فقہ کی تدوین اور نفاذ

اموی دورمیں جب اسلامی حکومت  اپنے کمال پر پہنچ گئی اور اس زمانہ کی معلوم دنیا کا بڑا حصہ سلطنت اسلامیہ کا حصہ بن چکا تھا۔ نئے علاقوں کے فتح ہونے سے نئے نئے مسائل سامنے آرہے تھے، جن کا قرآن و سنت کی روشنی میں جواب دینا، ماہرین کا ہی منصب تھا۔ سب سے پہلے امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا ذہن مسائل کے جوابات مرتب کرنے کی جانب گیا۔ آپ نے یہ کام 40 علماء کے ساتھ مل کرکیا۔ اس دوران تنخواہیں اور دیگر ا خراجات آپ نے اپنی گرہ سے اداکئے اور اس طرح فقہ حنفی مکمل ہوئی۔

امام ابو  حنیفہ کے شاگرد خاص،  امام ابو یوسف کو  خلافت عباسیہ میں دولت اسلامیہ کے پہلے قاضی القضاۃ مقرر ہوئے۔ حنفی علماء نے حکمرانی سے متعلق امور پر دیگر علماء اکرام سے زیادہ اظہار خیال کیا ہے۔ عباسی خلیفہ ہارون الرشید کے امام ابو یوسفؒ، )امام ابو حنیفہؒ کے شاگرد خاص( سے ریاست کے مالیاتی امور کے نظم و نسق سے متعلق سوالات کے جواب میں "کتاب الخراج”  مرتب ہوئی۔اموی دور میں امام ابو یوسف نے حکومت کے محاصل، اس کی آمد و صرف، حکام و عہدیداروں کے حدود اور اختیارات اور غیرمسلم رعایا کے حقوق وغیرہ پر خلیفہ ہارون الرشید کو خطوط لکھے جو کہ بعد ازاں "کتاب الخراج” کے نام سے ایک مکمل کتاب بن گئی۔ اس کتاب کو امور سیاست پہ فقہ کی پہلی کتاب کا درجہ بھی  حاصل ہے۔

عباسی خلیفہ ابو جعفر المنصور نے امام مالک سے کہا کہ  حدیث کی ایک ایسی کتاب مدون کیجئے، جس میں نہ تو عبداللہ بن عمرؓ کے شدائد ہوں، نہ عبداللہ بن مسعود ؓ کے شذوذ اور نہ ہی عبداللہ بن عباسؓ کی رخصتیں۔ اس میں اوسط امور اور وہ باتیں جس میں صحابہ کا اجماع درج کیجئے۔ امام مالک نے فرمایا "فواللہ لقد علمنی  التصنیف یومئذ” یعنی اللہ کی قسم (ابو جعفر المنصورنے) مجھے اسی وقت تصنیف کتاب کا طریقہ سمجھادیا۔ عباسی خلیفہ ابو جعفر المنصور کے کہنے پر امام مالک نے  حدیث نبویﷺ پر مشتمل پہلی مدون کتاب "موطا” کی  تدوین کا آغاز کیا۔ امام مالک نے موطا کی تدوین مکمل کرکے  اپنی کتاب عباسی خلیفہ  ہارون الرشید عباسی کے سامنے پیش کی۔ جس پر خلیفہ نے کتاب کی کافی تعریف کی اور تجویز سامنے رکھی کہ اس کو کعبہ میں لٹکادیا جائے تاکہ تمام بلاداسلامیہ میں اس مجموعہ حدیث کے تحت فقہ اسلامی پر عمل کروایا جاسکے۔ جس پر امام مالک نے  علمی  توسع کے پیش نظر ہارون الرشید کو ایسا کرنے سے منع فرما دیا۔ مغرب میں بھی اموی حکومت کی سرپرستی میں موطا کو مقبولیت ملی اور فقہ مالکی ان ریاستوں کا دستور قرار پائی۔

