نظریاتی سیاست

اہل مغرب کی آزاد خیال جمہوریت سربراہ مملکت اور اشرافیہ کے انتخاب کے معاملے میں تشہیر کی حد تک ہے۔ اہل مغرب نے آزاد خیال جمہوریت کے نظریہ کے تحت قانون سازی میں مذہب کو نکال باہر کیا اور بادشاہ کو مذہبی احکامات کی تقلید سے آزاد کردیا۔ لیکن امور ریاست چلانے والے سربراہ  کیلئے مذہب اور فرقے کی قانونی قید اب بھی برقرار ہے۔ برطانیہ کا سربراہ صرف پروٹسٹنٹ عیسائی ہی ہوسکتا ہے۔ ارجنٹائن، کولمبیا، مالٹا، پانامامیں سربراہ مملکت کا رومن کیتھولک عیسائی ہونا لازمی ہے۔ ڈنمارک، ناروے، آئس لینڈ اور سویڈن میں پروٹسٹنٹ چرچ کے مخصوص فرقے لوتھرن چرچ سے تعلق لازمی ہے۔ یونان کیلئے آرتھوڈڈوکس چرچ کے ساتھ وابستگی لازمی ہے۔ اسرائیل میں یہودی ہونا اور نیپال میں ہندو ہونا لازمی شرط ہے۔

پاکستان چونکہ ایک نظریاتی ملک ہے اور اسلام کے نام پہ معرض وجود میں آیا ہے۔ اس لئے پاکستان میں بھی دستور کے مطابق سربراہ مملکت کا مسلمان ہونا ضروری ہے۔ دنیا میں پاکستان تنہا وہ ملک نہیں جہاں آئینی طور پہ سربراہان مملکت کا مسلمان ہونا ضروری ہے۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!