مجلس شوری کی تشکیل

آج سب سے زیادہ سوال مجلس شوری کی تشکیل کے طریقہ کار پہ ہوتے ہیں کہ اگر عوامی نمائندگان مجلس شوری کے رکن نہیں ہوں گے تو امرائے سلطنت کا انتخاب کیسے ہوگا؟۔۔۔ مجلس شوری کے اراکین کی اہلیت کیلئے لازمی ہے کہ وہ صادق و امین ہونے کے ساتھ ساتھ صاحب علم و دانش، صاحب الرائے اور  اپنے شعبے میں ماہر ہوں اور امور ریاست چلانے کے علوم یعنی سیاست سے واقف ہو تاکہ دستوری سازی و قانون سازی میں اپنا کردار ادا کرسکے۔ فقہ اکبر میں ہے کہ

"علماء اور صاحبان عدل و رائے کے اختیار سے خلافت منعقد ہوتی ہے”

مجلس شوری کی تشکیل اور انتخاب کیسے ہوگا؟۔۔۔  اصلاح المسلمین صفحہ ۵۳۶پہ مولانا اشرف علی تھانوی فرماتے ہیں کہ

” حضور  ﷺ میں دو شانیں تھیں، "شان نبوت اور شان سلطنت”
 اس کے بعد خلفائے راشدین بھی دونوں کے جامع تھے۔  مگر اب یہ دونوں شانیں دو گروہوں پر تقسیم ہوگئیں۔
شان نبوت کے مظہر "علماء” ہیں اور شان سلطنت کے مظہر "سلاطین اسلام”
اب اگر یہ سلاطین علماء سے استغناء کرتے ہیں تو حضور ﷺ کی ایک شان سے اعراض لازم آتا ہے اور اگر علماء سلاطین کی مخالفت کرتے ہیں تو اس سے بھی حضور ﷺ ہی کی ایک شان سے اعراض لازم آتا ہے۔

اب صورت دونوں کے جمع کرنے کی یہ ہے کہ سلاطین سے تو میں یہ کہتا ہوں کہ وہ اپنی حدود میں کوئی حکم اس وقت تک نافذ نہ کریں جب تک علماء حق سے استفتاء نہ کرلیں اور علماء سے یہ کہتاہوں کہ وہ نفاذ کے بعد اس پر کاربند ہوں۔
 اگر یہ دونوں شانیں جو حضور
ﷺ ہی کی ہیں،  اس طرح جمع ہوجائیں  تو مسلمانوں کی بہبود اور فلاح کی  صورت نکل آئے اور ان کی ڈوبتی ہوئی کشتی ساحل پر جالگے، ورنہ اللہ ہی حافظ ہے”

اسلامی ریاست میں امور سلطنت کا دین اسلام کی مقرر کردہ حدود و قیود کے مطابق ہونا ضروری ہے۔

"مسلمانوں کی سیاسی قیادت علماء دین کے ہاتھوں میں ہونا ضروری ہے تاکہ تمام اقدامات قرآن و سنت کے مطابق ہی رہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی سیاست، دینی سیاست ہوتی ہے اور سیاسی اقدامات کی دینی حیثیت سمجھنا  اور کتاب و سنت کی روشنی میں ان کے جواز و عدم جواز  کا تعین کرنا ماہر فن ہونے کی حیثیت سے علمائے دین ہی کا کام ہے۔ انھیں سیاسی قیادت کے منصب سے ہٹانے کے معنی یہ ہیں کہ سیاست، اسلامی کی بجائے سراسر غیر اسلامی ہوجائے  اور خلافت صدیقی و فاروقی کے بجائے امریکی یا روسی طرز کی کوئی جابرانہ سلطنت قائم ہوجائے”۔ اسلام کا سیاسی نظام صفحہ ۲۷۳

اسلامی نظام حکومت کو اصل یعنی قرآن و سنت پہ قائم رکھنے کیلئے مجلس شوری میں علماء کی موجودگی ضروری ہے اور لازم ہے کہ ان کی توثیق کے بغیر کوئی قانون سازی نہ کی جائے۔

