فی ایٹ کرنسی، کاغذی کرنسی کی اصل کہانی

امریکا کی سول وار 1862ءکے دوران حکومت نے ایسی کاغذی کرنسی جاری کی جس کی پشت نہ سونا تھا نہ چاندی۔ یہ "گرین بیک” کہلاتی تھی۔

امریکہ کی گرین بیک کرنسی

یورپی بینکاروں نے سخت مضطرب ہوتے ہوئے اپنے امریکی بینکار دوستوں کو Hazard Circular نامی مراسلے میں لکھا کہ "حکومتی بونڈز کو بینکاری کی بنیاد بنانا چاہیے اور کسی بھی صورت میں گرین بیک کو بطور کرنسی زیر گردش نہیں ہونا چاہیے کیونکہ ہم اسے کنٹرول نہیں کر سکتے”۔

جرمنی میں جب 1933ء میں نازی پارٹی الیکشن جیت کر حکومت میں آئی تو جرمنی کی معیشت بالکل تباہ و برباد ہو چکی تھی۔ 60 لاکھ لوگ بے روزگار تھے۔ پہلی جنگ عظیم میں شکست کے بعد جرمنی کو بھاری تاوان جنگ ادا کرنا پڑ رہا تھا۔ بیرونی سرمایہ کاری کے امکانات صفر تھے۔ صرف چند سالوں میں سوا دو لاکھ افراد خودکشی کر چکے تھے۔ صورت حال کچھ ایسی تھی کہ ہر جرمن فرد پر 6000 مارک کا قرضہ تھا۔ 1935ء سے ہٹلر نے نجی بینکوں سے قرض لینے کی بجائے حکومت کی جانب سے خود کرنسی چھاپنی شروع کر دی۔ ہٹلر کی یہ کرنسی "میفوبل”  MEFO Bill کہلاتی تھی۔ 1945ء تک جرمنی ایسی کرنسی چھاپتا رہا، جس کی پشت پر نہ کوئی سونا تھا نہ کوئی قرض۔ اس وقت بھی امریکہ اور دوسرے یورپی ممالک میں لاکھوں لوگ بے روزگار تھے، جرمنی میں بے روزگاری ختم ہو چکی تھی۔ معیشت مضبوط ہو چکی تھی۔

بغیر سونے چاندی کے ایک مخصوص علاقے یا ملک تک کرنسی کامیاب ہونے کا ثبوت ملتا ہے لیکن عالمی سطح پہ ایک ایسا مالیاتی نظام نافذکردیاگیا کہ جس کا کوئی قانون قاعدہ نہ تھا۔ 1971ء نکسن دھچکا یعنی بریٹن ووڈ معاہدہ توڑنے  کے بعد محض 27 سال کے قلیل عرصے میں ہارڈ کرنسی کا دور تقریبا ختم ہو گیا اور دنیا "زر فرمان یعنی فی ایٹ کاغذی کرنسی” کے دور میں داخل ہوگئی۔ یعنی ایسی کرنسی جس کے پیچھے نہ سونا تھا، نہ کوئی اور دھات، بلکہ ایک بےوقعت رسید۔ جس کو چار صدیوں کی بے ایمان کوششوں کے بعد نافذ کیا جاسکا تھا۔ "فی ایٹ کرنسی کو کوئی قانونی وضاحت بھی نہیں دی جاسکتی بلکہ صرف الفاظ، رواج اور جبر کے زور پہ قائم کرنسی ہے۔ ماہر معاشیات Ludwig von Mises اپنی تصنیف Beware the Alchemists "دولت بنانے والوں سے ہوشیار” میں لکھتا ہے کہ "تین صدیوں میں حکومتیں کاغذ کے ٹکڑے کو کرنسی باور کرانے میں کامیاب ہو چکی ہیں اور یہی مہنگائی کی اصل وجہ ہے”۔

