نظامات حکومت

"موجودہ دنیا کے چورانوے 94-ممالک میں صدارتی نظام حکومت رائج ہے۔
 جن میں امریکہ، افغانستان، وینزویلا جیسے ممالک شامل ہیں۔

دنیا کے باون 52-ممالک میں بادشاہی نظام چل رہا ہے۔
جن میں جاپان، کینیڈا، برطانیہ، کویت اور متحدہ عرب امارات، چین اور  شمالی کوریا جیسے مما لک شامل ہیں۔

دنیا کے سنتالیس 47-ممالک میں پارلیمانی نظام حکومت کارفرما ہے۔
انھی ممالک کی فہرست میں پاکستان اوربھارت بھی شامل ہیں۔"

نظام خلافت کا تسلسل رکنے سے امت مسلمہ مختلف ممالک کی صورت میں اختیار کر گئی  اور مسلم ممالک میں مختلف نظام ہائے حکومت نافذ ہوگئے۔اسلامی ممالک میں اب مختلف نظام ہائے حکومت چل رہے ہیں لیکن صحیح معنوں میں مکمل اسلام نظام حکومت کسی بھی مسلم ملک میں نافذ نہیں۔

"اس وقت 9 اسلامی ممالک میں بادشاہت کا نظام چل رہا ہے۔
 جبکہ 11 ممالک میں پارلیمانی نظام حکومت چل رہا  ہے، جن میں پاکستان بھی شامل ہے اور
28 اسلامی ممالک میں صدارتی نظام کے ذریعے امور ریاست چلائے جارہے ہیں
"

دیکھا جائے تو زیادہ تر دنیا کے ممالک میں اور اسلامی ممالک میں بھی بادشاہت یا صدارتی نظام حکومت چل رہا ہے۔ جو کہ علم سیاسیات کے مطابق "یک سربراہی نظام حکومت”کہلاتا ہے۔ اسلام کا عطا کردہ "شورائی نظام حکومت” بھی یک سربراہی نظام حکومت ہی ہے۔یک سربراہی نظام حکومت میں ریاستی سطح پہ تمام اختیارات ایک سربراہ کے پاس ہوتے ہیں۔ جبکہ پارلیمانی نظام میں لیمیٹڈ کمپنی کی مانند اختیارات کو بہت سے عہدوں میں بانٹ دیا جاتا ہے اور  حتمی اختیار کسی ایک کے پاس نہ ہونے کی وجہ سے ہمیشہ عدم استحکام ہی رہتا ہے۔

مزید یہ کہ مغربی جمہوریت کے "عوامی طریقہ انتخاب” ہونے کی وجہ سے صحیح قیادت ان ممالک میں میسر نہیں ہوتی اور عوامی نمائندگان کی نااہلی کے باعث یہ ممالک مسائل سے نکل ہی نہیں پاتے۔  ان ممالک میں سیاسی افراتفری بھی عروج پہ رہتی ہے۔ ماضی کی طرح موجودہ دور میں یک سربراہی نظام حکومت خواہ  صدارتی ہو یا بادشاہی، پارلیمانی نظام حکومت کی نسبت زیادہ کامیاب کام کر رہا ہے۔

سربراہ مملکت، صدر کہلائے یا بادشاہ یا سلطان اگر اسے شرعی طریقے سے تشکیل شدہ مجلس شوری  منتخب ہو اور وہ اسلام کے قوانین کے مطابق اسلامی ریاست کے امور کو چلائے تو یہی "اسلامی حکومت” ہوتی ہے۔