"علماء کی تائید کی دو صورتیں ہوسکتی ہیں اور دونوں ارباب بست و کشاد کے انتخاب کو دستوری اور مفید بناسکتی ہیں۔
 مندرجہ بالا اوصاف کے حامل علماء کا خود اس انتخاب میں شریک ہونا تائید کی ایک شکل ہے۔ دوسری شکل یہ بھی ہوسکتی ہے کہ یہ علماء ان ارباب و بست و کشاد کے اقدام کو شرعی نقطہء نظر سے جائز اور ان کے انتخاب کو قرآن و سنت کی روشنی میں مستحسن قرار دیں۔ اس کی معنی یہ ہوئے کہ اس قسم کے ارباب حل و عقد کو علماء سے استصواب کرنااور اس کے مشورہ پر عمل کرنا ضروری ہے۔ یہ حکم صرف انتخاب خلیفہ ہی کے مسئلہ کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ ہر سیاسی اقدام سے تعلق رکھتا ہے”
۔ اسلام کا سیاسی نظام صفحہ ۲۷۴

مجلس شوری میں علماء کی نمائندگی اور ان کی تائید لازمی ہے۔   ہر سطح پہ علماء کی توثیق کسی بھی قانون کیلئے لازم و ملزوم ہے تاکہ کوئی قانون قرآن و سنت سے متصادم نہ ہوسکے۔ جیسا کہ ماہر معیشت کی معاشی پالیسی کو علماء قرآن و سنت کے قوانین کی روشنی میں دیکھیں گے۔ اس معیشت کی پالیسی کے دوسرے شعبوں پہ کیا اثرات ہوسکتے ہیں، اس کا جائزہ باقی ماہرین بھی لیں گے اور رائے دیں گے۔ ماہر سیاسیات اپنی رائے دے گا اور بہتری کی نشاندہی کرسکے گااور ماہر امور خارجہ اپنی رائے دے گا۔ ان تمام امور کو مدنظر رکھ کر ایک بہتر ضابطہ مرتب کیا جاسکے گا۔اس سب کا مقصد حکومت کو کام کرنے کا بہترین طریقہ کار یا بہترین ضابطہ دینا ہوگا۔ یہ بھی ممکن نہ ہوسکے کہ مجلس شوری کے اکثریتی  اراکین تو متفق ہوں لیکن علماء متفق نہ ہوں اور قانون پاس ہوجائے۔ علماء کی توثیق لازمی ہوگی، تاکہ ہمارا کوئی قدم بھی قرآن و سنت سے ہٹ کر نہ ہو۔

"اس نظام کو چلانے کیلئے ان ماہرین فن اور عوامی نمائندوں کو "سربراہ مملکت”  کا انتخاب کرنا ہے۔
 اس نظام سے گہری واقفیت اور اس کا عملی تجربہ رکھنے والے اشخاص ہی صحیح طور پر اور آسانی  کے ساتھ ایسے شخص کا انتخاب کرسکتے ہیں جو اس نظام سے مناسبت اور اس کو چلانے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ وہ اشخاص جو اس نظام سے گہری واقفیت یا اس کا عملی تجربہ نہیں رکھتے، اس کو صحیح طور پر اور آسانی سے کبھی سرانجام نہیں دے سکتے”
۔اسلام کا سیاسی نظام صفحہ ۱۳۵

قانون سازی کیلئے علم دین کی طرح دیگر فنون کا علم بھی ضروری ہے۔ اس لئے مجلس شوری میں دونوں اوصاف کے افراد کو جمع کر لیا جائے اور مجلس شوری میں صاحب الرائے علمائے دین بھی ہوں۔

"مجلس شور ی میں حسب حاجت مختلف علوم یا فنون کے ماہرین مثلا  ماہرین معاشیات یا سائنس اور ٹیکنالوجی
 کے ماہرین انتظامیات و سیاسیات کا تجربہ رکھنے والے افراد کو بھی شامل کرنا چاہئے”
۔ اسلام کا سیاسی نظام صفحہ ۴۱۲

جیسے ہم بہترین چیز کے حصول کیلئے ایسی جگہ جائیں گے جہاں اس چیز کی بہتات ہو۔ ایسے ہی ہم مجلس شوری کو تشکیل دینے کیلئے ماہرین کے پاس ہی جائیں گے۔

