محصول، نائبہ، ٹیکس، راہداری

اسلام نے کچھ محصول لگانے کیلئے کچھ اصول وضع فرمائے ہیں۔ محلے کے چوکیداری کیلئے اگر ہر گھر پہ محصول لگایا جاتا ہے تو حکومت اس کو کسی اور استعمال میں نہیں لاسکتی۔ اس کے علاوہ رستوں کی مرمت اور حفاظت کیلئے "راہداری” جنہیں آج کل ٹول ٹیکس کہا جاتا ہے، بھی آمدن کا ایک ذریعہ ہے۔ مغلیہ دور میں صرف تاجروں کے سامان کی حفاظت کیلئے سپاہی بھی ساتھ ہوتے تھے، جس پر راہداری وصول کی جاتی تھی۔ تاکہ ان اہلکاروں کی تنخواہ، سفری اخراجات پورے کئے جاسکیں۔ یا پھر اپنے اسلحہ بردار محافظ رکھے جاسکتے تھے۔

آج کل بھی موٹر وے اور ہائی ویز پر پولیس سفر کرنے والوں کی  حفاظت اور گاڑیوں کی روانی کو منظم طریقے سے رواں رکھنے کیلئے گشت کررہی ہوتی ہیں اور حادثات کا تدارک کرنے کے اقدامات کررہی ہوتی ہے۔ ان پولیس والوں کی تنخواہ اور سڑکوں کی مرمت و دیگر اخراجات پورے کرنے کیلئے حکومت راہداری محصول وصول کرسکتی ہے۔ اس رقم سے سڑکوں کی مرمت وغیرہ کی جاتی ہے اور نئی رابطہ سڑکیں تعمیر بھی کی جاسکتی ہیں۔ لیکن راہداری سے ہونے والی آمدن سڑکوں کی تعمیر و مرمت اور ان سڑکوں کی حفاظت کیلئےہی خرچ کی جاسکتی ہے۔نان کمرشل گاڑیوں سے سڑکوں کو استعمال کرنے کا محصول وصول نہیں کرنا چاہئے۔ ذاتی استعمال کی سواریوں سے راہداری محصول لینے کی مثال کسی اسلامی ریاست سے نہیں ملتی۔ ریاست میں کسی بھی قسم کے محصول لگانے کی اجازت مجلس شوری سے لینا پڑتی ہے۔ اسلام پابند کرتا ہے کہ جو محصول حکومت جس مقصد کیلئے لگائے وہ محصول اسی مقصد پہ خرچ ہونا چاہئے۔

عہد نبویﷺ میں ریاست مدینہ کی ضرورتیں مطالبہ کرتی نظر آتی ہیں۔ حضرت عمرفاروق کے ابتدائی دورخلافت میں بیت المال تنگ دستی کا عذر پیش کرتا رہا۔ لیکن کوئی ٹیکس نہ لگایا گیا۔ اندرونی قرضے یعنی کسی مخیر فرد سے قرض لے لیا گیا۔ نبی کریمﷺ کے اشارے پہ مسلمانوں نے اپنے اموال میں سے حسب توفیق ریاست مدینہ کیلئے آپﷺ کی خدمت میں مال پیش کر دیا لیکن کوئی اضافی ٹیکس نہیں لگایا گیا۔ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا۔

"لا یدخل الجنۃ صاجب مکس
 مکس / ٹیکس لینے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا”
۔احمد

اسلام میں غیرشرعی محاصل لگانے کو ناپسند کیا گیا ہے۔ فقہ کی کتابوں میں ٹیکس سے متعلق "نائبہ” کی اصطلاح بھی ملتی ہے۔

