موجودہ نظام انتخاب میں ووٹ دینے کی شرعی حیثیت

موجودہ نظام انتخاب میں ووٹ دینے کو کچھ علماء کراہت کے ساتھ جائز قرار دیتے ہیں، یعنی  "مکروہ” ہے۔ ووٹ دینا مکروہ ہونے کے باوجود موجودہ نظریہ انتخاب سے الگ نہ رہنے کی علماء ہدایت کرتے ہیں۔  ایک حدیث مبارک کا مفہوم ہے کہ

"اگر مسلمان کو برائیوں میں سے ہی ایک برائی کا انتخاب کرنا ہو تو کم ترین درجے کی برائی کو اختیار کرے”

کیونکہ اگر حکومت سازی کے مراحل سے اسلام پسند شہری الگ ہو جائیں گے تو میدان سیاست ایسے لوگوں کے ہتھے چڑھ جائے گا جو کہ اسلام مخالف نہ بھی اقدامات کرسکیں تو غیراسلامی اقدار کو فروغ ضرور دیں گے اور عوام پہ ظلم ہی کریں گے۔ چار و ناچار علماء یہی ہدایت کرتے ہیں کہ اگر کوئی سیاسی جماعت قرآن و سنت کے نفاذ کیلئے انتخابات میں حصہ نہیں لے رہی تو اسے ووٹ نہیں دیا جاسکتا۔ لیکن غلط لوگوں کو اسمبلیوں میں بھی نہ جانے دیں۔ آپ کو جس شخص کے بارے میں علم ہے کہ یہ زیادہ دین دار، مخلص، اہلیت و دیانت، تعمیری سوچ اور علم و قابلیت کا حامل ہے اسے ووٹ دیں۔ لیکن جو علماء موجودہ نظام میں ووٹ دینے کے سخت مخالف ہیں اور حرام سمجھتے ہیں، ان کے دلائل بھی مضبوط ہیں اور ان کی رائے میں بھی وزن ہے۔

مکمل نظام حکومت کو اسلامی طرز پہ کرنے کی ذمہ داری صاحب اختیار و اقتدار کی ہے اور اللہ کے حضور وہی جوابدہ ہوں گے۔ آج اسلام پہ عمل کرنے کیلئے عوام کو انھی حالات کا سامنا ہے جو کہ انگریزوں کے قابض ہونے کے بعد ہمارے آباء و اجداد کو بھگتنا پڑا تھا۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اس وقت غیر مسلم اقتدار اور ملک پہ قابض ہوگئے تھے اور اب کلمہ گو قابض ہیں لیکن نظام اور پالیسیوں کا وہی تسلسل ہے۔ اس لئے ایسی تنظیم یا ایسے لوگوں کی حمایت کرنا چاہئے اور ووٹ دینا چاہئے جو اسلام کی تعلیمات سے واقف ہوں اور اسلامی نظام حکومت کے نفاذ کے حامی ہوں۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!