ولی عہد کی تقرری

حضرت ابوبکر صدیق نے حضرت عبدالرحمن بن عوف اور حضرت عثمان غنی سے حضرت عمر فاروق کی تقرری کے بارے میں مشورہ فرمایا اور انھوں نے حضرت عمرفاروق کے حق میں رائے دی تو  اہل شوری کو جمع فرمایا اور ان کے سامنے بھی حضرت عمر فاروق کا نام بطور ولی عہد تجویز کیا۔ اہل شوری نے اس رائے پہ اتفاق کرلیا۔ حضرت عمر فاروق مجلس خاص کے رکن بھی تھے۔ مشاورت کے دوران حضرت ابوبکر صدیق نے واضح فرمایا تھا کہ

"میں نے اپنے کسی رشتہ دار کو نامزد نہیں کیا”

تاریخ اسلام میں موروثی ولی عہد مقرر کرنے کی نفی، حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق اور حضرت علی کے اقوال و افعال سے ثابت ہوتی ہے۔ تاریخ اسلام میں سب سے پہلے حضرت امیر معاویہ نے اپنے بیٹے کا نام بطور ولی عہد تجویز ہونے پہ امرائے سلطنت سے مشاورت کے بعد "یزید بن ابی امیر معاویہ” کو ولی عہد مقرر کیا۔ جس میں ان کی بدنیتی شامل نہ تھی۔ حافظ شمس الدین ذہبی اور علامہ جلال الدین سیوطی نے عطیہ بن قیس کے حوالے سے حضرت امیر معاویہ کے الفاظ نقل فرمائے ہیں۔

"اے اللہ، اگر میں نے یزید کو اس کی فضیلت دیکھ کر ولی عہد بنایا ہے تو اسے اس مقام تک پہنچا دے، جس کی میں نے اس کیلئے امید کی ہے اور اس کی مدد فرما اور اگر مجھے اس کام پر صرف اس محبت نے آمادہ کیا ہے جو باپ کو بیٹے سے ہوتی ہے تو اس کے مقام خلافت تک پہنچنے سے پہلے اس کی روح قبض کرلے”

حضرت عمر فاروق کی حضرت ابن عباس سے مشاورت کے واقعے سے بھی اپنے جانشین کیلئے فکرمند ہونے سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ اپنے جانشین کی تعیناتی/تقرری امیر کی ذمہ داری ہے کہ جب وہ ضرورت محسوس کرے، مشاورت کرکے تعیناتی کرے۔ سب سے پہلا حق امیر کا ہی ہے اور ولی عہد کی تقرری سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ یہ تقرری خلفاء راشدین کے عمل سے ثابت ہے۔ لیکن قاضی ابویعلی نے اپنی کتاب "الاحکام السلطانیہ” میں  فرمایا ہے کہ

"ولی عہد کی امامت اس شخص کے مرنے کے بعد اس وقت کے اہل حل و عقد کے اختیار سے ہوتی ہے”

 یعنی ولی عہد / نائب صدر کو سربراہی دینے کا اختیار، امیر کی وفات کے بعد اہل شوری کے اختیار میں بھی ہوتا ہے۔ ولی عہد کا انتخاب بھی مجلس خاص کے وزراء و مشیران میں سے ہی ہوتا ہے۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!