فیڈرل ریزرو بینک اور امریکہ

دنیا کے بیشتر ممالک میں وہاں کی کرنسی، وہیں کی حکومت جاری کرتی ہے۔ جیسا کہ پاکستان میں سٹیٹ بینک ہی کاغذی نوٹ جاری کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔  مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ دنیا بھر کی معیشت کی مرکز نگاہ کرنسی، امریکی ڈالر امریکی حکومت جاری نہیں کرتی۔ فیڈرل ریزرو بینک کو عام طور پر حکومتی ادارہ سمجھا جاتا ہے جبکہ حقیقتاً یہ ایک نجی ادارہ ہے جو کاغذی ڈالر چھاپ کر حکومت امریکہ کو نہ صرف قرض پہ دیتا ہے بلکہ اس قرض پہ سود بھی وصول کرتا ہے۔ یہودیوں کا یہ ادارہ امریکی حکومت پر حکومت کرتا ہے۔ اس ادارے کے پس پردہ یہودی روتھشیلڈ خاندان کی دولت کا اندازہ پانچ ہزار ارب ڈالر لگایا جاتاہے۔ جبکہ دنیا کے امیر ترین سمجھے جانے والے شخص بل گیٹس کی دولت چالیس ارب ڈالر ہے۔

فیڈرل ریزرو بینک کے پاس موجود 8133.5 ٹن سونے کی کل مالیت 291.3 ارب ڈالر ہے (30 ستمبر 2015 کی قیمت)۔ جبکہ اس وقت صرف چین کے عوام کے پاس 1850 ارب ڈالر کی مساوی رقم بینکوں میں جمع ہو چکی ہے۔ اگر چینی عوام اپنی بچت کا صرف پانچواں حصہ سونے کی شکل میں محفوظ کرنے کا فیصلہ کریں تو امریکہ اور برطانیہ کے مرکزی بینک بالکل کنگال ہو جائیں گے۔

فیڈرل ریزرو بینک کے پاس موجود سونے کی پچھلی ایک دہائی سے کوئی قابل اعتبار جانچ پڑتال بھی نہیں ہوئی ہے۔ اس میں سے 7,715 ٹن فورٹ ناکس میں رکھا ہوا ہے اور 418 ٹن نیویارک کے فیڈرل ریزرو بینک میں موجود ہے۔ یہ بھی واضح نہیں ہے کہ اس سونے کے مالکان کون کون ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ نیویارک کے فیڈرل ریزرو بینک میں موجود 5890 ٹن سونے میں سے 93 فیصد سونا غیر ملکیوں کا ہے۔ جرمنی کا 1500 ٹن سونا فیڈرل ریزرو بینک کے پاس بطور امانت رکھا ہوا ہے جسے اب فیڈرل ریزرو بینک واپس کرنے پر آمادہ نہیں۔اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ چین کا بھی کم از کم 600 ٹن سونا فیڈرل ریزرو بینک کے پاس محفوظ ہے۔ کیونکہ فیڈرل ریزرو بینک بڑی مقدار میں سونا رکھوانے والوں سے کوئی فیس نہیں لیتا لیکن بعد میں انہیں اپنے سونے کی پڑتال کی اجازت بھی نہیں دیتا۔ اسی طرح بینک آف برطانیہ کے 5130 ٹن سونے کا صرف 6 فیصد برطانوی حکومت کی ملکیت ہے۔ برطانیہ میں پاکستان اور بھارت کا تقسیم ہند کےوقت کا سونا بھی موجود ہے۔