  • پاکستان انجینرنگ کونسل مختلف شعبوں کیلئے بہترین انجینئرز منتخب کرے، جن میں سول و آرکیٹکچرل انجینئر، مکینیکل و آٹو موٹو انجینئر، انڈسٹریل انجینئر، الیکٹریکل و الیکٹرونکس انجینئر، کیمیکل انجینئر ، ماحولیاتی انجینئر،  معدنیاتی انجینئر، نیوکلیئر انجینئر، بحری انجینئر، آئی ٹی انجینئر، زرعی ماہر،  ہوابازی و خلائی  انجینئر جیسے اہم انجینئرنگ کے شعبوں کے نمائندہ ہوں گے۔ ان متعلقہ شعبوں کے کم و بیش بارہ ماہرین منتخب ہوں۔
  • طب کے شعبہ کے ماہرین نمائندہ دیں اور ادویات سازی کے ماہرین اپنا نمائندہ دیں۔ طبی سہولیات اور ادویات سازی  کیلئے الگ الگ ماہرین ہوں۔
  • صحافی حضرات ذرائع ابلاغ کا نمائندہ دیں۔
  • بار کونسلز، قانون دانوں میں سے بھی مختلف شعبوں کے نمائندگان ہوں۔
  • عسکری ماہرین بھی ہو، جو کہ دفاع کے امور میں نمائندگی کرسکیں۔
  • امن و امان کی صورتحال کو بہتر رکھنے کیلئے داخلی امور کے ماہرین کے نمائندگان بھی  ہوں۔
  • جغرافیہ  / تاریخ کے ماہرین کےنمائندہ ہوں۔
  • ماہرین سیاسیات اور  امور خارجہ کے ماہرین اپنے نمائندگان  دیں۔ صوبائی مجلس منتظمہ میں خارجہ امور کا نمائندہ نہیں ہوگا۔
  • تعلیمی ماہرین اپنے نمائندے دیں۔
  • ماہرین  صنعت و حرفت  اپنا نمائندے دیں۔
  • معیشت دان اپنا نمائندے دیں۔
  • ہرصوبے کا ایک یا ایک سے زیادہ نمائندہ وفاقی مجلس شوری کا رکن ہو۔ جن کو صوبائی مجلس منتظمہ تجویز کریں۔ تاکہ تمام صوبوں کو مساوی نمائندگی وفاقی مجلس شوری میں ملے۔ جیسے آج کل ایوان بالا میں صوبوں کی نمائندگی ہوتی ہے۔ صوبائی نمائندہ بین الصوبائی روابط کو بہتر کرنےاور بین الصوبائی منصوبوں میں معاونت کرنے کیلئے ہو۔ ے۔ بوقت ضرورت صوبے کے گورنر کی تعیناتی میں سربراہ مملکت کو مشورہ دے سکیں۔ علاقوں کے مسائل بھی اجاگر کرسکیں۔
  • وفاق یعنی دارالحکومت کا عوامی نمائندہ بھی مجلس شوری کا رکن ہو۔
  • امور ریاست کو اسلامی احکامات کے مطابق چلانے کیلئے مجلس شوری میں علماء کی موجودگی بہت ضروری ہے تاکہ قرآن و سنت کے مطابق قانون سازی ہوسکے۔ مجلس شوری میں مختلف شعبوں کے لحاظ سے ماہرفقہاء   کی نمائندگی، اسلامی نظریاتی کونسل کے ذریعے سے ہو۔ صوبائی مجلس منتظمہ میں بھی علماء کے نمائندے موجود ہوں۔ علماء  کا چناؤ بھی  تعلیمی قابلیت اور ان کی سابق کارکردگی ، علمی مہارت ، تدبر، تجربہ، صالحیت کو مدنظر رکھ کر کیا جائے۔ ان کے شعبوں کی تعداد اور علماء کی تعداد کا تعین اسلامی نظریاتی کونسل  کی سفارش  پہ کیا جائےاور صاحب الرائے، مدبر علماء کو مجالس  میں شامل کیا جائے۔
  • ہر ضلع سے ایک نمائندہ صوبائی مجلس منتظمہ میں شامل کیا جائے۔ تاکہ مقامی مسائل کی صوبائی سطح پہ نشاندہی ہوسکے۔ ان عوامی نمائندگان کا مقصد اپنے علاقے کے متعلق ہر طرح کے مسائل کی نشاندہی کرنا ہو۔
  • وفاقی مجلس شوری اور صوبائی مجالس منتظمہ میں خواتین ماہر تعلیم، خواتین ماہر طب، کاروباری خواتین، خواتین قانون دان  و عالم فاضلہ خواتین و دیگر خواتین کے شعبوں سے خواتین کی رائے دہندگی کے ذریعے ہی خواتین نمائندگان کو منتخب کیا جائے۔ مجلس شوری اور مجالس منتظمہ میں خواتین کے ایوان بھی موجود ہوں۔

