مملکت اسلامیہ پاکستان

پاکستان کے لفظی معنی "پاک سر زمین” ہے، "پاک” کے اردو اور فارسی میں معنی خالص اور صاف کے ہیں اور "ستان” کا مطلب زمین یا وطن کا ہے۔ 1933ء میں چودھری رحمت علی نے اپنا مشہور کتابچہ” Now or Never ،ابھی یا کبھی نہیں” شائع کیا جس میں پہلی مرتبہ لفظ پاکستان استعمال کیا گیا۔ ہمارا پیارا  وطن پاکستان دوقومی نظریہ یا نظریہ پاکستان کے تحت "اسلامی جمہوریہ پاکستان” نہیں بلکہ "مملکت اسلامیہ پاکستان” بنایا گیا تھا۔ ناکام و نامراد طرز حکمرانی، جمہوریت کیلئے یہ ملک ہرگز تشکیل نہیں دیا گیا۔

کچھ مسلم طبقوں کی جانب سے یہ مطالبہ بھی آ رہا تھا کہ انگریزوں نے مسلمانوں سے حکومت چھینی تھی اور مسلمانوں کو حکومت واپس دے کر چلے جائیں۔ جو کہ انگریزوں کی مسلم دشمنی کی وجہ سے ناممکن تھا اور ہندوستان میں رائج "طریقہ انتخاب  و نظام حکومت” کے ذریعے مسلمانوں کیلئے اقتدار چلانا ناممکن تھا۔ علامہ اقبال دنیا سے پردہ فرما گئے لیکن ان کی سوچ کے تحت  کچھ ہی عرصے بعد قیامِ پاکستان کیلئے "قرار داد پاکستان” 1940 ء میں لاہور میں منظور کی گئی۔ انھی سازشوں کے پیش نظر دو قومی نظریہ کی تائید کرتے ہوئے قائداعظم نے کہا  تھا۔

"اگر یہ مجھے ایک ضلع دیں کہ پاکستان بناؤ۔ میں پاکستان بناؤں گا۔ پاکستان بن جانے دو۔ یہ پاکستانیوں کا کام ہوگا کہ اس کو دنیا پہ پھیلا دیں”

1940ء میں قراردادِ پاکستان کے اعلان کے بعد ایک اعلیٰ کمیٹی مسلم لیگ نے قائم کی تاکہ مجوزہ پاکستان کیلئے ایک سیاسی نظام مدوّن کیا جاسکے۔ مسلم لیگ (یوپی) کے زیراہتمام تشکیل پانے والی اس کمیٹی میں علامہ سلیمان ندوی، مولانا آزاد سبحانی، مولانا عبدالماجد دریا آبادی اور مولانا ابوالاعلیٰ مودودی جیسے محققین اور مدبرین شریعت بھی شامل تھے۔ علومِ قدیم و جدید کے ان مشاہیر و ماہرین نے پاکستان کیلئے اسلامی نظام حکومت و سیاست کا تفصیلی مسودہ 1942ء میں مکمل کردیا تھا۔ جسے بعد میں دارالمصنّفین اعظم گڑھ (بھارت) نے کتابی شکل میں شائع کیا۔ یہ قابل قدر کتاب بعنوان  "اسلام کا سیاسی نظام” مرتبہ مولانا اسحاق سندیلوی نہایت اہم تاریخی دستاویز ہے۔ جس میں مغربی طرزِ سیاست و جمہوریت کو دلائل کے ساتھ مسترد کیا گیا ہے اور اسلامی نظامِ حکومت، شورائیت کا ایک خاکہ دیا گیا ہے۔ اسی تاریخی دستاویز میں مغربی نظام جمہوریت کو ردّ کیا گیا ہے کہ اس لادینی نظام سے گروہ بندی پیدا ہوتی ہے اور جماعتی تعصب قائم ہوجاتا ہے۔حزبِ اختلاف اور حزبِ اقتدار کی مستقل تقسیم سے تفریق و تفرقہ اور خانہ جنگی کی نوبت آجاتی ہے۔ اقتدار وہ پارٹی حاصل کرلیتی ہے، جو دولت و سرمایہ سے مالا مال ہو اور اہل اقتدار کیلئے انتخاب بلا شرط اور بغیر معیار کے ہوتا ہے، یعنی یہ کہ وہاں نہ صلاحیت کی شرط ہوتی ہے اور نہ صالحیت کا معیار۔ غرضیکہ 1942ء میں اہل علم و دانش نے متفقہ طور پر مغربی طرزِ جمہوریت کو انتہائی مضر اور ناجائز قرار دے دیا۔