عالمی معاشی بحران کی شدت کے باعث 2007ء  کے بعد امریکہ نے بڑی مالیاتی اداروں کو سنبھالا دینے کیلئے فیڈرل ریزرو بینک سے ہی اتنا زیادہ قرض لیا کہ اس کے بعد فیڈرل ریزرو بینک نے آج تک سونے کے ذخائر کے اعداد و شمار جاری نہیں کئے۔ شبہ کیا جاتا ہے کہ اب مرکزی بینکوں کے پاس اب اتنا سونا نہیں بچا ہے جتنا کہ وہ دعویٰ کرتے ہیں۔ فیڈرل ریزرو بینک پہلے تو ہر سال ایسے اعداد و شمار جاری کرتا تھا جس سے پتہ چل سکے کہ اس نے کتنے ڈالر چھاپے ہیں۔ اگرچہ کہ یہ اعداد و شمار کبھی بھی شک و شبہ سے بالاتر نہیں رہے لیکن اب اس ادارے نے اعداد و شمار جاری کرنے سے ہی صاف انکار کر دیا ہے۔ دوسرے الفاظ میں ہماری مرضی ہم جتنے چاہیں ڈالر چھاپیں۔ تم کون ہوتے ہو پوچھنے والے؟۔۔۔ 2007 کے بعد جب فیڈرل ریزرو بینک کے اکاؤنٹ سے 9000 ارب ڈالر غائب ہوئے تو امریکی حکومت کوئی تفتیش نہ کر سکی۔ فیڈرل ریزرو بینک کا کہنا ہے کہ اب اس کے پاس جمع شدہ سونے کی مالیت کے اعتبار سے ڈالر چھاپنے کی ضرورت نہیں رہی بلکہ وہ اقتصادی سرگرمی کے لحاظ سے ڈالر چھاپ رہا ہے۔ اس لئے فیڈرل ریزرو بینک کے بارے میں اب کہا جاتا ہے کہ" ڈالر چھاپنے کی کوئی حد نہیں ہے۔ قرضے جاری کرنے کی کوئی حد نہیں ہے"۔

"جتنا امریکہ قرض لیتا ہے اتنی بچت تو پوری دنیا میں نہیں ہوتی۔ امریکی حکومت کبھی بھی یہ قرض ادا نہیں کر سکتی کیونکہ قرض کبھی مزید قرض سے ادا نہیں ہوتا”

2017ء میں امریکا کے اوپر جو قرض ہے اس کا سود 263 ارب ڈالر رہا۔یہ رقم امریکہ کے تمام اخراجات کے 6.6 فیصد ہے اور ان کی جی ڈی پی کا 1.4 فیصد ہے۔ یہ پچھلے پچاس سال میں سب سے زیادہ اوسط ہے۔  کانگرس کے بجٹ آفس کے اندازوں کے مطابق امریکا کے حکومت کا سود کا خرچہ آج سے دس سال بعد 915 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گا۔ یہ امریکی حکومت کے تمام اخراجات کا 13 فیصد اور امریکی جی ڈی پی کا 3.1 فیصد ہو گا۔  اس کا مطلب ہے کہ 2028 تک پہنچتے پہنچتے 2020 میں امریکا صحت سے زیادہ خرچہ سود پر کرے گا۔ 2023 میں دفاع سے زیادہ خرچہ سود پر کرے گا۔ 2025 میں دفاع کو چھوڑ کر باقی تمام اخراجات سے مشترکہ طور پر بھی زیادہ خرچہ سود پر کرے گا۔ یعنی پارکوں سے لیکر سائنسی ریسرچ تک صحت سے لے کر تعلیم تک عدالتوں سے لےکر بنیادی ڈھانچے تک ہر چیز کے مشترکہ خرچے سے زیادہ خرچہ سود پر ہوگا۔ستمبر 2017ء تک پچھلے 88 سالوں میں امریکی حکومت پر قرضوں میں 1200 گنا اضافہ ہوا۔امریکی حکومت پر کل بیرونی  قرض لگ بھگ 22،000 ارب ڈالرسے زیادہ ہو چکے ہیں۔ اگر امریکہ کے اندرونی قرضے (جیسے میڈیک ایڈ، میڈیکیئر، سوشل سیکیورٹی) بھی شامل کئے جائیں توکل  قرض 62،000 ارب ڈالر سے تجاوز کر جاتا ہے۔ جو عوام نے محنت کرکے اور کما کر ٹیکس کی صورت میں ادا کرنے ہیں۔ امریکی حکومت نے 2013ء میں اپنے اس سارے قرضوں پر 2.4 فیصد سود 416 ارب ڈالر عوام سے بطور اضافی ٹیکس وصول کر کے فیڈرل ریزرو بینک کے مالکان کو ادا کیا۔ جبکہ اسی سال دفاع کا بجٹ 640 ارب ڈالر تھا۔ یہ صرف نوٹ چھاپنے کا معاوضہ ہےفیڈرل ریزرو بینک کو دیا گیا۔ اگر مرکزی بینک سرکاری ملکیت میں ہوں تو عوام اس اضافی ٹیکس سے کسی حد تک بچ سکتے ہیں۔  جو امریکہ دنیا کو قرض دینا چاہ رہا ہے اس کی اپنی یہ حالت ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر فیڈرل ریزرو بینک یہ ساری رقم چھاپ سکتا ہے تو امریکی حکومت خود کیوں نہیں چھاپ لیتی؟۔۔۔ اگر حکومت خود چھاپے تو نہ قرض ادا کرنا پڑے گا نہ سود دینا پڑے۔ اس کی وجہ سو سال پرانا بنایا گیا ایک غلط قانون ہے جس کے مطابق صرف فیڈرل ریزرو بینک کو کرنسی چھاپنے کا اختیار دیا گیا ہے اور جو کوئی بھی اس قانون کی منسوخی کی بات کرتا ہے اسے ہمیشہ کیلئے خاموش کرا دیا جاتا ہے۔