"1971ء کے بعد دنیا نے اجازت دے دی کہ جتن زر چاہیں اتنا چھاپہ خانہ سے بنا لیں۔ یہ ایک مکمل فراڈ تھا”

دنیا بھر کی کانیں اتنی دولت پیدا نہیں کرتیں، جتنی مرکزی بینک چھاپ لیتے ہیں۔ کاغذ چھاپنے والے بینک کاغذی کرنسی کے ذریعے دنیا کے سب سے بڑے سرمایہ کار بن چکے ہیں اور وہ جو چاہتے ہیں کاغذ سے خرید لیتے ہیں۔ کرنسی چھاپنے والا ایک عجیب و غریب صلاحیت کا مالک بن جاتا ہے۔ وہ مارکیٹ سے کوئی بھی چیز خرید کر آدھی قیمت میں فروخت کر سکتا ہے کیونکہ وہ اپنا نقصان کو نوٹ چھاپ کر پورا کر سکتا ہے۔ دنیا میں کوئی اور یہ کام نہیں کر سکتا۔ اس طرح وہ مارکیٹ میں کسی بھی چیز کی قیمت گرا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تیسری دنیا کی پیداوار کی قیمت گرتی جا رہی ہے اور اسی نسبت سے  کیپٹلسٹ ممالک کی پیداوار مہنگی سے مہنگی تر ہوتی جا رہی ہیں۔ جب تک کرنسی سونے چاندی کے سکوں پر مشتمل ہوا کرتی تھی تب تک یہ ممکن نہ تھا۔کرنسی تخلیق کرنے والا اسٹاک مارکیٹ میں کسی بھی شیئر کی قیمت گرا بھی سکتا ہے اور بڑھا بھی سکتا ہے۔ کیونکہ وہ گھاٹے کا سودا بھی باآسانی کر سکتا ہے۔ کاغذی کرنسی یا ڈیجیٹل کرنسی کے نظام میں "آزاد منڈی کا معاشی نظام” ممکن نہیں۔

نوٹ چھاپنا دراصل جعلسازی ہے اور اس کا شکار عوام اس خوش فہمی میں مبتلا رہتے ہیں کہ وہ مزید امیر ہو رہے ہیں۔ روتھسچائلڈ نے 1838ء میں کہا تھا کہ"مجھے کسی ملک کی کرنسی کنٹرول کرنے دو۔ پھر مجھے پروا نہیں کہ قانون کون بناتا ہے”۔ 1927ء میں بینک آف برطانیہ کے گورنر جوسیہ سٹیمپ ( جو انگلستان کا دوسرا امیر ترین فرد تھا ) نے کہا تھا کہ "جدید بینکاری نظام بغیر کسی خرچ کے رقم، کاغذی کرنسی بناتا ہے۔ یہ غالباً آج تک بنائی گئی سب سے بڑی شعبدہ بازی ہے۔ بینک مالکان پوری دنیا کے مالک ہیں۔ اگر یہ دنیا ان سے چھن بھی جائے لیکن ان کے پاس کرنسی بنانے کا اختیار باقی رہے تو وہ ایک جنبش قلم سے اتنی کرنسی بنا لیں گے کہ دوبارہ دنیا خرید لیں۔ اگر تم چاہتے ہو کہ بینک مالکان کی غلامی کرتے رہو اور اپنی غلامی کی قیمت بھی ادا کرتے رہو تو بینک مالکان کو کرنسی بنانے دو اور قرضے کنٹرول کرنے دو”۔