قرار دادِ پاکستان 1940ء کے بعد سے قیامِ پاکستان 1947ء تک  اسلامی نظام حکومت کا عہد ہی ہر سطح پہ ہوتا رہا۔ کہیں بھی اسلامی نظام حکومت کی بجائے، جمہوریت کے تسلسل کا تذکرہ نہیں ملتا۔ کہیں بھی، مسلم جماعتوں کا یہ وعدہ نہیں سننے کو ملتا کہ ہم قیام پاکستان کے بعد جمہوریت کے تسلسل کو برقرار رکھیں گے۔ یہ بات تو ویسے بھی روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ کبھی بھی مسلمانان برصغیر اپنی عزتوں، جانوں، مالوں کی قربانی مغربی جمہوریت کی خاطر نہ دیتے بلکہ یہ سب کچھ اللہ کے نام پہ ہی قربان کیا گیا۔ دسمبر 1944ء میں یومِ اقبال کی ایک تقریب میں قائداعظم نے علامہ  اقبال کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے یہ الفاظ کہے کہ

”میں دعا کرتا ہوں کہ ہم اپنے قومی شاعر کے پیش کردہ تصورات کے مطابق زندگی بسر کرسکیں تاکہ جب ہماری کامل الاقتدار مملکت قائم ہوجائے تو اس میں ہم ان مقاصد کو حاصل کرسکیں اور ان تصورات کو عملی جامہ پہنا سکیں”

علاوہ ازیں سات سالہ تحریک ِپاکستان 1940ء تا 1947ء کے دوران قائداعظم باربار اپنے اس عزم کا اعادہ کرتے رہے کہ پاکستان میں صرف اسلامی قوانین کے مطابق حکومت قائم کی جائے گی اور اس دوران ایک ہی نعرہ ہرجگہ گونجتا رہا۔ پاکستان کا مطلب کیا ۔۔۔”لا الہ الا اللہ”۔ مارچ1942ء میں علی گڑھ یونیورسٹی کے طلبہ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ

”پاکستان کیلئے مغربی جمہوریت اور سیاسی پارٹی سسٹم نقصان دِہ ہوگا۔

قائد اعظم قیام پاکستان سے قبل ہی علامہ اقبال اور اکابر علما کی اس پختہ رائے سے متفق تھے کہ مسلم اکثریتی علاقے  میں مغربی جمہوریت رائج نہیں ہوگی بلکہ یہاں پہ اسلامی نظام کے تحت اللہ تعالی  کی حکومت قائم کی جائے گی۔ دو قومی نظریہ کے پیش نظر  پاکستان میں ایسے نظام کو نافذ کیا جائے گا جو آزمودہ اور مکمل ہے۔انسانوں کو اس نظام میں عدل، امن، معیشت اور دوسری تمام سہولیات ملیں گی۔ ایک موقع پہ قائد اعظم  سے نظام سلطنت کے متعلق پوچھنے پہ  کہا۔

"ہمارا نظام حکومت تیرہ سو سال قبل ہمیں دے دیا گیاتھا”

آل انڈیا مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے 15 نومبر 1942 کے اجلاس میں قائد اعظم نے کہا تھا۔

"مجھ سے اکثر پوچھا جاتا ہے کہ پاکستان کا طرز حکومت کیا ہوگا؟۔۔۔
پاکستان کے طرز حکومت کا تعین کرنے والا میں کون ہوتا ہوں؟۔۔۔
مسلمانوں کا طرز حکومت آج سے تیرہ سو سال قبل قرآن کریم نے وضاحت کے ساتھ بیان کردیا تھا۔
 الحمدللہ قران مجید ہماری رہنمائی کیلئے موجود ہے اور قیامت تک موجود رہے گا”

 یعنی یہ جدوجہد صرف ایک اسلامی ریاست بنانےکیلئے کی جارہی تھی۔ ایک ہی نعرہ تھا جس نے مسلمانوں کو اکٹھا کیا ہوا تھا۔ پاکستان کا مطلب کیا  ۔۔۔ "لا الہ الا اللہ” اس نعرے کی گونج ایسی تھی کہ بیس لاکھ سے زائد مسلمان صرف اس نعرے پہ جان دے گئے اور شہادت کے منصب پہ فائز ہوگئے۔گدھوں اور کتوں نے بھی انسانی گوشت کھانا چھوڑ دیا۔ ہر جگہ مسلمانوں کی لاشیں ہی لاشیں بکھر گئیں۔ زمینیں، رشتہ داریاں، گھر بار سب چھوڑ کر ایک ایسے خطہ کی جانب ہجرت کی جو کہ اسلام کے نام پہ قائم ہوا۔ چوراسی ہزار لڑکیاں چھین لی گئیں،  جن کو بھارت سے فہرست کے ساتھ واپسی کا مطالبہ کیا گیا۔ جو خاندانوں کے خاندان ذبح ہوگئے۔ ان کا کوئی حساب نہیں۔ جنھوں نے اپنی بچیاں اپنے ہاتھوں سے ذبح کردیں، ان کا کوئی ریکارڈ نہیں۔ جنھوں نے یہ سمجھ لیا کہ وہ مر گئیں اور فہرست میں نام ہی نہ دیا۔ اس کا کوئی ریکارڈ نہیں۔ یہ تو وہ تھیں جن کا ریکارڈ مرتب ہوا اور واپسی کا مطالبہ کیا گیا۔ مسلمانوں کے خون سے  کفر نے ظلم کی داستان  لکھی تھی۔ یہ وہ قربانی کیا عملی مظاہرہ تھا جس سے پہلے تاریخ انسانی میں صرف ہجرت مدینہ کی ہی مثال ملتی ہے۔