امریکہ کے سولہویں صدر ابراہم لنکن نے 21 نومبر 1864 کو اپنے ایک خط میں پیشنگوئی کی تھی۔"میں دیکھ رہا ہوں کہ عنقریب ایک بڑا بحران آنے والا ہے جو مجھے پریشان کر دیتا ہے اور میں اپنے ملک کی حفاظت کے خیال سے لرزنے لگتا ہوں۔ کارپوریشنوں کو بادشاہت مل گئی ہے اور اعلیٰ سطح پر کرپشن آنے والی ہے۔ اور دولت کی طاقت یعنی رشوت لوگوں کی سوچ پرحاوی ہو کر اپنا راج جاری رکھنے کی پوری کوشش کرے گی یہاں تک کہ ساری دولت چند ہاتھوں میں سمٹ جائے اورجمہوریت تباہ ہو جائے”۔ چند ہی مہینوں بعد 1865 میں ابراہم لنکن کو گولی مار دی گئی۔ در حقیقت صدر کینیڈی نے فیڈرل ریزرو بینک کی اس اجارہ داری کو محسوس کر کے اس کے خلاف اقدام اٹھانے کی کوشش کی تھی۔ اس نے 4 جون 1963 کو ایک فرمان جاری کیا تھا جس کے مطابق امریکی حکومت اپنے پاس موجود چاندی کے عوض خود امریکی ڈالر چھاپہ کرے گی۔ امریکہ کے ڈالر چھاپنے والے نجی ادارے، فیڈرل ریزرو بینک کے کرتا دھرتاؤں نے فوراً خطرہ بھانپ لیا اور 22 نومبر 1963 کو صدر کینڈی کو اس جسارت پر قتل کروا دیا گیا۔ قتل سے صرف چھ دن پہلے صدر کینیڈی نے محکمہ خزانہ کو امریکی ڈالر چھاپنے کاحکم دیا تھا۔ اسوقت پاکستانی نوٹوں کی طرح امریکی ڈالر پر بھی ادائیگی کا وعدہ لکھا ہوتا تھا۔ صدر کینیڈی کے قتل کے صرف چار دن بعد فیڈرل ریزرو بینک نے جو نوٹ جاری کیے ان پر ایسا کوئی وعدہ نہ تھا۔ صدر کینیڈی کے قاتل کو جیک روبی نے سرعام قتل کر دیا اور بعد میں خود جیل میں بیمار ہو کر مرگیایا شائد زہر دے دیا گیا۔ صدر کینیڈی کا وہ فرمان 9 ستمبر 1987 تک قانون کا حصہ رہا مگر اس پر عمل نہ ہوا۔ اس کے بعد صدر رونالڈ ریگن نے اسے منسوخ کر دیا۔ صدر کینیڈی کے قتل سے لگ بھگ سو سال پہلے مقبول امریکی صدر ابراہم لنکن کو 14 اپریل 1865 کو بھی اسی وجہ سے گولی مار دی گئی تھی کہ اس نے کاغذی نوٹ چھاپنے کا اختیار نجی بینکوں سے لیکر حکومت کے محکمہ خزانہ کو دے دیا تھا۔