چار عباسی خلفاء امیر مہدی عباسی، امیر ہارون الرشید عباسی، امیر محمد الامین عباسی اور امیر عبداللہ المامون عباسی نے خود امام مالک سے موطا کی سماعت کی ۔ خلیفہ ہارون الرشید  نے اپنے دونوں فرزند،  الامین اور المامون کے ساتھ موطا کی سماعت کے لئے امام مالک کے پاس خود گیا۔ خلیفہ ہارون الرشید نے جس نسخے سے سماعت کی وہ مصریوں کے خزانے میں محفوظ تھا، اس کی سماعت کے لئے  سلطان صلاح الدین ایوبی نے اسکندریہ کا سفر کیا اور طاہر بن عوف سے اسکی سماعت کی۔ مشرق کے عباسی ہوں یا مغرب کے اموی، سب سیاسی اختلافات کے باوجود ایک دین کے پابند تھے۔ جس طرح عباسیوں نے موطا میں سیدنا مروانؓ اور امیر عبدالملک بن مروان  کے فتاویٰ کو دین کی بابت حجت باور کیا۔ اسی طرح مغرب کے اموی امراء نے  بھی اس کا خیال نہیں کیا کہ موطا کی تدوین عباسیوں کی زیر پرستی اور تجویز کے تحت ہوئی ہے ۔ سیاسی اختلاف اپنی جگہ لیکن بنو امیہ اور بنو عباس میں کوئی علمی تعصب نہیں تھا۔ جس کا ثبوت یہ ہے کہ عباسی خلیفہ ہارون الرشید اس کتاب کو پوری بلاد اسلامیہ کا فقہی ماخذ بنانے کی بات کرتے  ہیں  جس میں امام مالک ؒ نے سیدنا معاویہؓ، سیدنا مروانؓ اور امیر عبدالملک بن مروانؒ  جیسے اموی اساطین کے فتاویٰ او ر تعامل درج کئے ہیں۔

امام شافعی کی مرتب کردہ کتابوں میں  "کتاب الام”  ہے۔ امام شافعی نے اپنی شہرہ آفاق کتاب "الام”  کی جلد ۴ صفحہ ۱۵۸ میں دیوان فاروقی کے سلسلے میں  امیر المومنین سیدنا معاویہؓ کے ساتھ ساتھ  عباسی خلیفہ المہدی عباسی کا تعامل بھی بطور نظیر شرعی درج فرمایا ہے۔ امام شافعی اور امام احمد بن حنبل کی فقہ کو مکمل فروغ اس وقت حاصل ہوا جب عباسی خلفاء نے ان کی سرکاری حیثیت کو تسلیم کیا۔

امیر القادر باللہ عباسی، فقہ شافعی کے ائمہ میں سے تھے اور ساتھ ہی  ایک اور عباسی خلیفہ امیر المسترشد باللہ جو کہ عمدۃ الدنیا و الدین کہلاتے تھے وہ بھی فقہ شافعی کے پیروکار تھے اور ان کے اسی لقب کی مناسبت سے امام ابو بکر الشاشی نے اپنی کتاب "العمدۃ”  تحریر کی تھی۔ ۔ امام شافعی اور امیر ہارون الرشید عباسی کے کافی قریبی تعلقات کا مورخین نے ذکر کیا ہے اور یہ بھی لکھا ہے کہ ہارون الرشید امام مالک کے ساتھ ساتھ امام شافعی کا بھی کافی معتقد تھا۔ خلفاء اور  علماء میں کوئی دوری نہ رہی بلکہ اکثر خلفاء و عمال امور دین کے بھی ماہر ہوتے تھے۔ حجاج بن یوسف کی قرآن فہمی اور ذوق قرآنی تھا کہ قرآن  کی رکوعوں میں تقسیم اور ان پر  حرکات لگوانے کا کام حجاج نے ہی کروایا تھا۔ سلطان محمود غزنوی فقہ میں کافی درک رکھتے تھے اور کئی فقہی مسائل کی تنقیح ان سے ثابت ہے۔ بیشتر خلفا ء و امراء اور سلاطین  عام طور پر اصحاب علم  و فضل تھے جن کی زندگی علم  سیاسیات کے ساتھ علم دوستی میں  بھی گزری۔

بعض خلفاء اور علمائے وقت کے مابین اختلافات اور باہمی نزاعات کے کچھ واقعات بھی ملتے ہیں۔ لیکن فقہی مسائل پہ اختلافات کے واقعات خلفاء کی دین الہی میں دلچسپی کو  ظاہر کرتے ہیں۔ جیسے امام احمد بن حنبل اور خلیفہ مامون عباسی کا اختلاف جس کی پاداش میں امام احمد بن حنبل کو سخت صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں۔ جب خلیفہ جعفر المتوکل علی اللہ عباسی برسراقتدار آئے تو امام احمد بن حنبل  کو صعوبتوں سے مکمل نجات دلوائی اور  ان کا معتقد رہا۔ یہی وجہ رہی کہ مابعد کے ادوار میں آنے والے عباسی خلیفہ  امیر الناصر الدین باللہ اور امیر المستضی باللہ نے حنبلی مذہب اختیار کرکے اپنے عہد حکومت میں  اس کی اشاعت کی۔

چار مشہور فقہ حضرت امام ابو حنیفہ، امام مالک، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل کی ہیں۔ لیکن کچھ مفقود فقہ بھی ہیں جن میں امام اوزاعی،امام داود ظاہری، امام لیث بن سعد اور امام ابن جریر طبری(مشہور مورخ) کی فقہ بھی ہیں ۔جس طرح امام اوزاعی "امام اہل شام” تھے اسی طرح لیث بن سعد "امام اہل مصر” تھے ۔ انہوں نے تقریبا 59 تابعین کو دیکھا تھا، اور ان سے احادیث روایت کیں ۔

