محکمہ انتخابات

کسی بھی طبقہ کے انتخابات ہوں، محکمہ انتخابات ہی ان انتخابات کو منعقد کروائے اور نوٹیفکیشن جاری کرے۔ محکمہ انتخابات کا مستقل عملہ ہو، جس کی تربیت ہی اس مقصد کیلئے ہو۔ کسی دوسرے محکمے سے سٹاف لینے کی اجازت نہ ہو۔ یہ سب اخراجات حکومت برداشت کررہی ہو۔ تشہیر اور جلسہ جلوس کی اجازت نہ ہو، نہ ریلیاں نکالی جاسکیں۔ اس کا ضابطہ پہلے ہی محکمہ انتخابات کے پاس موجود ہے جس پہ عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ اس طرح سے نہ ہی امن و امان کا مسئلہ درپیش ہوگا۔ نہ کوئی جانی نقصان کا اندیشہ ہوگا۔ اس طرح لازمی نہیں رہے گا کہ امن و امان کیلئے فوج یا رینجرز کو بلا کر ہی انتخابات کروائے جائیں۔ ضرورت پڑنے پہ مقامی پولیس بھی الیکشن کروانے کیلئے امن و امان و برقرار رکھ سکے گی۔

آج کل امیدوار اپنے فضائل و مناقب خود بیان کر کرکے سبز باغ دکھاتے ہیں۔ تشہیر پہ لاکھوں، کروڑوں روپیہ خرچ کیا جاتا ہے، جس کی مثال ہمیں کسی طرح سے اسلامی تاریخ سے نہیں ملتی۔ ایک متوسط طبقے کا امیدوار کامیاب ہونے کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ پھر اس پیسے کو سرمایہ کاری تصور کیا جاتا ہے۔ تاکہ منتخب ہوکر کرپشن کے ذریعے وصول کیا جاسکے۔ یہ سب ایک ناجائز اور غیرشرعی عمل ہے۔ اس لئے انتخابات کا طریقہ اتنا سادہ ہونا چاہئے کہ تشہیر، جلسے جلوسوں، دعوتوں اور ریلیوں پہ بے جا پیسہ کسی صورت بھی خرچ نہ ہو پائے۔ جب ایک شخص اہلیت رکھتا ہے اور لوگ اس شخص کو جانتے ہیں تو تشہیر، جلسے جلوس اور دعوتوں، ریلیوں کی ضرورت ہی کیوں پڑے؟۔۔۔

خلفاء راشدین کے دور میں وفاق، مدینہ منورہ میں حضرت عبدالرحمن بن عوف نے حضرت عثمان اور حضرت علی میں سے کسی ایک کے درمیان خلیفہ کے انتخاب کیلئے پہلے “Chief Election Commissioner” کے فرائض سرانجام دئیے۔ دونوں امیدواران کی جانب سے کسی قسم کی تقریر، جلسے جلوس، تشہیر یا دعوتوں یا ریلیوں کا اہتمام نہ ہوا۔ کسی نے بھی آپ دونوں کے فضائل بیان نہ کئے۔ جس میں دونوں کے تجویز و تائید کنندگان نے بہت ہی اعلی کردار ادا کیا۔ ایسے نام تجویز ہوئے کہ عوام کو رائے دینے میں کسی قسم کی دشواری نہ ہوئی۔

نادرا کے پاس موجود ریکارڈ میں ہر ایک شہری کا تعلیمی ریکارڈ، ملازم پیشہ ہے یا کاروباری یا کاشتکار، پیشہ کیا ہے، ذریعہ روزگار کیا ہے۔ کس تجربے کا حامل ہے، مستند طریقے سے اندراج کیا جائے۔ اس پروفائل میں بیت المال کا اہلکار ریکارڈ کا اندراج کرے۔ محکمہ مال کا اہلکار جو زمین اس فرد کے نام کرے وہ اپ ڈیٹ ہویا ریکارڈ کے اندراج کیلئے نادرا کو بھیج سکے یا پنجاب کی طرز پہ ایک مرکزی محکمہ تشکیل دے دیا جائے۔ ایسے ہی عدلیہ سےمقدمات اور فیصلوں کا ڈیٹا اپ ڈیٹ ہوکہ کس شہری نے کتنے مقدمات دائر کئے اور کس پہ کتنے مقدمات ہوئے، کن مقدمات میں گواہی دی یا ملوث تھا یا الزام تھا، مقدمات کا فیصلہ کیا ہوا۔ یا گواہ رہا۔ ان مقدمات کی نوعیت کیسی ہے؟۔۔۔ قانون شکنی میں ملوث تو نہیں ہے یا سزا یافتہ تو نہیں ہے۔ کتنے مقدمات ہوئے یا ان کا فیصلہ کیا ہوا۔ کتنے مقدمات کی کاروائی چل رہی ہے۔ زیادہ مقدمات میں ملوث ہونے کی صورت میں بھی اس امیدوار کو مقامی سطح پہ نمائندگی کیلئے بھی نامزد نہ کیا جائے۔ تجویز کنندگان اور تائید کنندگان اور امیدوار کا پولیس ریکارڈ کیسا ہے؟۔۔ہر امیدوار و تجویز و تائید کنندگان کے متعلق قانون نافذ کرنے والے اداروں /  حساس اداروں سے پتہ چلے کہ کہیں ملک دشمن کاروائیوں میں ملوث تو نہیں یا کسی ملک دشمن سے روابط میں تو نہیں۔ پولیس سے نادرا کا ریکارڈ اپ ڈیٹ ہورہا ہو کہ قانون نافذ کرنے والوں کے ریکارڈ کے مطابق کیسا شہری ہے؟۔۔۔  ٹیکس ، ڈرائیونگ لائسنس،  اسلحہ لائسنس کا ریکارڈ پہلے ہی نادرا کے پاس آ گیا ہے۔ تعلیمی اسناد کا اندراج نادرا کے پاس ہورہا ہو۔ محکمہ احتساب سے بھی تسلی بخش رپورٹ لی جائے۔ امیدوار و تجویز و تائید کنندگان کے  کردار کو ہر طرح سے پرکھا جائے۔ محکمہ انتخابات ان سب امور کا جائزہ لے رہا ہو۔ مجلس شوری یا مجلس خاص کیلئے یہ چھانٹی انتہائی سخت ہو۔ حساس ادارے اور محکمہ احتساب تفصیلی رپورٹ دیں۔ ہر طرح سے تسلی کی جائےحقوق اللہ یا حقوق العباد کی ادائیگی کی نوعیت کیا ہے۔ اس چھانٹ کے بعد ہی صالح اور قابل افراد کو مجلس شوری یا مجلس تشریعی کیلئے شامل ہونے کی منظوری دی جائے۔ کسی طرح کی رعایت نہ کی جائے بلکہ ہر سطح پہ چھانٹی کی جائے۔ بڑے عہدے کی سطح پہ زیادہ وسیع چھانٹی کی جائے۔ جو کہ تسلی بخش ہونے کی صورت میں ہی امیدوار انتخابات میں حصہ لے سکے۔ تمام اداروں سے رپورٹ کے بعد محکمہ انتخابات رپورٹ مرتب کرے جس پہ امیدوار کے کاغذات نامزدگی منظور یا منسوخ کرنے کا فیصلہ ہو۔ تاکہ پاکستان کی ریاست کو جب بھی ضرورت ہو بہترین افراد مہیا کرنے کیلئے فہرست پہلے سے موجود ہو سکے۔ سربراہ مملکت ہو یا  گورنر یا امیر یا کوئی بھی نمائندہ یا مجلس شوری کا رکن، تائید کنندہ ہو یا تجویز کنندہ ہر ایک اپنی صلاحیتوں اور قابلیتوں میں بہترین درجے پہ ہوں۔