جولائی  2006ء کے ایک جریدہ وسہل بلور میں عالمی معیشت دانوں نے ڈالر جاری کرنے والے امریکی مرکزی بینک، فیڈرل ریزرو بینک کو"دنیا کا سب سے بڑا دھوکہ” قرار دیا ہے۔نوبل انعام یافتہ امریکی ماہر معاشیات ملٹن فریڈمین کا کہنا تھا کہ "آج کا ناقابل حل معاشی مسئلہ یہ ہے کہ فیڈرل ریزرو بینک سے کیسے جان چھڑائی جائے؟۔۔۔”۔ عالمی معیشت دانوں کا کہنا ہے کہ " جس دن کوئی مرکزی بینک ڈالر کو سہارا دینا بند کر دے گا اس دن سارا پول کھل جائے گا"۔ ڈالر نے 60فیصد دنیاوی وسائل، 80فیصد عالمی ادائیگیوں اور تقریبا 100 فیصد تیل کی عالمی تجارت پہ قبضہ جما رکھا ہے۔ امریکہ کی فوجی دھونس کے ساتھ ساتھ، امریکہ کی تمام بدمعاشی عالمی مالیاتی اداروں اور ڈالر کی وجہ سے  برقرار ہے۔

"معاشی مشکلات کسی ملک کوکمزور اور غیرمستحکم بھی کر سکتی ہیں اور اس کی سیاست کو تباہ بھی کر سکتی ہیں اور کسی بھی ملک کی کرنسی پر حملہ کر کے ایسا بحران پیدا کیا جا سکتا ہے”

امریکی حکومت کسی بھی بین الاقوامی بینک کو بلیک میل کر سکتی ہے تاکہ وہ امریکی حکومت کے احکامات مانے کیونکہ امریکہ میں بینکنگ کی اجازت کا لائسنس منسوخ کرنا یا امریکی ڈالر میں کاروبار سے روکنا اس بینک کو دیوالیہ کر سکتا ہے۔ جس کے پاس یہ طاقت ہو کہ وہ بڑے ممالک کے بڑے بینکوں کو کنگال کر سکے، وہ ان بڑے ممالک کی حکومت پر بھی حاکمیت رکھتا ہے۔ FATCA (Foreign Account Tax Compliance Act) وہ قانون ہے، جو دنیا بھر کے بینکوں کو امریکہ کا مالیاتی جاسوس بنا دیتا ہے۔ چونکہ امریکہ خود اپنے بینکوں کو اس قانون سے آزاد قرار دیتا ہے اس لیے دنیا بھر کا کالا دھن (بلیک منی) اب صرف امریکہ میں چھپانا ممکن رہ گیا ہے۔  اس لئے امریکہ میں، سرمایہ کاروں کیلئے منافع کے زیادہ امکانات موجود ہیں۔