اس کے علاوہ بھی جن شعبہ جات کی اہمیت ہو اور مجالس میں نمائندگی کی ضرورت ہو تو ان کی نمائندگی بھی لے لی جائے۔ الغرض تمام ریاستی شعبہ جات کیلئے متعلقہ شعبوں سے ہی نمائندے منتخب ہو کر آئیں۔ یہ سب ماہرین اپنے اپنے شعبوں کے ماہر ہونے کے ساتھ ساتھ ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کرنے کی اہلیت رکھتے ہوں گے اور ان نمائندگان کو اپنے شعبے کے ماہرین کی تجاویز بھی موصول ہو رہی ہوں گی اور ماہرانہ رائے اور سفارشات بھی مل رہی ہوں گی۔ امرائے سلطنت، یہ افراد اپنے شعبے میں ماہر اور اسلام پہ عمل کرنے والے ہوں گے۔ نظام حکومت و سیاست کو ماہرین ہی سمجھ سکتے ہیں، یہ عامۃ الناس کا کام نہیں۔ شعبوں کی اہمیت اور ضرورت کے پیش نظر مجلس شوری کو تشکیل دیا جائے۔

"مہارت  اور صالحیت کے اصول کے تحت مجلس شوری کا انتخاب کیا جائے”

 مجلس شوری میں "ماہرین و عوامی نمائندگان کا ایوان” اور "علماء کا ایوان” اور "خواتین کا ایوان” ہوگا۔ اس طرح کی نمائندگی اور ماہرانہ رائے، حکومت سازی اور قانون سازی کیلئے انتہائی  کارگر ثابت ہوگی۔ ان نمائندگان سے  ترقی کا ایک نیا باب شروع ہوگا اور ہم  ایک ترقی یافتہ ملک کے طور پر افق دنیا  پہ ابھریں گے۔

مجلس شوری ماہرین فن اور اہل حل و عقد کی جماعت ہوتی ہے۔ مجلس شوری کی تعداد شرعی طور پرمقرر نہیں ہے۔ ریاست مدینہ کی مجلس شوری میں علماء، فقہاء، مختلف شعبوں کے ماہرین اور مختلف قبائل و علاقوں کے سردار بھی ہوتے تھے۔ یہ مجلس شوری ایسی نہ ہوتی تھی جیسی آج کل ہوتی ہیں کہ کسی علاقے کا عوامی نمائندہ حکومتی اختیارات کا حامل ہوتا ہے لیکن عوام میں اس کی پزیرائی برائے نام ہوتی ہے اور کم لوگ ہی اس کی بات مانتے ہیں یا اس کی بات کی صرف اس کے عہدے کی وجہ سے اہمیت ہوتی ہے۔ بلکہ عرب کے قبائل یا آبادیوں کے سردار بہت بااثر اور اہم ہوتے تھے۔ ان کے حکم پہ اہل علاقہ یا قبیلہ کے افراد جان لوٹا دیتے تھے۔ ان کی صلح کو صلح سمجھا جاتا تھا۔ ان کی دشمنی کو دشمنی سمجھا جاتا تھا۔ ان لوگوں میں فیصلہ کرنے کی صلاحیت ہوتی تھی اور لوگ ان کی تائید بھی کرتے تھے۔

