم کریں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم اپنے اُمورِ حکومت باہمی مشوروں سے طے کریں”

قیام پاکستان کا مقصد بانی پاکستان کے ان دو بیانات سے ہی واضح ہوجاتا ہے۔

قرارداد مقاصد

علامہ شبیر احمد عثمانی، رکن اسمبلی کی کوششوں سے اسمبلی میں پیش کرنے کیلئے قراردادِ مقاصد مرتب ہوئی۔ یہ قراردادِ مقاصد پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی نے 12مارچ 1949ء کو منظور کرلی۔ بلاشک و شبہ پاکستان کے قیام کے محض ڈیڑھ سال بعد، 1949ء کے آغاز میں ہی پیش ہونے والی قرارداد مقاصد پاکستان کے قیام کے بعد ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔

قرارداد مقاصد اس ریاست کے قیام کے بعد مقصد ریاست واضح کرتی ہےکہ حاکمیت اللہ تعالیٰ کی ہے،لہٰذا دستورِ مملکت بھی اسلام کے عطا کردہ أصول و ضوابط کے مطابق ہی ہوگا اور اس میں حریت، جمہوریت، مساوات، رواداری اور عدلِ عمرانی کی صرف وہ تشریح اختیار کی جائے گی جو اسلام نے پیش کی ہے۔ اس تاریخی دستاویز میں بھی مغربی جمہوریت کی کوئی گنجائش نہیں نظر آتی۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!