مالیاتی حاکمیت کی جنگ عروج پہ ہے اور ڈالر اپنی آخری سانسیں لے رہا ہے۔ لیکن آج تک بین الاقوامی لین دین پر ڈالر کا قبضہ ہے۔ ڈالر میں لین دین کی مالیت تقریباً 5.4 ٹریلین ڈالر  یومیہ ہے اور غیر ملکی زرمبادلہ کے یومیہ لین دین  میں ڈالر کا حصہ 84.9 فیصدہے۔ امریکہ ڈالر کو نہ صرف کسی بھی  ملک کے خلاف ہتھیار کے طور پراستعمال کر سکتا ہےبلکہ دیگر ممالک کو بھی اس ملک کے ساتھ تجارتی  تعلقات نہ رکھنے کیلئے مجبور کرسکتا ہے۔ امریکہ اس  کاروائی کو SWIFT (The Society for Worldwide Interbank Financial Telecommunication) کے نظام کے ذریعہ انجام دیتا ہے۔  سوفٹ دراصل  ڈالر کے بندوبست و تصفیہ کا سسٹم  ہےچونکہ ڈالر ایک گلوبل  ریزرو کرنسی ہے لہذا SWIFT سسٹم ڈالر کے اس  عالمی نظام کی سہولت کاری کو انجام دیتا ہے۔ دنیا بھر کے ممالک  اسی نظام کے ذریعے اپنا لین دین کرنے پہ مجبور ہیں اور یہ  نظام  اس بات  کو یقینی بناتا ہے کہ کسی بھی  دو فریقین کے مابین  ہونے والےسارے تجارتی  لین صرف ڈالر میں  ہی انجام پائیں اور امریکہ اس سسٹم کے ذریعہ کسی بھی ملک پر زبردست معاشی پابندیاں عائد کرسکتا ہے۔اسی نظام کےذریعہ امریکہ نے2014ءاور 2015ءکے درمیان روسی بنکوں پر پابندی عائد کررکھی تھی، جب ان دونوں ممالک کے آپسی  تعلقات میں کشیدگی  بڑھی ہوئی تھی اورنومبر 2018میں امریکہ نے اسی SWIFT سسٹم کے ذریعہ ایران پر مزید سخت  معاشی پابندیاں عائد کیں اور کئی یورپی ممالک نے امریکہ کے خوف سے ایران کے ساتھ اپنے تجارتی معاہدات کو نبھانے سے انکار کردیا تھا۔

ہنگری نے تین ٹن سونا امریکہ سے واپس لے لیا۔ جرمنی کے بنڈس بینک نے نیویارک اور پیرس میں پڑے ہوئے 28 ارب ڈالر کے سونے کے ذخائر واپس لئے۔ وینزویلا نے 2012ء میں اپنا سونا امریکہ سے منگوایا جس پر اس کے صدر ہوگوشاویز کی امریکہ سے ٹھن گئی۔ ہالینڈ نے 2014ء میں امریکہ سے 121.5 ٹن سونا  واپس منگوا لیا۔ جرمنی نے بحیثیت ایک ملک 2017ء میں 300 میٹرک ٹن سونا واپس لیا۔ امریکی ڈالر اور امریکی خزانے کو تازہ جھٹکا اس وقت لگا جب اس کے نیٹو اتحادی اور ایک سو سال سے حلیف ترکی نے امریکی بینکوں میں پڑا ہوا 220 ٹن سونا واپس منگوایا۔ جس کی مالیت 125.3 ارب ڈالر تھی۔ غصے سے پاگل امریکہ نے ترکی کی کرنسی لیرا کو گرانے اور اقتصادی طور پر تباہ کرنے کیلئے ترکی کے مال پر ٹیکس بڑھا دیئے۔ جواب میں ترکی نے امریکہ کی تمام الیکٹرانکس،بشمول موبائل، کمپیوٹر سب پر پابندی لگا دی، امریکی مشروبات پر 140 فیصد اور امریکی کاروں پر 120 فیصد ڈیوٹی لگا دی۔ تیل کے ممالک میں سے قطر نے ترکی میں 15 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کرکے برادر اسلامی ملک ہونے کاثبوت دیا۔

امریکہ دنیا کی تاریخ کی پہلی  سلطنت ہے جو فراڈ، بدمعاشی، فوجی دھونس کے ساتھ ساتھ کاغذی کرنسی پر قائم ہے۔  امریکہ کی اس بدمعاشی کے پیچھے فیڈرل ریزرو بینک ہے اور فیڈرل ریزرو بینک کے پیچھے یہودی روتھشیلڈ خاندان ہے۔ ماضی کی کرنسیوں کے برخلاف ڈالر کاغذ کی کرنسی ہے۔ برطانیہ، امریکہ جیسی غیرمسلم ریاستوں کی تاریخ،  لاقانونیت، دھوکہ بازیوں، فراڈوں اور بداعتمادیوں سے بھری پڑی ہیں۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!