"جیسے قاضی حضرات کی جماعت سے ہی عدلیہ کا ادارہ تشکیل پا سکتا ہے۔ جیسے عسکری ماہرین سے
 ہی فوج کا محکمہ تشکیل پا سکتا ہے۔ ایسے ہی دستور سازی  اور حکومت سازی کیلئے  اعلی تعلیم یافتہ، تجربہ کار اور
ماہرین أمور ریاست و حکومت  کے ذریعے ہی مجلس شوری تشکیل پاتی ہے”

اسلامی حکومت کے انتخاب کا طریقہ بہت اعلی و ارفع ہے۔ اسلامی حکومت کا مقصد اللہ کی خوشنودی ہوتا ہے۔ اسلامی حکومت اللہ کو جوابدہ ہوتی ہے۔ اس لئے اس کا معیار اور کارکردگی بہت اعلی ہوتی ہے۔ اسلامی حکومت بھی عوام میں سے ہی تشکیل پاتی ہے لیکن یہ نمائندگان ماہرین ہوتے ہیں۔اسلامی نظام میں حکومت اور رعایا کے تعلقات بہت مضبوط اور مستحکم بھی ہوتے ہیں۔ مجلس شوری کے اراکین، امرائے سلطنت، یہ ماہرین فن صرف عوام سے تعلق ہی نہیں رکھتے بلکہ عوام میں سے ہی ہوتے ہیں لیکن ان کو عوام پہ فوقیت حاصل ہوتی ہے، جو کہ محض ان کی اہلیت، صلاحیت، صالحیت، علم و قابلیت کی بناء پہ ہوتی ہے، نہ کہ جاہ و اقتدار یا مال و دولت کی بناء پر۔

اہل شوری اس نظام سے گہری واقفیت رکھتے ہیں۔ جیسا کہ علاج کیلئے طبیب کی رائے کا اعتبار ہے۔ تعمیرات کیلئے انجینئر کی رائے معتبر ہوگی۔ اسی طرح ایسے ماہرین فن جو کہ امور ریاست و سیاست کو سمجھتے ہوں، ان کے غور و تدبر، فکر اور تجویز سے ہی سربراہ مملکت کی تقرری ممکن ہوسکے گی۔ کیونکہ

"اصول ہے کہ صاحبان علم و فضل تقلید کے عادی نہیں ہوتے”

مجلس شوری میں نئے قابل افراد کی شمولیت کا عمل انتخابات کے ذریعے کارکردگی کی بناء پہ چلتا رہے۔ محکمہ انتخابات بتدریج انتخابات کے ذریعے یہ افراد منتخب کروائے اور حکومتی مشینری کا حصہ بنارہا ہو۔ کم کارکردگی والے حضرات کو بصد شکریہ ریٹائرڈ کردیا جائے اور نئے ممبران کو منتخب کرلیا جائے۔ مجالس کے ممبران کی حاضری اور موجودگی لازمی ہو۔ مسلسل غیر حاضری خواہ علالت کی وجہ سے ہو، مستعفی ہوجائیں یا معزول کردیا جائے۔ کیونکہ ہر ایک نمائندہ کی ضرورت برقرار رہتی ہے۔ نمائندگی کیلئے مدت کی حد کی کوئی مثال ہمیں تاریخ اسلامی سے نہیں ملتی۔

چونکہ اہل شوری پہلے ہی صاحب عہدہ ہوتے ہیں، اس لئے مجلس شوری  میں اقتدار کا لالچ یا غرض نہیں ہوتی کیونکہ وہ دستور سازی، قانون سازی کیلئے منتخب ہوتے ہیں۔ وہ خالصتا ریاست کی فلاح کیلئے کام کرتے ہیں۔   ان کا مفادریاست سے ہوتا ہے۔سربراہ مملکت یا کوئی اور ان کے کسی کام نہیں آسکتا۔ نہ انھیں عہدہ سے ہٹا سکتا ہے، نہ ان کے اختیارات میں اضافہ کرسکتا ہے۔ ان کے اختیارات اسلامی قانون میں پہلے ہی بہت واضح ہیں۔ ایسے ہی ضلع کا نمائندہ جو صوبائی مجلس منتظمہ کا رکن ہوگا وہ بھی گورنر یا سربراہ مملکت کیلئے نہیں بلکہ ریاست کے مفاد کیلئے صوبائی مجلس منتظمہ میں موجود ہوگا۔ ایسے ہی صوبائی نمائندہ وفاقی مجلس شوری میں موجود ہوگا۔ یہ سب عوامی نمائندے ہوں گےلیکن  انھیں کوئی لالچ نہیں ہوگا کیونکہ انھیں اپنے علاقے کیلئے ترقیاتی فنڈ نہیں ملیں گے۔ ان کے پاس عہدہ پہلے سے ہی موجود ہے جس کا احساس ذمہ داری ہونا ہی کافی ہے۔ ان کیلئے ریاست کی فلاح ہی مقصود ہوگی۔ صوبائی مجلس منتظمہ میں ماہرین فن اور علماء بھی موجود ہوں گے۔

