موجودہ ریاستی معاشی نظام

نظام حکومت کو چلانے کیلئے سرکاری خزانہ ہونا ضروری ہے۔ آمریت میں سرکاری خزانہ بادشاہوں کے رحم و کرم پہ ہوتا ہے۔ اس کی آمدنی کے ذرائع بھی بادشاہ خود مقرر کرتا اور جب چاہتا اور جنتا چاہتا لوگوں سے پیسہ وصول کرکے خزانہ بھر لیتا اور اپنی ذاتی ملکیت گردانتے ہوئے اپنی  عیش و عشرت پہ خرچ کرلیتا۔آج بھی حالات کچھ مختلف نہیں۔ سربراہان مملکت جتنا چاہتے ہیں، ٹیکس لگاتے ہیں اور پیسہ اکٹھا کرتے ہیں۔

پاکستان کے موجودہ دستور میں لکھا ہے کہ ملک کا دستور قرآن و سنت کا پابند ہوگا۔ اسلام کے احکامات کے مطابق شرعی محاصل کے علاوہ ٹیکس لگانا  جائز نہیں۔ نئے محصولات کیلئے مجلس شوری کی توثیق ضروری ہے۔ موجودہ دور میں کم از کم حکومت جو بھی نئے قوانین یا احکامات جاری کررہی ہے، وہ تو اسلام کے عین مطابق ہونے چاہئے۔ جب اسلام اس طریقے سے ٹیکس لگانے کی اجازت ہی نہیں دیتا تو آپ ٹیکس لگانے کا اختیار تو رکھتے ہی نہیں۔ حکومتوں کو مزید غیر شرعی کاموں سے رک جانا چاہئے، مزید ٹیکس نہ لگائیں۔ بلکہ بتدریج ٹیکس کم کرتے جائیں۔ ایسا بھی نہیں ہورہا۔ پھر حکومت کی ترجیحات اور آمدنی کی تقسیم کا طریقہ کار ہی غلط ہے۔

دنیا میں اوسطا 40 فیصد سے 60 فیصد ٹیکسز ہیں۔ کچھ ٹیکسز تو 100 فیصد سے بھی زیادہ ہیں۔

کچھ بالواسطہ اور کچھ بلا واسطہ ہیں۔

اشیاء ضروریہ پہ بھی  ٹیکس ہیں جو ایک بھکاری بھی ادا کررہا ہے۔ جس کا کہنا ہے کہ میں حکومت کو ٹیکس نہیں دیتا۔ غریب آدمی، جس کی دن کی آمدن 500  سے 700روپے یومیہ ہے،  کہتا ہے کہ میں ان میں سے کوئی ٹیکس نہیں دیتا، وہ بھی حکومت کو کم و بیش سالانہ پچاس ہزار روپے تک ٹیکس دیتا ہے۔ کیونکہ اس نے کپڑا، کوکنگ آئل یا گھی، صابن یعنی اشیاء صرف  توخریدنا ہی ہیں۔ جن پہ بالواسطہ اور بلاواسطہ ٹیکس پہلے ہی شامل کر لئے گئے ہوتے ہیں اور ایسے وہ ٹیکس ادا کر رہا ہوتا ہے۔

مثال لیتے ہیں کہ کپڑا انسانی جسم کو ڈھانپنے کا ذریعہ ہے۔ زمین میں بویا جانے والا کپاس کا بیج، بیج کو لانے کےدوران پٹرول پہ بھی ٹیکس ادا کر رہے ہیں۔ اب وہ بیج زمین پہ بونے کیلئے پہنچ گیا اور زمین میں بو دیا گیا۔ پانی دیا گیا۔ سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس اور دیگر ٹیکسز بجلی کے بل میں وصول کرلئے گئے۔ ورنہ جو انجن میں تیل جل رہا ہے اس میں بھی ٹیکس ادا کردیا گیا ہے۔ اب فصل کٹ گئی، اس دوران بھی ٹریکٹر یا زرعی آلات جو استعمال ہورہے ہیں، ان پہ ٹیکس لے لیا گیا ہے۔ اور اب کپاس کو منڈی تک جاتے ہوئے ٹیکس، ڈیزل پہ ٹیکسوں کی بھرمار وغیرہ۔ اب دھاگہ بننے کے مرحلہ میں داخل ہوا۔ اس فیکٹری پہ بھی سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس، ودہولڈنگ ٹیکس، اور دیگر ٹیکس ادا کئے گئے۔ اب وہاں سے ویونگ ملز میں آیا اور پھر ٹیکسوں کی بھرمار، ابھی ٹیکس ختم نہیں ہوئے ۔کپڑا رنگنے والی فیکٹری اور پھر ہول سیلر بھی ٹیکس ادا کرے گا۔ پھر دکاندار کے پاس کپڑا آجاتا ہے۔ دکاندار انکم ٹیکس، ضلع ٹیکس، تحصیل ٹیکس، کاروباری فیس اور دیگر ٹیکس ادا کرتا ہے۔ بجلی، گیس کے بلوں میں ٹیکس۔ اب اس دوران بیج سے کپڑے تک کا پروسیس کیا گیا، اس دوران عمارتوں پہ پراپرٹی ٹیکس اور دیگر ٹیکسز کا بوجھ بالآخر ہر صارف پہ ہی آتا ہے۔