امریکہ میں صدارتی نظام حکومت ہے۔ جب بھی نیا صدر منتخب ہوتا ہے، وہ اپنی مجلس تشریعی تشکیل دیتا ہے۔ امریکہ کے صدرکی مجلس تشریعی،  نائب صدر کو ملا کر کل سولہ اراکین پر مشتمل ہو سکتی ہے۔ یہ اراکین  اعلی محکموں کے سربراہ ہوتے ہیں جن میں محکمہ خارجہ، دفاع، داخلہ، اٹارنی جنرل، زراعت، کامرس، لیبر، صحت، ہاؤسنگ و اربن ڈویلپمنٹ، توانائی، تعلیم، سیکیورٹی وغیرہ جیسے محکمہ جات شامل  ہوتے ہیں۔ ان محکموں کے سربراہ یعنی وزرا کو متعلقہ تعلیمی قابلیت و اہلیت اور تجربے کی بنیاد پر وزیر مقرر کیاجاتا ہے اور ان کی کارکردگی پر کڑی نظر رکھی جاتی ہے۔ کئی دفعہ وزرا کو اس وجہ سے تبدیل کردیا جاتا ہے کہ وہ مطلوبہ کارکردگی نہ دکھا سکے۔ امریکہ کی آبادی اور رقبہ، دونوں  پاکستان سے زیادہ ہے۔ جس کی ریاستوں یا صوبوں کی تعداد بھی ہمارے صوبوں سے  تیرہ گنا زیادہ ہے۔ جو کہ اندرونی معاملات کے ساتھ ساتھ خارجہ امور پہ بھی گہرے اثرات رکھتا ہے۔ اتنے زیادہ امور کے باوجود بشمول نائب صدر صرف سولہ  اراکین امور ریاست چلاتے ہیں۔لیکن  ہمارے ملک میں وفاقی وزیر اور وزیر مملکت اور صوبائی وزراء کی ایک طویل فہرست ہے۔ جبکہ ان کی قابلیت، اہلیت اور کارکردگی پہ بھی نظر نہیں رکھی جاتی ہے۔

تائیوان میں صدارتی نظام ہے۔ صدر براہ راست عوام منتخب کرتی ہے۔ وزیراعظم اور کابینہ صدر خود مقرر کرتا ہے۔ کابینہ کا کوئی وزیر ممبر پارلیمنٹ نہیں ہوتا۔ اپنی سیاسی جماعت کے قابل ترین افراد یا باہر کے موزوں ترین افراد کو وزارت کی ذمہ داریاں سونپی جاتی ہیں۔ وزیروں یا اداروں کے سربراہان کو پارلیمنٹ کے اجلاس میں بلایا جاتا ہےاور پارلیمنٹ کے تلخ ترین سوالات کے جوابات دیتے ہیں۔ بدعنوانی اور رشوت ستانی بہت کم ہے۔

جاپان میں "بادشاہی نظام حکومت” یعنی یک سربراہی نظام حکومت ہے۔ جاپان نے امریکہ سے شکست کھائی اور پوری قوم نے امریکہ کی بالادستی قبول کرلی ۔ صرف ایک تعلیمی نظام اپنے ہاتھ میں رکھا۔ اس کی پالیسی انھوں نے خود بنائی اور ملک میں موجود بادشاہت کو قائم رکھا۔ تعلیمی اور تکنیکی نظام کے ذریعے انقلاب لے آئے۔

قوموں کی ترقی میں ریاستی نظام حکومت، نظریہ، قوانین  اور حکمران  بہت بنیادی  اہمیت رکھتے ہیں۔ ہمیں اپنا نظام حکومت اورطریقہ انتخاب اسلام کے عطا کردہ بنیادی اصولوں کے مطابق کرتےہوئے "یک سربراہی نظام حکومت” کرنے کی ضرورت ہے اور اسے اسلام کے شورائی نظام حکومت کے اصولوں پہ مرتب کیا جائے۔  بحیثیت مسلمان ہم قرآن و سنت کو نافذ کرنے کے پابند ہیں۔ دو قومی نظریہ اور نظریہ پاکستان کے تحت بھی ہم قرآن و سنت کی بنیاد پہ اس ملک کو چلانے کے وعدے کو ایفا کرنے کے پابند ہیں۔ ہمارے پاس خالق کائنات کا دیا ہوا نظام موجود ہے، وہ بادشاہت کہلائے یا صدارتی ہماری بقاء اور ترقی اسی نظام میں ہے اور وہ نظام "شورائی نظام حکومت” ہی ہے۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!