نجکاری

اسلام نے نجکاری کی حدود مقرر کی ہیں۔ ابن عبّاس سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا۔

"سارے مسلمان تین چیزوں میں شریک ہیں، پانی، چراگاہ اور آگ”۔ سنن ابودا‎ود اور ابن ماجہ

اس حدیث کے روشنی میں دریا‎ؤں کے پانی کی نجکاری نہیں کی جا سکتی اور نا ہی ڈیموں کی نجکاری کی جاسکتی ہے اور نا ہی ان سے نکالی گئی نہروں کی نجکاری کی جا سکتی ہے۔ چراگاہوں اور جنگلات کی نجکاری بھی منع ہے۔ نبی کریمﷺ کے زمانے میں آگ دو مقاصد کیلئے استعمال ہوا کرتی تھیں، ایک ایندھن اور دوسری روشنی کیلئے۔ یعنی تیل، گیس وغیرہ کے ذخیروں کی نجکاری نہیں کی جا سکتی اور نہ ہی بجلی کی پیداواری ذرائع کی نجکاری کی جاسکتی ہیں۔

 آگ دو مقاصد کے لیے استعمال ہوتی ہے، ایک ایندھن اور دوسری روشنی کیلئے۔ یعنی تیل، گیس، سلفر اور کوئلے جیسے توانائی کے ذخیروں، کانوں کی نجکاری نہیں کی جا سکتی اور نا ہی بجلی کی پیداواری ذرائع کی نجکاری کی جاسکتی ہے۔ سنن ترمذی اور ابن ماجہ میں ابیض بن حمل مربی سے مروی ہے کہ اللہ کے رسولﷺ نے ان سے نمک کی کان واپس لے لی، جب آپ کو معلوم ہوا کہ یہ مسلمانوں کی مشترکہ استعمال میں تھی۔ جس کو نبی کریمﷺ نے ان کو تحفے میں دیا تھا۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!