موجودہ دور کے محصولات میں جو ڈھوندے جاسکے ہیں۔ انکم ٹیکس، جنرل سیلز ٹیکس، کیپیٹل ویلیو ٹیکس، ویلیو ایڈڈ ٹیکس، سنٹرل سیلز ٹیکس، سروس ٹیکس، فیول ایڈجسٹمنٹ، پٹرول لیوی، ایکسائز ڈیوٹی، اوکٹرائی ٹیکس، ٹی ڈی ایس ٹیکس، ایمپلائمنٹ سٹیٹس انڈیکیٹر ٹیکس، پراپرٹی ٹیکس، لوکل ٹیکس، پارکنگ فیس، کیپیٹل گین ٹیکس، واٹر ٹیکس، فلڈ ٹیکس، پروفیشنل ٹیکس، روڈ ٹیکس، سیکورٹیز ٹرانزیکشن ٹیکس، ویلتھ ٹیکس، سپر ٹیکس وغیرہ کے علاوہ بجلی کے بل پہ ٹیکس۔ پیٹرول کی اصل قیمت کے علاوہ ٹیکس، دوائی پہ بھی ٹیکس، سفر کیا تو ٹول ٹیکس، صابن پے ٹیکس، ٹیلی فون، گیس پے ٹیکس، موبائل و موبائل کارڈ پے ٹیکس، گھر میں ٹی وی ہو یا نا ہو پھر بھی ٹیکس، دوکانوں پے کمرشل فیس ٹیکس، سائیکل پے ٹیکس، موٹر سائیکل پے ٹیکس، گاڑی پے ٹیکس بھی ادا کئے جاتے ہیں۔ جبکہ جب تنخواہ وصول کی جاتی ہے تو اس وقت بھی ٹیکس کٹوایا جاتا ہے اور جب بینک سے پیسے نکلوائے جاتے ہیں تو بھی حکومت کو ٹیکس ادا کیا جاتا ہے۔ پھر اس کے بعد رمضان المبارک کے آخری عشرے میں زکوۃ کی کٹوتی بینکوں کے کھاتوں میں موجود رقم پہ کرلی جاتی ہے۔ جس سے غیرمسلموں کو استثنی دیا گیا ہے جبکہ ان کے کھاتوں سے جزیہ کی کٹوتی کی جانی چاہئیے۔

اس سب کے باوجود حکومت میں بیٹھے سیاستدان اور ذرائع ابلاغ پہ بیٹھے ماہرین اور کچھ ناسمجھ یہ کہتے ہیں کہ بائیس کروڑ پاکستانیوں میں سے چند لاکھ یا صرف 1 فیصد پاکستانی ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ جس پہ کچھ ناسمجھ کہتے ہیں کہ جب ٹیکس اکٹھا ہی نہیں ہوگا تو حکومت کے پاس پیسہ کہاں سے آئے گا۔

"سا بق امریکی صدر ریگن نے ایک دفعہ کالج میں کہا کہ "کالج میں معاشیات پڑھتےہوئے ابن خلدون نامی ایک شخص کی بات پڑھائی گئی جو اس نے 1200 سال قبل کہی تھی کہ سلطنتوں کے آغاز میں ٹیکس کم اور آمدن زیادہ جبکہ زوال کےوقت ٹیکس زیادہ اور آمدن کم ہوتی ہے”

جمہوری نظام اور موجودہ معاشی نظام ایک بہت بڑا مسائلستان ہے۔ پوری دنیا میں یہ سرمایہ دارانہ، سودی معاشی نظام ناکام ہوچکا ہے۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!