نکسن دھچکا

بین الاقوامی طور پر ڈالر کی حیثیت 1944ء میں بریٹن ووڈ معاہدہ کے تحت نکل کر سامنے آئی جب امریکہ نے اس میٹنگ کے شرکاء پرعائد کیا کہ وہ ڈالر کو اور اس کے غلبے کو قبول کریں۔ کیونکہ وہ دوسری عالمی جنگ کا  ایسا فاتح تھا جو جنگ سے متاثر نہیں ہوا تھا۔ دس بڑے صنعتی ممالک نے اپنی مقامی کرنسی کی قیمت ڈالر کی مناسبت سے طے کرنا قبول کیا اور امریکہ  نے بھی وعدہ کیا کہ امریکی  ڈالر کو سونے کی بنیاد یعنی فی اونس سونے کی قیمت 35ڈالر پر طے کرے گا اور یہ کہ وہ بیرونی ممالک کے مرکزی بنکوں کی طرف سے مہیا کئے گئے ڈالر کا سونے سے تبادلہ کرے گا۔ اس دور میں امریکہ خزانہ  کے سونے کے ذخائر کا تخمینہ مجموعی طور پر دنیا کا دوتہائی مانا جاتا تھا۔

بریٹن ووڈ معاہدے کے ذریعے امریکہ کے ڈالر کو معیار کے طور پہ غیرمحسوس طریقے سے قبول کرلیا گیا اور سونے کا نعم البدل مان لیا گیا۔ 1944ء کے بعد دنیا بھر کے ممالک نے اپنا سونا امریکہ کے فیڈرل ریزرو بینک ٹریژری میں رکھنا شروع کر دیا کیونکہ فیڈرل ریزرو بینک، اپنی ٹریژری میں سونا رکھنے کی سہولت بلامعاوضہ دیتا تھا اور اس کے بدلے انھیں کاغذ کے کڑکڑاتے امریکن ڈالر بھی ملتے تھے۔

بعدازاں فیڈرل ریزرو بینک نے سونے کے ذخائر سے زیادہ ڈالر چھاپے، جس سے اس مالیاتی نظام میں خرابی کا آغاز ہوا۔ ادائیگیوں کے توازن میں مسلسل کمی کی وجہ سے امریکہ کے خزانہ میں موجود سونے کےذخیرہ میں کمی آتی گئی۔

1971ء میں ویتنام کی جنگ کی وجہ سے امریکی معیشت سخت دباؤ کا شکار ہوگئی اور افراط زر بھی تیزی سے بڑھنے لگا تھا۔ اپریل 1971ء میں جرمنی نے امریکی دباؤ کی وجہ سے پانچ ارب ڈالر خریدے۔ اس وقت 5 ارب ڈالر 4400 ٹن سونے کے مساوی تھے۔ اگر جرمنی نے ڈالر کی بجائے امریکہ سے سونا طلب کیا ہوتا تو امریکی مالیاتی نظام کی کمر ٹوٹ جاتی۔ مزید امریکی دباؤ سے جان چھڑانے کیلئے ایک مہینے بعد 10 مئی 1971ء کو جرمنی نے بریٹن ووڈ معاہدے سے ناتا توڑ لیا کیونکہ گرتے ہوئے امریکی ڈالر کی وجہ سے جرمن مارک کی قیمت مزید گراوٹ کا شکار ہورہی تھی۔ معاہدہ توڑنے کے صرف تین مہینوں بعد جرمنی کی معیشت میں بہتری آ گئی اور ڈالر کے مقابلے میں مارک کی قیمت %7.5 بڑھ گئی۔

دیگر ممالک نے بھی امریکی ڈالر کی گرتی ہوئی قیمت اور اپنی کرنسی کو متاثر ہوتا دیکھ کر امریکہ سے سونے کا مطالبہ شروع کر دیا۔ سویٹزر لینڈ نے جولائی 1971ء میں پانچ کروڑ ڈالر کا 44 ٹن سونا امریکہ سے وصول کیا۔ اگست 1971ء کو برطانیہ نے بھی 75 کروڑ ڈالر کے عوض  660 ٹن سونے کا مطالبہ کر دیا۔ امریکہ نے سفارتی دباو ڈال کر دوسرے ممالک کو سونا طلب کرنے سے روکنا چاہا مگر فرانس نے بھانپ لیا کہ امریکہ نے اپنے پاس موجود سونے سے زیادہ کاغذی کرنسی چھاپ لی ہے اور فرانس نے جارحانہ انداز اپناتے ہوئے 19.1 کروڑ ڈالر کے عوض امریکہ سے 170ٹن سونے میں تبدیل کروائے۔ جس سے امریکہ اور فرانس کے تعلقات خراب ہو گئے جو آج تک بہتر نہ ہو سکے۔ اس وقت امریکہ کو روزانہ 100 ٹن سونے کی ادائیگی کرنی پڑ رہی تھی۔ 1950ء سے ہی امریکہ کے سونے کے ذخائر میں تیزی سے کمی آرہی تھی اور 1970ء تک امریکہ  60 فیصد سونا کھو چکا تھا۔ جس سے سونے کی قیمت بڑھنا شروع ہوگئی۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ اپنے پاس موجود سونے سے تین گنا زیادہ ڈالر چھاپ چکا تھا۔ امریکی معیشت میں گردش کرنے والے کاغذی ڈالرز کو شامل کیا جائے تو حقیقی اعداد و شمار اس سے بھی زیادہ تھے کیونکہ 1971ء تک امریکہ کے پاس موجود سونے کی مالیت صرف 15 ارب ڈالر تھی جبکہ دوسرے ممالک کے پاس 50 ارب امریکی ڈالر جمع ہو چکے تھے۔  اگر سارے قرضے شامل کر کے حساب لگایا جائے تو اس وقت امریکہ ہر ایک ڈالر کے سونے کے عوض 44 ڈالر کا مقروض ہو چکا تھا اور امریکہ کا دیوالیہ ہو چکا تھا۔ بالآخر امریکہ نے اپنے پاس موجود دوسروں کا غصب کیا ہوا سونا بچانے کیلئے بریٹن ووڈ کا معاہدہ توڑ دیا اور ڈالر کے بدلے سونا دینے سے انکار کردیا۔

15 اگست 1971ء کو امریکہ بریٹن ووڈز معاہدے میں کئےگئے وعدے سے مکر گیا، جسے "نکسن دھچکا” کہتے ہیں۔ امریکی صدر نکسن نے اعلان کیا کہ اب امریکہ ڈالر کے بدلے سونا نہیں دے گا۔ امریکی صدر نکسن نے یقین دہانی کروانے کی کوشش بھی کی کہ یہ ایک عارضی اقدام ہے، ڈالروں کی قوت خرید کل بھی اُتنی ہی ہو گی جتنی آج ہے۔ لیکن حسب روایت یہ ایک سفید جھوٹ تھا۔

 اس اقدام سے دنیا بھر میں ہونے والے ممالک کے نقصانات کا سارا فائدہ امریکہ کو ہوا۔  یہ پوری دنیا، خاص طور پر ترقی پزیر ممالک کے ساتھ عظیم ترین دھوکا تھا۔صرف ایک رات میں دنیا بھر میں بریٹن ووڈ معاہدے کے تحت قائم شدہ فکسڈ ایکسچینج ریٹ فلوٹننگ ایکسچینج ریٹ میں تبدیل ہو گیا۔ بریٹن ووڈز کا معاہدہ توڑنے تک کاغذی امریکن ڈالر "آقا کرنسی” بن گیا تھا اور دیگر کرنسیاں اس کی غلام بن گئی تھیں۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!