” تمام کائنات کا اقتدار اعلی اور حکمرانی صرف اللہ ہی کیلئے ہے "

 پھر بھی آج کے نام نہاد دانشورکو سمجھ نہیں آتی۔ کہ یہ مسلمان کیوں کٹ مرے؟۔۔۔  پھر بھی آج کے موم بتی جلا کر افسوس کرنے والوں کو اور ایک منٹ کی خاموشی اختیار کرنے والوں کو یہ سمجھ نہیں آتی کہ یہ لوگ کیوں کٹ مرے؟۔۔۔ یہ قربانیاں "اسلامی جمہوریہ پاکستان کے قیام کیلئے نہیں بلکہ”مملکت اسلامیہ پاکستان” کے قیام کیلئے تھیں۔

تقسیم ہند خالصتا انگریزوں اور ہندوؤں کی چالاکیوں اور مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی کی بنیاد پہ کی گئی۔ مسلمانوں کے علاوہ کسی کے پاس اس خطے کو دوبارہ سے خوشحالی اور یگانگت کی جانب گامزن کرنے کا مکمل نظام وراثت میں موجود نہیں تھا۔ اسلامی نظام حکومت کے نفاذ کو روکنے کیلئے انگریزوں نے آزادی ایکٹ 1935ء میں کچھ ایسی شرائط رکھیں، جن سے پاکستان بننے کے بعد بھی اسلامی نظام حکومت کے نفاذ میں رکاوٹیں موجود رہیں۔ ایک طویل جدو جہد کے بعد، مسلمانان ہند ایک خطہ "پاکستان"۔۔۔ لااللہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے نام پہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔

صدیوں بعد کچھ ہندو الگ ریاست کا خواب بھارت کی شکل میں پورا کرنا چاہتے تھے اور وہ انگریزوں کی مدد سے اس میں کامیاب ہوگئے۔ مگر ہندوؤں کے پاس کوئی نظریہ یا حکومتی نظام تو تھا نہیں اور انھیں وہی انگریز کا بنایا ہوا نظام حکومت آگے چلانا پڑا اور اس طرح  بھارت بظاہر ایک لبرل جمہوری ملک بنا، جس میں ہندو، مسلم، سکھ اور عیسائی مذاہب کی اقوام کثرت سے پائی جاتی ہیں لیکن ہندو اکثریت میں ہونے کی وجہ سے آج بھی بھارت ایک ہندو ریاست ہے اور دوسرے مذاہب کے لوگوں پہ ریاستی ظلم و جبر کو روا رکھا جاتا ہے۔ اس خطے کو دو قومی نظریہ کی تائید میں تقسیم کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ خلافت کا تسلسل اس خطے سے بحال ہونے کا خدشہ بھی موجود تھا۔  اسلام کے احکامات کے مطابق پوری دنیا کو امن و عدل سے روزشناس کرنا امت مسلمہ کی ذمہ داری ہے اور پاکستان کے قیام کے بعد وہ ذمہ داری بطور مسلمان پاکستانی ادا کرنا ہوگی ۔ ابھی بھی ہماری بقاء اور حیات "مملکت اسلامیہ پاکستان” میں ہی ہے۔ ہمارے  ہی اسلاف نے جدوجہد اور قربانی دے کر ایک خطہ الگ کیا اب پھر جدوجہد کرکے "لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ” کا  نفاذ کرنا پڑے گا۔ آج بھی وہ خوش نصیب زندہ  ہیں  جو یہ نعرہ دل میں زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ ابھی تو وہ لوگ بھی زندہ ہیں جو کسی طرح سےجان بچا کر وطن عزیز پاکستان میں پہنچنے میں کامیاب ہوگئے اور جن کے سامنے ان کے اسلاف قربان ہوئے۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!