مجلس شوری اب ایسے افراد پہ مشتمل ہو جائے گی جو کہ حکومتی معاملات کی نزاکت کو نہ صرف جانتے ہیں بلکہ  حکومتی معاملات کیلئے ممد و معاون بھی  ہیں۔ ہر شخص مجلس شوری میں صاحب رائے ہے۔ ان مجالس شوری  میں حزب اختلاف اور حزب اقتدار والا معاملہ نہیں ہوگا بلکہ ایک ہی مقصد پیش نظر ہوگا کہ کس طرح قرآن و سنت کی مقرر کردہ حدود کے مطابق امور ریاست کو چلایا جائے۔

تمام جماعتیں، یونین یاگروپ، سیاسی یا غیر سیاسی یا مذہبی جماعتیں ختم کردی جائیں، تاکہ کوئی کسی بھی سطح پہ ذاتی یا جماعتی مفاد کو حاصل نہ کرسکے۔ سب پاکستانی بن کر انسانوں کی خدمت کا فرض سرانجام دیں۔ جیسا کہ وکلاء حضرات میں سیاسی جماعتیں نہیں ہوتی۔ وہ تجربے، انتظامی صلاحیتوں اور تدبر کی بناء پہ اپنے  نمائندوں کو چنتے ہیں۔  ایسے ہی ایوان صنعت و تجارت میں بھی زیادہ ماہر، تجربہ کار اور پڑھے لکھے صنعت کار ہی آگے بڑھ کر ایوان صنعت و تجارت کی بہتری کیلئے کام کرتے ہیں۔ مقامی سطح سے لیکر تمام شعبوں میں حکومتی معاملات کو چلانے کیلئے بہترین ماہرین کو آگے لایا جائے۔ مقامی سطح پہ بھی ترقیاتی کاموں کو بہتر کرنے کیلئے اور مختلف شعبوں جیسے انجینرنگ کونسل، بار کونسل، میڈیکل ایسوسی ایشن، صحافتی تنظیم وغیرہ کے ذریعے صاحب رائےاور  دانش مند افراد کو آگے لایا جائے۔ یہ کونسلیں اپنے شعبوں میں تحقیق اور ترقی کے علاوہ حکومت کواپنے نمائندوں کے ذریعے بہتر پالیسیاں بنا کردیں اور ناقص پالیسیوں کی اصلاح  کیلئے تجاویز دیں۔ ہر سطح پہ ماہر، تجربہ کاراور صالح،  صادق و امین ممبران کو انتخاب کیلئے پیش کرنا محکمہ انتخابات کی ذمہ داری ہو۔ بوقت ضرورت حکومت مجلس شوری میں موجود رکن کے ذریعے کونسل سے کوئی تحقیقی کام  لے سکتی ہے یا بہترین ماہر کی دستیابی یقینی ہوسکتی ہے یا کسی شعبے میں تحقیق کیلئے مجلس شوری کے رکن کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی جاسکتی ہے۔