امام شافعی کے شاگرد امام بخاری احادیث کو فقہی ترتیب میں "صحیح بخاری” کے نام سے  مرتب کرتے ہیں۔ جبکہ ہمارے ہاں عوام میں صحیح بخاری کو صرف احادیث کی کتاب سمجھاجاتا ہے۔ ابوعبیدبن سلام نے اسلامی مالیات پر "کتاب الاموال” تالیف کی۔ قاضی ابوالحسن ماوردی اور قاضی ابویعلی نے اسلامی حکومت کے دستور اور سیاسی نظام پر "احکام السلطانیہ” لکھی۔ احکام السلطانیہ بلاشک و شبہ ایک بہت ضخیم اور بیش بہا معلومات کا خزانہ ہے۔ ابن قیم جوزی کے نظام عدالت و قضاء پر "الطریق الحکمیہ” تصنیف کی۔ الغرض مختلف شعبوں پہ کتابیں لکھی گئیں۔ ایسے ہی فقہ کی کتابوں میں ان مسائل پر مستقل ابواب ہیں، جن سے بھی اسلامی حکومت کے  نظام کیلئے رہنمائی ملتی ہے۔

فقہ کا مقصد واضح ہے کہ قرآن و سنت کی روشنی میں شعبہ جات کے مطابق احکامات کو ترتیب دینا ہی فقہ کا دائرہ کار ہے اورقرآن و سنت کی روشنی میں انفرادی معاملات سے لیکر حکومتی معاملات تک سب معاملات قرون اولی میں ہی مرتب ہوچکے ہیں۔ اس دور کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ وہ اسلام کی اصل یعنی عہد رسالت مآب اور عہد صحابہ سے قریب ترین تھا ، اس لئے امت مسلمہ میں ان فقہاء کی تحقیق و ترتیب کو ہی ہمیشہ  معتبر گردانا جاتارہا ہے۔

چاروں فقہ مختلف علاقوں یا خطوں میں رواج پاتی گئیں۔ کہیں ریاستی امور کو فقہ مالکی کے مطابق چلایا گیا اور کہیں فقہ حنفی کے مطابق چلایا جانے لگا۔بعد ازاں ریاستی سطح پہ ایک دستور کی ضرورت محسوس کی گئی تو خلافت عثمانیہ میں "مجلہ الاحکام العدلیہ” فقہ حنفی کے تحت دنیا کی پہلی دستوری دستاویز مرتب کی گئی۔ ایسے ہی اورنگزیب عالمگیر نے شیخ نظام الدین برہانپوری کی سربراہی میں چوبیس علماء کی زیر نگرانی، فقہ کی  کتب متون و شروح کی مدد سے امور ریاست میں رہنمائی کیلئے "فتاوی عالمگیری” تیار کروایا۔ یہ دونوں دستور فقہ حنفی کے تحت مرتب ہوئے۔ امور ریاست چلانے کیلئے  بہت سی تاریخی کتب امت مسلمہ کا قیمتی سرمایہ ہیں۔الافاضات الیومیہ ج۴ ص ۲۹۰  میں کسی انگریز کا قول نقل کیا گیا ہے کہ "حنفی مذہب کے بغیرسلطنت چل نہیں سکتی کیونکہ اس قدر وسعت اور مراعات مصالح مذہب میں نہیں پائی جاتیں”۔ اس قول سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ غیرمسلموں نے سائنس ، ریاضی، کیمیا، طبیعات، علم الاجسام و دیگر علوم کے علاوہ فقہ اسلامیہ کی کتب  سے استفادہ کیا ہے۔

اسلامی ریاستوں کیلئے فقہ کی کتب سے ہی تمام ریاستی امور کی انجام دہی کیلئے رہنمائی لی جاتی رہی۔ جید علماءاکرام،امرائے سلطنت اور حکومت کی رہنمائی کرتے تھے۔ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ خلفاء و امراء بھی فتاوی لیکر یا مشورہ کرکے امور ریاست سرانجام دیتے تھے۔ موجودہ دور میں

” فقہ مالکی کے مقلدین کی اکثریت 18 اسلامی ممالک میں ہیں،

  فقہ حنفی کے مقلدین کی اکثریت 15  اسلامی ممالک میں ہیں،

فقہ شافعی کے مقلدین کی اکثریت 9 اسلامی ممالک میں ہے اور

فقہ حنبلی کے مقلدین کی اکثریت 2 اسلامی ممالک میں ہے”

موجودہ دور میں ہر فقہ کے مقلدین دنیا بھر کے تمام ممالک میں پائے جاتے ہیں، لیکن اسلامی نظام حکومت اور اسلامی قوانین و رواجات کی جگہ غیراسلامی قوانین و رواجات کو اپناتی نظر آتی ہیں۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!