مال تقسیم کرنے کے مراکز ۔۔۔ الخان المفتوحہ

بازار میں مال آنے سے پہلے یہ گوداموں اور تھوک فروشی کے مراکز میں بھی آسکتا ہے۔ خلافتِ عثمانیہ میں مال تقسیم کرنے کیلئے الگ مراکز قائم کیے گئے، جہاں پر مقامی اور بین الاقوامی مال آتا تھا اور وہاں سے پھر بازاروں میں تقسیم ہوتا تھا۔ ان مراکز کو عربی میں "خان”کہا جاتا تھا۔ فارسی زبان میں اُسے "کاروان سرائے” کہا جاتا تھا۔ صنعتوں اور آزاد بازار کی طرح ان مراکز کیلئے بھی جگہ حکومت مختص کرتی ہے اور انتہائی سستے داموں فروخت کرتی ہے یا بہت معمولی سا ماہانہ کرایہ، تزئین و آرائش اور اخراجات کی مد میں وصول کیا جاتا ہے۔ لیکن سرمایہ دارانہ نظام نے ان کے وجود کو بھی بہت شدید نقصان پہنچایا۔

سرمایہ دارانہ نظام میں اشیاء کی خرید و فروخت پر چند سرمایہ داروں کا قبضہ ہوتا ہے۔ مثلاً برطانیہ میں تقریباً 70% اشیاء خوردو نوش پہ صرف پانچ بڑی کمپنیوں کا قبضہ ہے۔ جو ہر چیز پر اجارہ داری قائم کرکے اشیاء کی قیمتوں میں آسانی سے اضافہ کر سکتی ہیں۔

بڑے بڑے سٹور کارخانوں کی سارے سال کی پیداوار پہلے ہی خرید لیتے ہیں اور پھر سارا سال اپنی مرضی کی قیمت پہ بازاروں میں بیچتے ہیں۔ اس سے تھوک فروشی کے تجارتی مراکز ان ممالک میں ختم ہوگئے ہیں۔ پاکستان میں بھی اس جانب تیزی سے رحجان جارہا ہے۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!