موجودہ نظام عدل

پولیس جائے وقوعہ پہ پہنچ کر گرفتاری کرتی ہے۔ مدعی کی درخواست پہ لیکر ایف آئی آر کا اندراج کرتی ہے۔ قانون کے مطابق ملزم کو حراست میں لینے کے چوبیس گھنٹوں میں علاقہ مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جانا ہوتا ہے۔ لیکن عموما پولیس گرفتاری کا اندراج ہی نہیں کرتی۔ جس کی وجہ سے عدالتی بیلف تھانوں میں اچانک چھاپہ مار کاروائی کرتے ہیں اور غیرقانونی طور پہ حراست میں لوگوں کو بازیاب کرواتے ہیں۔  جب علاقہ مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جاتا ہے تو مجسٹریٹ ملزم کو جسمانی ریمانڈ پہ پولیس کے حوالے کر دیتے ہیں۔ پھر تفتیشی پولیس تفتیش کرتی ہے اور تفتیش کی مسل تیار کرکے عدالت میں پیش کرتی ہے۔ پھر وکلاء کو تیاری کا وقت ملتا ہے۔ مقدمہ کی سماعت شروع ہوتی ہے۔ پہلے وکلاء ایف آئی آر پہ بحث کرتے ہیں اور ثابت کرتے ہیں کہ ایف آئی آر میں جھوٹ لکھا گیا ہے۔ پھر وہ مسل کی دھجیاں اڑاتے ہیں۔ پھر عدالتی تفتیش کا آغاز ہوتا ہے۔ اور اس وقت تک گواہ، مدعی بہت کچھ بھول چکے ہوتے ہیں۔ کبھی وکیل چھٹی پہ اور کبھی جج چھٹی پہ اور کبھی کوئی حادثہ اور کبھی کوئی ہڑتال وغیرہ وغیرہ۔۔۔ کبھی جج تبدیل اور کبھی وکیل تبدیل۔۔۔ اور پھر جرح اور پتہ نہیں کب فیصلہ۔ اس پہ بھی فریقین شکر ادا کرتے ہیں کہ خدا خدا کرکےکفر ٹوٹا اور فیصلہ ہو گیا۔ اس عرصے کے دوران قید شخص اور اس کے لواحقین کیلئے ضمانت پہ آنے والے اخراجات اور وقت کا ضیاع الگ سے ہوتا ہے۔ پریشانی اور ذلالت الگ سے ہوتی ہے۔ اس نظام عدل کی وجہ سےبے گناہ لوگ بھی سالوں جیل میں قید رہتے ہیں جو کہ بہت بڑا ظلم ہے۔

پاکستان کا موجودہ عدلیہ کا نظام باقی نظاموں کی طرح وہی ہے جو انگریزوں نے اس قوم کو غلام رکھنے کیلئے ترتیب دیا تھا۔ اسی قانون کے  تحت آج بھی پاکستان میں لوگوں کو پھانسی پہ لٹکا دیا جاتا ہے۔ یعنی ہم نے جس نظرئیے کو بنیاد بنا کر ملک حاصل کیا تھا وہ ثابت شدہ اور آزمودہ نسخہ  ہم نے پاکستان نافذ نہیں کیا۔ اگر وہ نظریہ کمزور ہوتا یا مظلوم کی داد رسی نہ کرسکتا ہوتا تو انگریزہمیں یہ بتا رہے ہوتے کہ مغلیہ دور کے نظام میں عدل و انصاف نہیں تھا اور اب جو نظام حکومت کام کررہا ہے، وہی کامیاب ہے۔ اس لئے مسلمان کون سے دو قومی نظرئیے کی بات کرتے ہیں۔ ہندو اور مسلمان اکٹھے رہیں اور جمہوریت کے سائے تلے اپنی زندگیاں بسر کریں۔ کسی کے ساتھ نا انصافی نہیں ہوگی۔ غلامی کا یہ عالم ہے کے آج بھی عدالت عالیہ اور عدالت عظمی کے قاضی حضرات انگریز کی نقالی کرتے ہوئے سر ڈھانپتے ہیں۔

 پاکستان میں ایک ایسا وقت آیاکہ جب سیکورٹی اداروں کو دہشت گردی پہ قابو پانے کیلئے کچھ افراد کو گرفتار کیا تو عدالت عظمی کے جسٹس صاحبان نے کہا کہ "کس قانون کے تحت ان کو گرفتار کیاگیا؟۔۔۔” یہ افراد موبائل پہ بم دھماکوں کی بات کررہے ہیں۔  انسانوں کو مارنے کی بات کر رہے تھے اور ہر طرح کی تحقیق اور تسلی کی گئی ہے۔ کئی بےگناہ لوگ مارے گئے ہیں۔ جسٹس صاحب نے پوچھا کہ "کیا قانون نے حساس اداروں کو کال ریکارڈ کرنے کی اجازت دے رکھی ہے؟۔۔۔ کیا کوئی قانون موجود ہے کہ آپ لوگوں کی نجی زندگی میں اس طرح سے نظر رکھ کرسکیں؟۔۔۔ جب کوئی قانون ہی نہیں موجود ہے، تو پہلے پارلیمنٹ سے قانون پاس ہو جانے دو کہ حساس ادارے کالزریکارڈ کرسکتے ہیں اور موبائل کے ذریعے محل وقوع ڈھونڈ سکتے ہیں یا موبائل کی موجودگی بھی مجرم کی نشاندہی کیلئے ثبوت کے طور پر قبول کی جاسکتی ہے، ان سب اقدامات کی بناء پہ ان افراد کو پکڑ سکتے ہیں”۔  اس طرح اداروں کی محاذ آرائی کی وجہ سے ان لوگوں کو چھوڑ دیا گیا۔