” نائبہ، شرعی محاصل کے علاوہ جو محصول حکومت اسلامی لگائے، کی کفالت جائز ہے خواہ یہ محصول، حکومت کسی اپنے حق کی بناء پر لگائے۔ جیسے عام فائدے کی نہر اور محلہ کے چوکیدار کی تنخواہ جسے مصر میں "خفیر” کہتے ہیں جو محصول فوجی ضروریات یا جنگی فوجیوں کا فدیہ دینے کیلئے لگائے۔ ان وجوہات کی بناء پہ محصول لگانا اور عوام کا کفالت کرنا جائز ہیں”۔ ردالمختارشامی کتاب الزکوۃ

امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ نے نائبہ عائد کرنے کیلئے مندرجہ ذیل شرائط بیان فرمائی ہیں۔

  1. امام ایسا ہو کہ اس کی اطاعت واجب ہو۔
  2. ملک کے دفاع کیلئے واقعۃ حقیقی ضرورت ہو۔
  3. بیت المال میں مال نہ ہو۔
  4. نائبہ اتنا ہی لگایا جائے جو ضرورت پوری کرنے کیلئے کافی ہو، یہاں تک کہ بیت المال میں وسعت پیدا ہو جائے۔
  5. نائبہ لوگوں پر تقسیم میں انصاف سے کام لیا جائے، یہ نہ ہو کہ کسی پر بہت زیادہ عائد ہو اور اسی قسم کے دوسرے شخص پر کم ہو۔

زکوۃ، عشر و دیگر شرعی ذرائع آمدن کے علاوہ تمام ٹیکس حکومت کی ضرورتوں کے ساتھ مشروط ہیں۔ مجلس شوری، علماء اکرام نے اس قسم کے ٹیکس لگانے کی ہمیشہ ہمت شکنی کی اور انتہائی ضرورت کے وقت کڑی شرائط کے ساتھ ہی اجازت دی۔ جب تاتاریوں نے حملہ کیا تو سلطان کو جنگ کے اخراجات کیلئے ضرورت پڑی تو انھوں نے  سوچا تاجروں سے کچھ قرض لیں اور ٹیکس لگائیں۔ اس کےلئے انھوں نے علماء کا اجتماع بلایا۔ اس وقت علماء کے سرخیل حضرت شیخ عزالدین بن عبدالسلام رحمۃ اللہ علیہ نے سلطان کو مخاطب ہوکر فرمایا۔

"جب دشمن مسلمان ملک پہ حملہ آور ہو جائے تو تمام مسلمانوں پر ان سے لڑنا واجب ہوجاتا ہے اور آپ کیلئے جائز ہے رعیت سے اتنا مال وصول کریں جس کے ذریعے آپ جہاد پر قادر ہوسکیں۔ لیکن شرط یہ ہے کہ بیت المال میں کچھ باقی نہ ہو اور آپ اپنے سونا چڑھے ہوئے پٹکوں اور نفیس آلات کو فروخت کریں اور لشکر کا ہر سپاہی اپنی سواری اور پانے ہتھیار پر اکتفاء کرے اور وہ دولت عام لوگوں کے برابر ہوجائیں۔ لیکن اگر لشکر کے لوگوں کے پاس اعلی درجے کا سازوسامان موجود ہو اور پھر بھی وہ رعیت سے مال کا مطالبہ کریں تو اس کی اجازت نہیں ہے”

اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ شرعی محاصل کے علاوہ نائبہ یا کسی قسم کا قرض لینے کیلئے اسلامی حکومت کو مجلس شوری سے اجازت لینا ضروری ہوتا ہے۔ شرعی طور پر لازم ہے کہ ضرورت ختم ہونے پہ ٹیکس کو ختم کردیا جائے۔

"حکومت کا کام صرف محصول وصول کرنا نہیں ہوتا بلکہ عوام کے جان و مال کی حفاظت اور سہولتیں فراہم کرنا بھی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ جن کی فراہمی کے وعدہ پہ عوام سے محصول لیا جاتا ہے۔ ورنہ حکومت محصول وصول کرنے کے اخلاقی جواز سے محروم ہو جائے گی”

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!