امریکہ میں قانونی ماہرین  کی اکثریت پارلیمنٹ میں ہوتی ہے۔ جس کے اثرات ان کے امور ریاست میں نمایاں ہیں۔ امریکہ پوری دنیا کو مختلف قوانین اور عسکری طاقت کے ذریعے چلاتا ہے۔ جبکہ چین میں مختلف شعبوں کے  ماہرین کی تعداد پارلیمنٹ میں زیادہ ہوتی ہے اور اس کے اثرات کی وجہ سے چین صنعتی اعتبار سے بہت آگے نکل چکا ہے۔ جیسے ایک فوج کے افسر کی سوچ کا محور عسکری ہی ہوگا۔ ایک طبیب /ڈاکٹر کی سوچ علم الطب میں ہی گھوم رہی ہوگی۔ ایسے ہی ایک انجینئر جہاں کہیں بھی جائے گا، وہ اپنے شعبوں میں ہی دلچسپی لے گا۔ اگر ہم مجلس شوری  میں انجینئرز، قانون دان، جغرافیائی ماہرین، سیاسیات، صنعت کار، کاشتکار، قانون دان لیں گے تو یقینا وہ شوری میں جتنی بھی بحث کریں گے وہ ریاست  کے شعبوں کی ترقی و ترویج کیلئے ہوگی۔ یہی نظام حکومت کا مطلوب و مقصود ہے، نہ کہ عوامی خواہشات کی نمائندگی۔ صالح اور قابل افراد کو حکومت سازی اور قانون سازی کیلئے اکٹھا کرنا ہی شورائی نظام کا مقصد ہے۔ حکومت کو چلنے کیلئے طریقہ کاریعنی محکموں کی حدود و قیود اور اختیارات کا تعین، دستور سازی کرنا،   مجلس شوری کی ذمہ دار ی ہے۔ امور ریاست پہ نظر رکھنا اور وزراء سے ان کے بابت استفسار کرنا مجلس شوری کی ذمہ داری ہے لیکن انتظامی أمور کو چلانا مجالس کی ذمہ داری نہیں ہے۔

فوج میں جب بھی بھرتیاں ہوتی ہیں تو بھرتی مراکزپر ہزاروں کی تعداد میں نوجوان آتے ہیں۔ پہلے مرحلے پر ان کے کاغذات کی کاپی جمع کی جاتی ہے اور ان کو فزیکل ٹیسٹ کی تاریخ دے دی جاتی ہے۔  اس دوران ان کے کاغذات کی جانچ پڑتال کی جاتی ہے۔پھر مختلف جسمانی ٹیسٹ ہوتے ہیں۔ اس کے بعد تحریری ٹیسٹ ہوتا ہے ۔ اس کے بعد طبی معائنہ ہوتا ہے۔ اب پاس ہونے والوں کو ایک تاریخ دی جاتی ہےکہ آکر لسٹ میں اپنا نام چیک کرلیں۔ متعلقہ تھانے سے لیکر جائے پیدائش، تعلیم تک کی معلومات ایک فائل کی صورت میں متعلقہ اداروں کے پاس ہوتی ہیں۔ پھر ان کی تربیت اور تعلیم کا ایک طویل سلسلہ ہے، جس کے بعد ہی کوئی فوجی سپہ سالار بن سکتا ہے۔  پولیس کا سربراہ یا فوج کا جنرل بننے کیلئے کتنے ادوار اور تجربات سے گزر کر ایک فرد انتظامی سطح پہ آتا ہے۔

ایسے ہی وکلاء حضرات، قانون کی سند حاصل کرنے کے بعد کسی تجربہ کار وکیل کے شاگرد کے طور پر کام کرتے ہیں اور مقامی بار کے ممبر بنتے ہیں۔ پھر دس سال اس بار کے طریقہ کار کودیکھتے ہیں۔ پھر کہیں انتخابات لڑنے کے اہل ہوتے ہیں۔ پھر صوبائی بار کونسل یا پاکستان بار کونسل موجود ہیں۔ جو ان تمام طریقہ کار کو دیکھ رہی ہوتی ہیں۔پھر کچھ افراد پنجاب بار کونسل کے انتخابات میں حصہ لیتے ہیں اور کچھ پاکستان بار کونسل کے انتخابات میں حصہ لے سکتے ہیں۔  آپ اندازہ کریں کہ پاکستان بار کونسل کے سربراہ منتخب ہونے کیلئے ایک قانون دان نے کتنا وقت لگایا۔ کتنی تعلیم حاصل کی اور کتنا تجربہ حاصل کرنے کے بعد ہی وہ کسی مقام پہ پہنچتے ہیں اور پھر قانون دانوں کے نام صوبائی عدالتوں کے قاضی کی فہرست میں شامل ہوتے ہیں اور پھر مزید چھان پھٹک کے بعد کچھ قانون دان قاضی بن پاتے ہیں اور پھر ترقی کرکے عدالت عالیہ میں تعینات ہوتے ہیں اور ترقی کرکے کوئی کوئی چیف جسٹس بن پاتا ہے۔ اب ایسے بندے کے پاس تجربہ، علم اور مہارت بھی ہے۔