پاکستان میں ایک امریکی جاسوس دو پاکستانیوں کو بیچ بازار گولی ماردیتا ہے تو خون بہا کے ذریعے مقدمہ حل کرنے کیلئے پوری حکومتی مشینری حرکت میں آجاتی ہے۔ وزیر اعظم اپنے صوابدیدی فنڈ میں سے خون بہا ادا کرتے ہیں  اور فوری طور پہ ریمنڈ ڈیوس کو ملک سے باعزت روانہ کیا جاتا ہے۔ کیا پاکستان میں تمام قتل کے مقدمات میں ایسے ہی  تمام مقتولین کو خون بہا پہ راضی کرنے کی کوشش کی جاتی ہے؟۔۔۔ کیا اتنی ہی جلدی تمام تر قتل کے مقدمات کی تفتیش مکمل کرکے عدالتیں فیصلے صادر کرتی ہیں؟۔۔۔

پرویز مشرف کے دور میں کراچی میں وکلاء کو زندہ جلادیا گیا۔ وکیل آج تک خود انصاف نہ حاصل کرسکے۔ کسی کو کیا انصاف لے کر دیں گے؟۔۔۔ جمہوری طرز پہ ہر سال  یوم سیاہ منا کر اپنی ذمہ داری پوری کر لیتے ہیں۔ کیا معزز قانون دان اس طرح مطمئن ہیں؟۔۔۔

2015میں پنجاب حکومت، جیل روڈلاہور اور گلبرگ مین بلیوارڈ کا سگنل فری منصوبہ بناتی ہے۔ تاکہ لوگ ٹریفک میں پھنسے نہ رہیں۔ ایک صاحب لاہورہائیکورٹ میں رٹ دائر کردیتے ہیں اور لاہور ہائیکورٹ ، حکومت پنجاب کو سڑک سگنل فری کرنے سے روک دیتی ہے کہ یہ تو ضلعی حکومت کا کام ہے۔ایسے ہی میٹرو ٹرین کامنصوبہ شروع ہوجانے کے بعد عدالت عظمی روک دیتی ہے، جس سے اربوں روپے کا ریاست کا نقصان ہوتا ہے۔ ایسے بہت سے فیصلوں کی وجہ سے ریاست کومعاشی نقصان ہوچکا ہے۔

فوجداری ہو یا دیوانی مقدمات، اس نظام عدل سے کوئی  انسان،سچائی کے سہارے اور ایمانداری سے اور باوقار طریقہ سے  مستفیض ہوتا، دیکھنا تو درکنار، کبھی سنا تک نہیں ہے۔ دیوانی مقدمات کی تو کیا ہی بات ہے ۔پاکستانیوں کو دیوانہ کردینے کیلئے کافی ہیں۔پاکستان میں ہی ایک مقدمہ پچھلے دنوں اخباروں کی زینت بنا۔ مقدمے کی کاروائی کے نوے سال مکمل ہونے پہ عدالت عظمی کے باہر کیک کاٹا گیا۔ یعنی پاکستان بننے سے پہلے کا مقدمہ دائر ہوا ہے اور آج تک انصاف نہ مل سکا۔

اسلام کے نام پہ بننے والے ملک کے نظام عدل و انصاف کا اس بات سے اندازہ کریں کہ پاکستان میں ہی اعلی حکومتی شخصیت نے توہین رسالت کی مرتکب خاتون سے ناحق ہمدردی کی، جس پہ اس کے سرکاری محافظ نے اسے قتل کردیا۔ جبکہ اس سے پہلے مقدمے کے اندراج اور اعلی عہدے سے برطرفی کیلئے احتجاج بھی کیا گیا۔ مقدمات درج کروانے کی کوشش کی گئی لیکن کوئی قانونی کاروائی عمل میں نہ لائی گئی۔ ۔ جس عورت کی حمایت کی وجہ سے حالات یہاں تک پہنچےاسکے مقدمہ کی انکوائری بھی مکمل ہوچکی ہے اور وہ اعلی سرکاری افسروں کے سامنے اقبال جرم بھی کرچکی ہے ، لیکن ایسے مرتکبین کو آج تک عدلیہ نے کیفر کردار تک پہنچانے کی فکر نہیں کی۔ مرتکبین توہین رسالت میں سے کسی ایک کو بھی آج تک سزا ثابت ہوجانے کے باوجود پھانسی نہیں دی گئی۔ لیکن اعلی شخصیت کے سرکاری محافظ کو پھانسی لگا دیا گیا اور بعد ازاں اس عورت کو عدالت عظمی نے بری کردیا اور باحفاظت حکومت نے بیرون ملک بھیج دیا۔ اس کاروائی کیلئے برطانیہ نے پیسہ بھی دیا۔ جس کے ویڈیو ثبوت موجود ہیں۔ اس کے بعد احتجاج میں کئی لوگ مارے گئے۔ بلکہ حکومت کے خفیہ موقف کو بےنقاب کرنے پہ مذہبی رہنما جو کہ حکومتی اتحادی بھی تھے،  کو اسی رات قتل کردیا گیا۔

ایسے سینکڑوں مقدمات عرصہ دراز سے عدالتوں میں زیر التوا ہیں اور عدالتیں فیصلے نہیں کر پارہی ہیں۔ یہ تو وہ عدالتی معاملات ہیں جن کی وجہ سے عوام الناس ذلیل ہوتی ہے۔ خواص کا بھی ایسا ہی برا حال ہے۔ اور تو اور آج تک کسی عدالت یا قانون نے پاکستان میں بڑے معموں کو حل  نہیں کیا۔ لیاقت علی خاں سے لیکر میموگیٹ، ایبٹ آباد آپریشن تک کتنے معمے ہی آج بھی حل طلب ہیں۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!