کاغذات نامزدگی منظور ہوجانے کے بعد دو اعلی خصوصیات کے حامل افراد کو انتخاب کیلئے پیش کردیا جائے۔ان دو افراد میں سے جو نصف سے زیادہ ووٹ حاصل کرے وہ  منتخب ہوجائے۔ جن کو انتخاب میں حصہ نہ لینے دیا گیا ہو ان کے تجویز کنندگان محکمہ انتخابات سے پوچھ سکیں کہ کس بناء پہ ان کے امیدوار کو انتخاب میں حصہ نہیں لینے دیا گیا ہے یا وہ یہ یقین کرسکتے ہیں کہ وہ دو افراد ہی ان سب میں بہترین افراد تھے۔ ان نمائندگان کے انتخاب کے بعد ان پہ نظر رکھی جائے کہ وہ کیا ان ذمہ داریوں کو پورا کررہے ہیں۔ اگر غفلت کریں تو اصلاح کی کوشش کی جائے۔ اگر اصلاح نہ ہو تو قانون کے مطابق کاروائی کرتے ہوئے معزول کیا جائے۔

عام طور پر جو طریقہ اختیار کرلیا جاتا ہے، اس کے خلاف لوگ غور کرنے کو بھی تیار نہیں ہوتےاور ہر دوسرے طریقے کو ناقابل عمل قرار دیتے ہیں۔ جبکہ موجودہ دور میں بھی مختلف ممالک میں انتخابات کیلئے مختلف طریقے اختیار کئے جاتے ہیں۔ کہیں دو مرتبہ انتخابات کا طریقہ اپنایا جاتا ہے تاکہ نصف سے زیادہ ووٹ لینے والا ہی نمائندہ منتخب ہو سکے۔ کہیں قابل انتقال ووٹ کے مطابق انتخابات بھی ہوتے ہیں۔

خواتین کی نمائندہ  ،صرف خواتین کے ووٹوں کے ذریعے ہی منتخب ہوں۔ خواتین کی تنظیمیں جیسے اساتذہ، ڈاکٹرز، وکلاء، کاروباری خواتین وغیرہ سے خواتین کے نمائندوں  کا انتخاب کیا جائے۔ وہ اپنے مسائل ایوان بالا یا متعلقہ اداروں تک پہنچا سکیں اور ملک کی تعمیر و ترقی کیلئے رائے بھی دے سکیں۔ یہ نہیں کہ انھیں دفاتر یا ایوانان حکومت میں گھمایا جائے یا ذلیل کیا جائے۔ ان کے احترام، عزت اور وقار کو ہر سطح پہ ملحوظ رکھا جائے۔

جن علاقوں میں اقلیتی مذاہب کے پیروکاروں سکھ، عیسائی وغیرہ  کی مناسب تعداد موجود ہو وہاں اقلیتوں / غیرمسلموں کے نمائندے، ان کے انتخاب کے ذریعے ہی منتخب کئے جائیں۔ غیرمسلموں کی مقامی سطح پہ تعدادکو مدنظر رکھ کر ان کے نمائندگان کا انتخاب کیا جائے۔ جس کا تعین محکمہ انتخابات، نادرا کے ریکارڈ کو مدنظر رکھ کر کرے یا مجلس شوری ضابطہ مقرر کرے۔ اقلیتوں کے نمائندوں کو ضلع ناظم تک مطالبات پہنچانے کی رسائی ہو۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!