میں جب امریکہ نے تیزی سے سکڑتے ہوئے سونے کے ذخائر کو بچانے کیلئے خود ہی بریٹن ووڈز کا یہ معاہدہ توڑا تو اسے چند دوسری بڑی کرنسیوں کو بھی اپنی حکمرانی میں شریک کرنا پڑا۔ بریٹن ووڈز کا معاہدہ توڑنے سے پہلے امریکا نےان  چھ بڑے صنعتی ملکوں سے یہ وعدہ لیا تھا کہ یہ ممالک بیرونی ممالک سے سونا نہیں خریدیں گے تاکہ سونے کی قیمتوں کو بڑھنے سے روکا جا سکے۔ اس طرح “SDR” وجود میں آیا۔ جس نے کرنسی کے ذریعے ہونی والی عالمی لوٹ کھسوٹ میں بڑے کھلاڑیوں کا حصہ طے کر دیا۔ اس کے بعد ان ممالک نے حکومتی سطح پر سونا خریدنا بند کر دیا۔ اس طرح دنیا بھر کی حاکمیت، اقوام متحدہ کے ساتھ ساتھ کاغذی کرنسی اور تیل کے ذریعے بھی ان ممالک کے پاس چلی گئی، جس کا مرکز امریکہ بنا۔  SDR حکومتوں کی سطح پر استعمال ہوتی ہے مگر عوام کی سطح پربالکل استعمال نہیں ہوتی۔ SDR کی لین دین آئی ایم ایف میں خفیہ طریقے سے انجام پاتی ہے۔ آئی ایم ایف/ عالمی مالیاتی فنڈ کے ادارے میں امریکہ وہ واحد ملک ہے، جس کے پاس ویٹو کا اختیار ہے۔ آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور ڈبلیو ٹی او (WTO) جیسے عالمی مالیاتی ادارے بریٹن ووڈز سسٹم کو چلانے کیلئے بنائے گئے تھے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ بریٹن ووڈز کا معاہدہ ٹوٹنے کے بعد ان اداروں کو بھی توڑ دیا جاتا۔ مگر تیسری دنیا کا خون چوسنے والے یہ نجی ادارے روزبروز طاقتور ہوتے چلے گئے۔

کرنسیوں کا سونے سے ربط توڑنے کے بعد ستمبر 1976ء میں  "جمیکا معاہدے”میں یہ طے پایا کہ سونے کا تعلق کرنسی یا ایس ڈی آر سے نہیں رکھا جائے گا بلکہ مرکزی بینکوں کے اثاثہ جات ہوں گے۔ جبکہ ڈالر کے ساتھ کرنسی کے تبادلے کا تناسب آئی ایم ایف، ورلڈ بینک کے مطابق ہر ملک کی "اقتصادی/معاشی حیثیت good will” ہوگی۔  مرکزی بینکوں کے اثاثوں، ملکی وسائل، ملکی آمدنی، معاشی ساکھ اور "ملکی معیشت کے اعتبار” کی بنیاد پہ کاغذی کرنسی کے تبادلے کا نظام لایا گیا۔ کون سی کرنسی کتنی مضبوط ہے اور کونسی کمزور ہے اب اس  پیمانے کی بنیاد سونا نہیں ہوگا۔

کوئی کرنسی سونے سے منسلک ہو گی، تو آئی-ایم-ایف جیسے عالمی مالیاتی اداروں کیلئے اس کی شرح تبادلہ اپنی مرضی کے مطابق کنٹرول کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ/آئی ایم ایف، ورلڈ بینک جیسے عالمی مالیاتی ادارے، ممالک کو اس بات پر مجبور کرتے ہیں کہ وہ اپنی کرنسی کو سونے سے منسلک نہ کریں بلکہ ڈالر سے منسلک کریں۔ سوئزر لینڈ وہ آخری ملک تھا جس نے 2000ء میں اپنی کاغذی کرنسی کا سونے سے ناتا توڑا۔