انتظامی امور کی سرانجامی کیلئے افراد کاانتخاب کرنے کیلئے پبلک سروس کمیشن کا بہت بڑا امتحان ہے۔ جس میں پاکستان کے تمام اداروں میں ذمہ داریوں کیلئے اہل افراد کو چنا جاتا ہے۔ جو کہ مختلف سطحوں پہ تعینات ہوکر ملک و قوم کی خدمت کرتے ہیں۔ ایسے ہی سول و سیشن عدالتوں میں قاضی حضرات کی تعیناتی کیلئے امتحان بھی بہت مشکل  ہوتا ہے۔ اب اپنے شعبے میں مہارت جو اس شعبے کے اعلی افسر کے پاس ہوسکتی ہے وہ کسی بھی عام آدمی کے پاس نہیں ہوسکتی۔

"صرف عوامی نمائندگان ریاست کی باگ دوڑ کیسے چلا سکتے ہیں؟۔۔۔ یا قانون سازی کرسکتے ہیں؟۔۔۔”

دنیا میں کہیں بھی آرمی چیف اتنا مضبوط نہیں ہے کہ اپنی جگہ اپنے بیٹے کو جنرل بنا سکے۔ جنرل یا بریگیڈئیر تو کیا اسے میجر یا کرنل بھی نہیں لگا سکتا۔ چیف کا بیٹا بھی انہی مراحل سے گزر کر ترقی پائے گا، جن مراحل سے دوسرے گزرتے ہی۔ مرحلہ بہ مرحلہ تمام طریقہ کار مکمل کیا جاتا ہے۔ پھر بھی یہ حتمی نہیں کہ وہ کسی دن اس ادارے کی باگ دوڑ سنبھال سکے گا۔ کوئی چیف جسٹس بھی اپنے بیٹے کو جسٹس نہیں لگا سکتا۔کوئی سیکرٹری بھی اپنے بیٹے کو سیکرٹری نہیں لگا سکتا۔ اس لئے مجلس شوری کیلئےبھی  کوئی شخص بغیر قواعد و ضوابط کے کیسے منتخب ہوسکتاہے۔ مجالس کیلئے تجربہ ، اعلی تعلیم، صلاحیتوں اور صالحیت کی ضرورت ہے۔ جس کیلئے ایک مضبوط طریقہ انتخاب اور محکمہ انتخابات چاہئے۔ جیسے دوسرے اداروں میں مرحلہ وارافسران شامل ہورہے ہوتے ہیں ایسے ہی مجلس شوری میں بھی مرحلہ وار، حسب ضرورت افراد شامل ہونے چاہئیں۔ کسی بھی ایسی تعیناتی کو روکا جاسکے جس سے ذاتیات کا شائبہ ہو۔ کوئی بھی اپنے پسندیدہ فرد کو کسی عہدے پہ تعینات نہ کرسکے۔ آج کی طرح نہ ہو کہ باپ میدان سیاست میں قومی اسمبلی کا رکن منتخب ہوچکا ہے تو بیٹا بھی مستقبل میں قومی اسمبلی یا صوبائی اسمبلی کا رکن بننے کا اہل بن گیا ہے یا کوئی بڑا عہدہ لینے کا اہل ہے یا جو شخص انتخابات پہ زیادہ پیسہ خرچ کرسکے اور ذرائع ابلاغ پہ زیادہ اشتہارات چلاسکے،وہ اتنا ہی زیادہ بڑا سیاست دان ہے۔ خواہ قانون سازی یا امورحکومت کی سمجھ بوجھ نہ ہو۔ کوئی بھی امور سلطنت میں خواہشات کی حکمرانی نہ لا سکے۔ کوئی ذاتی مقاصد نہ پورے کرسکے۔ اسلام کے اصول و ضوابط کے مطابق امور ریاست کو چلایا جانا یقینی بنایا جائے۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!