ٹیکس / نائبہ سے متعلق تجاویز

شرعی ذرائع آمدن کے علاوہ مجموعی طور پر ایک ٹیکس لگایا جائے۔ وطن عزیز کو "ون ٹیکس سوسائٹی” بنا یا جائے جو کہ دنیا میں ایک اعلی مثال ہوگی۔ مملکت پاکستان ایک مثالی ریاست کی صورت میں افق دنیا پہ ابھرے گا۔ اسی ٹیکس سے بیرونی قرض اتارا جائے اور ملک کی ترقی اور جدت  پہ خرچ کیا جائے۔ بالواسطہ یا بلاواسطہ ٹیکسز کا سارا نظام ختم کرکے ایسا ٹیکس کا نظام بنایا جائے کہ ایک چیز پہ ایک سے زائد بار ٹیکس بھی نہ وصول ہوسکے اور اس کو اکٹھا کرنا آسان اور چوری کرنا ناممکن ہو۔ اس کو نافذ کرنے کا ایسا طریقہ کار وضع کیا جائے کہ اس کا بوجھ کسی غریب پہ نہ آئے اور بآسانی وصول بھی کیا جاسکے۔ فوری طور پر ٹیکس کے موجودہ نظام کو ختم کرکے ، سادہ اور موثر ون ٹیکس سسٹم کو متعارف کروایا جائے۔

بالواسطہ ٹیکس، بلاواسطہ ٹیکس، سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس، ودہولڈنگ ٹیکس اور دیگرمتعدد اقسام شرعی طور پر کسی طورجائز نہیں ہیں۔ مشرقی پاکستان، آج کے بنگلہ دیش میں سیلاب آیا تو ان کی معاشی مدد کیلئے پٹرولیم مصنوعات پہ ڈھاکہ ٹیکس لگایا گیا، مشرقی پاکستان، بنگلہ دیش بن گیا لیکن بہت عرصے تک وہ ٹیکس عوام پہ لگا رہا۔ اور اگر ضرورت وقتی ہو تو ضرورت ختم ہوتے ہی ٹیکس کو ختم کردیا چاہئے۔ حکومت کافرض ہے کہ جو محصولات عوام سے لئے جاتے ہیں، ان کو عوام کی فلاح و بہبود پہ خرچ کرے۔

اسلامی حکومت مجلس شوری کی اجازت سے کسی مجبوری کے تحت  ٹیکس لگا سکتی ہے ، جو کہ مستقل نہیں ہوتا،بلکہ وقتی یا عارضی ہوتا ہے۔ جیسے ہی حکومت کی ضرورت ختم ہو وہ ٹیکس ختم کردیا جائے گا۔ بیرونی ممالک کے قرضوں کے سودکی ادائیگی کیلئے،مجموعی طور پر ایک محصول لگایا جائے اور اس کا مقصد بھی واضح ہے اور اسی مصرف میں لایا جاسکے اور جیسے ہی بیرونی و اندرونی قرضہ اتر جائے، یہ ٹیکس ختم کردیا جائے۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!