نظام حکومت اورفقہ

اسلامی نظام حکومت کی مشینری کس انداز میں کام کرے گی؟۔۔۔

اسلامی حکومت کا تعلق محض فقہ کے قانون سیاست سے ہی نہیں بلکہ  امور ریاست چلانے کیلئے بھی تمام قوانین کی فراہمی فقہ سے ہی ہوتی ہے۔ عوام کے حقوق و فرائض خواہ وہ انفرادی ہوں یا  اجتماعی، دونوں حیثیت میں فقہ بحث کرتی ہے۔  تشکیل حکومت، اختیارات حکومت اور حدود حکومت پہ بھی فقہ بحث کرتی ہے اورحکومت کو قوت نافذہ فراہم کرتی ہے۔ حکومت کے اختیارات اور حدود کی وضاحت کرتی ہے۔ امور ریاست  و حکومت کو سرانجام دینے کے قوانین اور حدود و قیود  ہمیں فقہ اسلامی کے ذریعے ہی مرتب ملتے ہیں۔ اس لئے فقہ کی اہمیت کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ حکومت تمام حقوق کی ادائیگی کیلئے ماحول کو سازگار کرتی ہے اور طبعی رغبت پیدا کرتی ہے۔

ریاست اسلامیہ مدینہ کی حدود میں وسعت کے ساتھ ساتھ، علم و حکمت اور یونانی فلسفے کے فروغ سے نئے نئے مسائل ابھرنے شروع  ہوئے۔ جیسے آج کل دور جدید میں بہت سے معاملات  وضاحت طلب ہیں۔ اس لیے تابعین کے دور میں فقہ کی تدوین کی ضرورت محسوس ہونے لگی کہ تمام سوالوں کے جوابات قرآن و سنت کی روشنی میں ضبط تحریر کئے جائیں۔ چار فقہاء کی تحقیق پایہ ء تکمیل تک پہنچی۔ بعد ازاں، ان کے وضع کردہ انداز تحقیق سے ہی ان کے شاگردوں نے مزید تحقیق کو رواں رکھا۔

فقہ اسلام سے باہر یا دور صحابہ کے بعد  کسی نئی ایجاد کا نام نہیں ہے۔ بلکہ سمجھنے اور عمل کرنے میں آسانی کیلئے قرآن و سنت کے تمام احکامات کو مرتب کیا گیا ہے۔ سوالات کا جواب فقہ کے ذریعے باآسانی مل جاتا ہے اور استنباط مسائل کیلئے تحقیق پہ عوام کو وقت نہیں لگانا پڑتا۔ کیونکہ فقہ کی ترویج کے وقت تحقیق و بحث کرلی گئی۔ موجودہ حالات میں، جبکہ عدم برداشت میں اضافہ ہورہا ہے، اگر یہ تحقیق فقہ کی صورت میں مرتب نہ ہوچکی ہوتی تو موجودہ دور میں یہ کوشش بے نتیجہ ہی رہتی۔

فقہ ءاسلامی / شریعت کے ماخذ دو ہی ہیں۔ اول کتاب اللہ یعنی قرآن مجید اور دوم سنت یعنی قرآن حکیم کی وہ تعبیر جو نبی آخر الزماں ﷺنے پسند فرمائی، اپنا لی جائے گی اور جو آپ نے ناپسند فرمائی ترک کردی جائے گی یا آپﷺ نے اپنے قول و فعل سے تلقین فرمائی یا  صحابہ اکرام پہ نافذ کی یاصحابہ اکرام کے فعل کو پسند کیا تو وہ بھی سنت کا درجہ پاگئی اور اگر ناپسند فرمایا تو ناپسند ہوگئی۔ یہ سارا  سنت مبارکہ کا ہی دائرہ کار ہے۔ نبی کریمﷺ نے خلفاء کی سنت کو بھی اپنی سنت قرار دیا۔

حالات کے بدلنے سے ہر دور میں مختلف مسائل کا حل قرآن و سنت کے احکامات کی روشنی میں اخذ کرنا ، ہردور کی بنیادی ضرورت رہی ہے۔فقہاءعظام نے انفرادی اور اجتماعی طور پر مسائل کا استنباط کرکے مختلف کتب کی تدوین کی۔ اصطلاح شرع میں فقہ کا مفہوم شرعی احکام کا علم ہے، جو قرآن و سنت سے اخذ کیے گئےاور قرآن و سنت کی روشنی میں استنباط کیا گیاہو۔ فقہاء نے ہی تمام مسائل کے حل کیلئے اصول و ضوابط بنائے تاکہ امت مسلمہ قرآن و سنت کی روشنی میں تمام مسائل کو حل کرسکے۔ فقہ کا دائرہ کار، انسان کے مالہ، و ماعلیہ یعنی حقوق و فرائض انسانی ہے۔حقوق میں حقوق اللہ اور حقوق العباد ہیں۔ حقو ق اللہ میں ایمانیات، عبادات مثلا نماز، روزہ، حج اور زکوۃ  وغیرہ ۔ حقوق اللہ کی ادائیگی میں سہولت اور ماحول کی فراہمی ریاست اسلامیہ کی ذمہ داری میں ہے۔ حقوق العباد میں درج ذیل امور پہ بحث کرکے تمام انسانی مسائل کا احاطہ کیا گیا ہے۔