کاغذی نوٹوں کی صورت میں پہلے سونے اور چاندی کی رسیدیں ہوا کرتی تھیں۔ پھر ساری دنیا کے کاغذی کرنسی کے پیچھے ڈالر رکھا گیا اور ڈالر کے پیچھے سونا رکھا گیا اور 1971ء میں ڈالر کے پیچھے سے سونا ہٹا دیا گیا۔ اب کسی ملک کی کاغذی کرنسی اس ملک کی ساری معیشت کی نمائندگی کرتی ہےاور اس کی معاشی حالت ہی اس کی کرنسی کی شرح تبادلہ کا تعین کرتی ہے۔ لیکن اس سب کے باوجود موجودہ کاغذی کرنسی، رسیدہی ہے، آپ کے ملک کی مختلف اشیاء اور خدمات کی۔ اگر آپ ایک ہزار کا نوٹ پاکستان کے مرکزی بینک کے پاس لے جائے تو وہ آپ کو براہ راست سونا فراہم نہیں کرے گا بلکہ آپ سے کہے گا کہ یہ ہماری ملک میں پڑے مختلف اشیاء کی نمائندگی کرتاہے، آپ بازار جا کر اس سے سونا خریدیں یا ضرورت کی کوئی دوسری شے۔ لہٰذا اب بھی یہ رسیدیں ہی ہیں، مال نہیں۔

سونے چاندی کے سکوں پہ اعتبار کے باوجود ان کی  طلب و رسد اور منڈیوں میں قبولیت کے لحاظ سے دنیا میں طاقتور ترین فوجی طاقت کا سکہ زیادہ مقبول رہا۔ جبکہ جنگوں کے باوجود بھی سکے اپنی اصل نہیں کھوتے اور نہ ہی ان کی قیمت میں کمی واقعہ ہوتی ہے۔ جبکہ کاغذی کرنسی کی اپنی کوئی قیمت نہیں ہے بلکہ یہ حکومت کی سرپرستی کی وجہ سے وہ قدر رکھتی ہے جو اس پر لکھی ہوتی ہے۔کاغذی کرنسی زرِ فرمان یعنی "فی ایٹ- fiat "کرنسی پہ جیسے ہی حکومتی سرپرستی ختم ہوتی ہے یہ کاغذ کے ڈھیر میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ بنگلہ دیش کے قیام کے وقت وہاں پاکستانی کرنسی رائج تھی جو اپنی قدر کھو گئی۔ اسی طرح صدام حسین کے ہاتھوں سقوط کوِیت کے بعد کویتی دینار کی قدر آسمان سے زمین پر آ گئی تھی۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ ہر کاغذی کرنسی کے پیچھے ایک فوجی طاقت کتنی ضروری ہے۔  8 نومبر 2016ء کو نریندر مودی کے بھارت میں 500 اور 1000 کے نوٹوں کے اسقاط زر کے اعلان سے بھارت میں زیر گردش 86 فیصد کرنسی محض چند گھنٹوں میں کاغذی ردی میں تبدیل ہو گئی تھی۔ اگر ہندوستان کی کرنسی ماضی کی طرح سونے چاندی کے سکوں پر مشتمل ہوتی تو عوام اپنی ہی حکومت کے ہاتھوں یوں ذلیل و خوار نہ ہوتے۔ بڑا ملک اور بڑی معیشت ہونے کی وجہ سے آج بھی بھارت کا کاغذی روپیہ نیپال اور بھوٹان میں چلتا ہے۔ صرف مضبوط فوجی طاقت کاغذی کرنسی کو مستحکم کرتی ہے۔ لیکن نیپال اور بھوٹان کی کرنسی بھارت میں نہیں چلتی۔

کوشش کی جارہی ہے کہ سونا، چاندی، جائیدادیں، کارخانے مرکزی بینکوں کے پاس رہن کے طور پہ رہیں اور ایک کاغذ کا ٹکڑا ان کے عوض سونے یا چاندی کے سکے کا کام کرے تو یہ ممکن نہیں ۔ اس کی مثال ایسے ہی ہے کہ جیسے کوئی شخص اپنی جائیداد سونے کے سکے کے عوض  بیچے اور سونے کا سکہ چھپا دے یا زمین میں دفن کردے اور کہے کہ میرے پاس سونے کا سکے ہیں، یہ اس کی رسید ہے  اور رسید استعمال کرکے اپنے حالات سدھارنا چاہے۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!