۱۔ مناکحات       اس میں نکاح ، طلاق، عدت ،نسب، نان و نفقہ، پرورش اولاد، حق ولدیت، وصیت، وراثت وغیرہ

۲۔تعزیرات      قتل ، چوری، زنا، شراب، جوا، قذف، قصاص، دیت، قید وغیرہ ۔

تعزیرات کی آگے دو قسمیں ہیں ۔ اول حدود، دوم تعزیر

۳۔معاملات       خریدو فروخت، ہبہ ، امانت ، ضمانت، شرکت، مصالحت، ناجائز قبضہ، دھوکا، اتلاف مال وغیرہ

اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ فقہ نے تحقیق کرکے مسائل کے حل کو شعبہ جات کے لحاظ سے تقسیم کرکے آسان بنا دیا ہے۔ فقہ نے قرآن و سنت میں بیان کردہ احکامات کے مطابق انفرادی، اجتماعی ، حکومتی  یا  تمام معاملات کو شعبوں کے لحاظ سے الگ الگ کرکے وضاحت کی۔ اسلام فرائض و حقوق کی حدود کے تعین کیلئے قوانین کے مجموعے کا نام ہے۔ زندگی کے جتنے شعبے نکلتے ہیں انہیں کے اعتبار و تناسب سے اسلامی قوانین کی اقسام بھی نکلتی ہیں۔ اجمالی طور پر قوانین کی تین قسمیں ” فکری، اخلاقی اور عملی”۔ یہ اقسام تمام قوانین کا احاطہ کرتی ہیں۔  تفصیل کیلئے حقوق العباد میں قانون معاشرت، قانون معاش، قانون تمدن، قانون سیاست ہیں۔ پھر ان کی بہت سی اقسام نکلتی ہیں۔ یہ سب ایک دوسرے سے منسلک ہیں اور ان کے نفاذ سے ہی معاشرے میں توازن آتا ہے۔

دین اسلام ہمیں دو قسم کے احکام و اصول تعلیم فرماتا ہے۔

اول:      ناقابل تغیر احکام و اصول جیسے عقائد ضروریہ۔ نماز، روزہ، طریق نکاح،  عدلیہ کی حدود و قیود وغیرہ

دوئم :     قابل تغیر احکام و اصول، جو مقامات، اوقات اور حالات کے لحاظ سے بدلتے رہتے ہیں۔ جیسے طلب و رسد کو مدنظر رکھ کرعشور، غیر مسلم حکومتوں سے تعلقات، بقدر ضرورت نئے محکموں کو بنانا ، جدید سامان حرب کا اختیار کرناوغیرہ  وغیرہ ۔۔۔

اسلام کے سیاسی نظام کے بارے  میں بھی دونوں طرح کے احکامات ہیں۔ کچھ احکامات مستقل اور متعین ہیں جن میں کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی اور دوسرا حصہ حالات کے تابع ہے، جس میں مواقع کے لحاظ سے گنجائش ہوسکتی ہے۔

اسلام کے تمام تر احکامات ایمانیات،عبادات، معاملات اور اخلاقیات میں منقسم ہیں۔ دین کا تقریباً75فیصد حصّہ معاملات پر مشتمل ہیں۔ معاملات میں اسلامی سیاسی نظام، اسلامی اقتصادی نظام، اسلامی قانونی و معاشرتی نظام جیسے تمام ریاستی نظاموں کی تفصیل موجود ہے ۔ فقہ کی کتابوں میں مختلف ابواب میں ریاست کے نظام کو چلانے کیلئے قرآن و سنت کی روشنی میں احکامات کی تشریح موجود ہے۔ جس سے نہ صرف علوم نبوت کتابوں میں محفوظ ہوتے گئے بلکہ اگلی نسلوں کو بھی پہنچے۔

اسلام کا یہ طرہ امتیاز ہے کہ اسلام کے آنے سے پہلے  علوم دنیا میں کہیں بھی اتنے واضح انداز میں اور وسعت سے انفرادی، خانگی، شہری، صوبائی، ملکی، بین الاقوامی سطح کے تمام معاملات کا احاطہ نہیں کیاگیا اور نہ ہی یہ سب کرنا کسی دوسرے مذہب یا نظام یا تحقیق کے نتیجے میں ممکن ہے۔  تاریخ یہ ثابت کرتی ہے کہ اسلام سے زیادہ متوازن کوئی دوسرا ضابطہ حیات و دنیا نہیں ہے۔ فقہاء عظام نے ہی قرآن و سنت کے تمام احکام کو مرتب کرکے یہ کارنامہ سر انجام دیا۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!